اسلامی تشہیر کے مطابق، اللہ تعالیٰ کا علم حد سے زیادہ ہے اور انہوں نے کائنات کو بنانے سے پہلے ہی اس کے بارے میں مکمل علم رکھتے ہیں۔ ان کی مخلوقات کو وجود میں لانے کے لیے صرف ان کی مرضی کا اظہار کافی ہے، جس کا ذکر قرآن مجید میں بار بار کیا گیا ہے جیسا کہ آپ نے بھی ذکر کیا۔

اللہ تعالیٰ کی قدرت کا اظہار کائنات کی تشہیر کے ذریعے ہوتا ہے، جو کہ قرآن مجید میں بھی مکمل طور پر ذکر ہوتا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں کائنات کو ایک اسلامی بات چیت کے طور پر سمجھا جاتا ہے، جس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور عظمت کا اظہار ہے۔

اللہ تعالیٰ کے علم کا وسعت اور ان کی قدرت کی بے نقابی کو سمجھنا انسانی عقل کی حدود سے بہتر ہوتا ہے، اور یہی ایمان کی قوت اور تواضع کا اظہار ہوتا ہے

یہ بات ہم سمجھ چکے ہیں کہ کائنات کا یکجائی پروگرام اللہ تعالیٰ کا علم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جب چاہا کہ اللہ کے علم میں کائنات کے خدوخال جس طرح موجود ہیں ان کا مظاہرہ ہو تو اللہ تعالیٰ نے ” کُن” فرمایا اور کائنات بن گئی۔ جب کائنات بن گئی تو کائنات کو صرف اپنے وجود کا علم تھا۔

کائنات کے افراد یہ نہیں جانتے تھے کہ وہ کون ہیں، کیوں ہیں اور ان کو تخلیق کرنے والی ہستی کون ہے؟ اس جمود کو توڑنے کے لئے اللہ تعالیٰ خود کائنات کے سامنے آ گئے اور کہا میں ہوں تمہارا رب۔ کائنات کے افراد کو سب سے پہلے جس چیز کا علم ہوا وہ اللہ تعالیٰ کی آواز تھی۔ کائنات جب اس آواز کی طرف متوجہ ہوئی تو اس نے دیکھا ایک ہستی ہے جو رب کی حیثیت سے اپنا تعارف کرا رہی ہے۔ یعنی ایک ایسی ہستی جس نے تمہیں پیدا کیا تمہیں علم بخشا تمہیں سماعت اور نگاہ منتقل کی اور تمہارے لئے وسائل پیدا کئے۔

جب ہم انسان کا تذکرہ اس وقت کے حالات میں کرتے ہیں جب اسے سماعت اور نگاہ منتقل نہیں ہوئی تھی تو ہم اسے صرف احساس کا نام دیتے ہیں اور جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رب ہونے کا اعلان کیا اور کائنات نے اس آواز کو سن کر اللہ تعالیٰ کی طرف نگاہ اُٹھائی اور اللہ تعالیٰ کو دیکھ کر اس کی ربوبیت کا اقرار کیا۔ تو اسے اپنے ہونے کا ادراک مل گیا۔ لیکن رمز کی بات یہ ہے کہ انسان کو سب سے پہلے نگاہ منتقل ہوئی یعنی انسان نگاہ کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ اس بات کو مولانا رومؒ نے اس طرح فرمایا ہے کہ آدمی نگاہ ہے۔ اس کے علاوہ باقی سب فکشن(Fiction) ہے۔ اور نگاہ یہ ہے کہ آدمی اس بات سے واقف ہے کہ میں مخلوق ہوں اور میرا بنانے والا اللہ ہے۔ جب تک آدم کی نظر اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے اوپر نہیں ٹھہری اس کی حیثیت صرف احساس کی تھی اور جب اس کی نگاہ اللہ تعالیٰ کے اوپر ٹھہر گئی تو اس کی حیثیت علم کی بن گئی اور اس کے اندر سننے اور دیکھنے کے حواس پیدا ہو گئے۔

دیکھنے کی دو طرزیں ہیں:

ایک طرز یہ ہے کہ ہم کسی چیز کو باہر دیکھ رہے ہیں اور دیکھنے کی دوسری طرز یہ ہے کہ ہم اس چیز کو اس طرح دیکھ رہے ہیں جو فی الواقع اس کی حیثیت ہے۔ آئینہ کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ ہم جب کسی قد آدم آئینے کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں تو ہمیں اس آئینے میں اپنی صورت نظر آتی ہے اور ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم آئینہ دیکھ رہے ہیں۔  حالانکہ ہم آئینہ نہیں دیکھ رہے  آئینہ کے اندر  جو عکس ہے اسے دیکھ رہے ہیں پہلے آئینے نے ہمیں دیکھ کر اپنے اندر جذب کیا اور اپنے اندر جذب کرنے کے بعد ہماری تصویر کو منعکس کیا۔ اگر آئینہ ہماری تصویر کو اپنے اندر جذب کر کے منعکس نہ کرے تو ہم آئینہ نہیں دیکھ سکتے۔ دیکھنے کی طرزیں دو ہیں۔ ایک دیکھنا بالواسطہ یا میڈیم کے ذریعے دیکھنا ہے اور ایک دیکھنا براہ راست میڈیم کے بغیر دیکھنا ہے۔ براہ راست طرز کلام میں جب ہم دیکھنے کا تذکرہ کریں گے تو یہ کہا جائے گا کہ پہلے آئینہ نے ہماری تصویر دیکھ کر اپنےاندر جذب کی پھر ہم نے آئینہ دیکھا۔ یعنی ہم نے آئینہ نہیں دیکھا بلکہ آئینہ کے دیکھنے کو دیکھ رہے ہیں۔ یہی صورتحال زندگی کے تمام اعمال و حرکات کی ہے۔ ہر انسان اپنے ذہن کو آئینہ تصور کرے تو دیکھنے کی براہ راست طرز یہ ہو گی کہ کوئی بھی صورت یا شئے پہلے ہمارے ذہن نے دیکھی۔ پھر ہم نے اس کو دیکھا یعنی ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں اپنے ذہن کے دیکھنے کو دیکھ رہے ہیں۔ کوئی خیال کوئی تصور کوئی شئے اس وقت تک نگاہ کے لئے قابل قبول نہیں ہے جب تک اس کی تصویر انسانی ذہن کی اسکرین پر پہلے سے منعکس نہ ہو۔ ہمارے سامنے ایک گلاس رکھا ہوا ہے۔ اس میں پانی بھرا ہوا ہے۔ بالواسطہ دیکھنے کی طرز یہ ہے کہ ہم گلاس دیکھ رہے ہیں۔ جس میں پانی بھرا ہوا ہے۔ براہ راست یا روحانی طرزوں میں یہ دیکھنا فکشن اور غیر حقیقی ہے۔ براہ راست طرز کلام میں گلاس دیکھنے کے عمل کو اس طرح بیان کیا جائے گا کہ ہمارے ذہن کی اسکرین پر نگاہ (علم) کے ذریعے گلاس کا عکس اور پانی کی مادیت ہمارے لاشعور نے قبول کی۔ یعنی پانی اور گلاس کا پورا پورا عکس اپنے علم اور اپنی ماہیت کے ساتھ ہمارے اندر کی آنکھ نے دیکھ کر اس کے اندر تمام خدوخال اور نقوش کو محسوس کر لیا اور باطنی نگاہ کا یہ محسوس کرنا ہی دیکھنے کا عمل ہے۔ مختصر الفاظ میں اس بات کو اس طرح سمجھئے کہ روحانی نقطۂ نظر سے دیکھنا باہر دیکھنا نہیں ہے۔ انسان کی نگاہ پہلے کسی چیز کے عکس کو لوٹا کر ذہن کی اسکرین پر نقش کرتی ہے۔ اس کے بعد ہم اس چیز کو دیکھتے ہیں۔ ایک دیکھنا یہ ہے کہ ہمارے سامنے چیز رکھی ہوئی ہے اور ایک دیکھنا یہ ہے کہ سامنے رکھی ہوئی چیز کا عکس ہمارے لاشعور پر نقش ہو رہا ہے اور ہم اسے دیکھ رہے ہیں۔ براہ راست طرز نگاہ یہ ہے کہ ہم اپنی     رُوح کے دیکھنے کو دیکھ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انسان جب مر جاتا ہے تو باوجودیہ کہ اس کی آنکھ، آنکھ کا ڈھیلا آنکھ کی پتلی تل سب کچھ موجود ہونے کے باوجود کچھ نظر نہیں آتا۔ وجہ یہ ہے کہ جس چیز کے اوپر عکس منتقل ہو رہا تھا اس عکس کا علم ہمیں نہیں مل رہا۔ یہی صورتحال موت کے علاوہ عام زندگی میں بھی پیش آتی ہے۔ مثلاً ایک آدمی اندھا ہو گیا۔ اس کے سامنے ساری چیزیں رکھی ہوئی ہیں لیکن اسے کچھ نظر نہیں آ رہا۔ کیوں نظر نہیں آ رہا اس لئے نظر نہیں آرہا کہ جو چیز دیکھنے کا میڈیم بنی ہوئی تھی وہ موجود نہیں یعنی آنکھ نے دیکھ کر کسی چیز کا عکس ذہن پر منتقل نہیں کیا۔ بعض مرتبہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ آنکھیں ٹھیک ہیں لیکن دماغ کے سیل (Cells) جو انسان کے اندر حسیات (Senses) پیدا کرتے ہیں یا وہ سیلز(Cells) جو نگاہ کا ذریعہ بن کر تصویری خدوخال کو ظاہر کرتے ہیں معطل ہو جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں انسان دیکھ سکتا ہے نہ محسوس کر سکتا ہے۔ نگاہ کے بعد ہی انسانی ذہن میں حیات کا عمل دخل ہے۔ مثلاً ایک آدمی کے چیونٹی کاٹتی ہے۔ اس نے چیونٹی کو دیکھا نہیں۔ لیکن وہ چیونٹی کے کاٹنے کی تکلیف محسوس کرتا ہے یعنی وہ حس جو آدمی کے اندر کسی بھی طریقے سے علم بنتی ہے اس نے انسانی دماغ کو یہ بتا دیا کہ کسی چیز نے کاٹا ہے۔ کہنا یہ ہے کہ انسان کو سب سے پہلے جس چیز کا علم حاصل ہوتا ہے خواہ وہ لمس کے ذریعے ہو خواہ شامہ کے ذریعے ہو خواہ سماعت کے ذریعے ہو خواہ بصارت کے ذریعے ہو احساس کا پہلا درجہ ہے۔ کسی چیز کو سننا سننے کے بعد مفہوم اخذ کرنا یہ احساس کی دوسری درجہ بندی ہے۔

انسان کو جب کسی چیز کا پہلی مرتبہ علم حاصل ہوتا ہے تو یہ احساس کا پہلا درجہ ہے۔ دیکھنا احساس کا دوسرا درجہ ہے۔ سننا احساس کا تیسرا درجہ ہے۔ کسی چیز کو سونگھ کر اس کی خوشبو یا بدبو محسوس کرنا احساس کا چوتھا درجہ ہے۔ چھونا احساس کا پانچواں درجہ ہے۔

احساس کا صحیح نام نگاہ ہے۔ اس لئے کہ جب تک مخلوق کی نظر خالق کے اوپر نہیں ٹھہرتی احساس کی درجہ بندی نہیں ہوتی۔ مخلوق”ہوجا’’ کے بعد جس اسٹیج پر موجود تھی اس کو صرف یہ خیال تھا کہ میں ہوں۔ پھر اس کو نگاہ ملی۔ نگاہ کے ساتھ ساتھ وہ قوت سماعت سے آشنا ہو گیا اور اس کے بعد اس کو دوسری حسیں (Senses) منتقل ہو گئیں۔

Share.