تابوت سکینہ کے معنی اور اس کی حقیقت کیا ہے؟تابوت بروزن فعلوت۔ توب سے مشتق ہے جس کے معنی رجوع کے ہیں۔ اور اسے تابوت اس لیے کہتے ہیں کہ جو چیز اس میں سے نکالی جاتی تھی وہ پھر واپس اسی میں چلی آتی تھی [1] اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ تابوت بمعنی لکڑی کا صندوق عموماً مستعمل ہے اس کی جمع توابیت ہے۔ سکینۃ یعنی اس میں ایسی چیزیں رکھی ہوئی ہیں جن سے تمہاری تسکین ہو جائے گی۔ یا تابوت کی واپسی کا امر ای فی اتیانہ سکون لکم وطمانیۃ۔ سکینۃ۔ تسکین۔ تسلی خاطر۔ اطمینان۔ سکون سے بروزن فعیلۃ مصدر ہے جو اسم کی جگہ استعمال ہوا ہے۔ جیسے کہ عزیمۃ ہے۔
علامہ بغوی سید محمد مرتضے زبیدی لکھتے ہیں:۔ سکینہ وہ اطمینان۔ چین و قرار اور سکون ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کے قلب میں اس وقت نازل فرماتا ہے جب کہ وہ ہولناکیوں کی شدت سے مضطرب ہو جاتا ہے پھر اس کے بعد جو کچھ بھی اس پر گذرے وہ اس سے گھبراتا نہیں ہے یہ اس کے لیے ایمان کی زیادتی۔ یقین میں قوت اور استقلال کو ضروری کر دیتا ہے۔

تبرکات کا صندوق

اس تابوت میں موسیٰ اور ہارون کے تبرکات تھے، اس تابوت کو ان کے دشمن عمالقہ چھین کرلے گئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے نشانی کے طور پر یہ تابوت فرشتوں کے ذریعہ حضرت طالوت کے دروازہ پر پہنچا دیا۔ جسے دیکھ کر بنی اسرائیل بہت خوش ہوئے اور من جانب اللہ طالوت کی بادشاہت کی نشانی بھی سمجھا اور اللہ تعالیٰ نے بھی اس تابوت کو ان کی فتح و شکست کا سبب قرار دیا۔[3] بنی اسرائیل میں ایک صندوق چلا آتا تھا اس میں تبرکات تھے موسیٰ وغیرہ انبیائے بنی اسرائیل اس صندوق کو لڑائی میں آگے رکھتے اللہ اس کی برکت سے فتح دیتا جب جالوت غالب آیا ان پر تو یہ صندوق بھی وہ لے گیا تھا جب اللہ تعالیٰ کو صندوق کا پہنچانا منظور ہوا تو یہ کہا کہ وہ کافر جہاں صندوق رکھتے وہیں وبا اور بلا آتی پانچ شہر ویران ہو گئے ناچار ہو کر دو بیلوں پر اس کو لاد کر ہانک دیا فرشتے بیلوں کو ہانک کر طالوت کے دروازے پر پہنچا گئے بنی اسرائیل اس نشانی کو دیکھ کر طالوت کی بادشاہت پر یقین لائے اور طالُوت (ساؤل) نے جالوت پر فوج کشی کی اور موسم نہایت گرم تھا۔

یہود کے ہاں اس کی اہمیت

تابوت سکینہ مسلمانوں کے لیے صرف ایک صندوق جتنی اہمیت رکھتا ہے اور قرآن میں اس کے بارے میں صرف یہ بیان کیا گیا ہے کہ اس کو اس وقت فرشتوں نے اٹھایا ہوا ہے مزید اس کے بارے میں قرآن اور حدیث میں مکمل خاموشی ہے- لیکن تابوت سکینہ یہودی مذہب میں بہت اہمیت کا حامل ہے اور اسے انتہائی مقدس سمجھا جاتا ہے- مسیحیت میں بھی یہ اہمیت کا حامل ہے اور اس کا ذکر ان کی کتابوں میں بھی ملتا ہے-[5]

بنی اسرائیل اس صندوق کو بڑا متبرک اور اپنے لیے فتح و نصرت کا نشان سمجھتےتھے- جب یہ صندوق ان کے ہاتھ سے نکل گیا تو پوری قوم کی ہمت جواب دے گئی اور ہر ایک اسرائیلی یہ سوچنے لگا کہ خدا کی رحمت ہم سے دور ہو گئی اور اب ہمارے برے دن آگئے ۔ (بحوالہ سموئیل 1 – باب 6’201:7)

یہودیوں اور مسیحیوں کے نظریے کے مطابق تابوت سکینہ موسیٰ نے خدا کے کہنے پر بنایا تھا اور اس میں وہ پتھر کی لوحیں لاکر رکھی تھیں جو انکو خدا نے کوہ سینا پر دی تھیں اور جن میں یہودی مذہب کی تعلیمات بیان کی گئی تھیں- مزید یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس میں حضرت موسی کا عصا اور من وسلویٰ بھی رکھا گیا تھا جو بنی اسرائیل کے لوگوں کے لیے اللہ تعالٰی نے آسمان سے نازل کیا تھا- یہ بہت مقدس تابوت شمار کیا جاتا تھا اورہمیشہ مذہبی رہنما اس کو اٹھایا کرتے تھے اور اس کی حفاظت کے لیے فوج کا ایک دستہ بھی ہمیشہ ساتھ رہتا تھا نیز یہ بنی اسرائیل کے نزدیک فتح اور برکت کی علامت تھا- اس کو جنگوں کے دوران میں لشکر سے آگے رکھا جاتا تھا اور یہ سمجھا جاتا تھا کہ اس تابوت کی برکت کی وجہ سے جیت ہمیشہ بنی اسرایئل کی ہی ہو گی۔

تابوت کا گم ہونا

جب بنی اسرائیل اللہ کے احکامات کی نافرمانی کرنے لگے اور کھلم کھلا وہ کام کرنے لگے جن سے اللہ نے انہیں منع کیا تھا تو یہ تابوت ان سے ایک جنگ کے دوران میں کھو گیا اور انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا- یہ تابوت حضرت طالوت کے زمانے میں واپس مل گیا

اسی بارے میں قرآن میں بھی ارشاد ہے،”ان لوگوں سے ان کے نبی نے کہا کہ طالوت کے بادشاہ ہونے کی علامت یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق واپس آ جائے گا جس میں تمہارے رب کی طرف سے تسکین قلب کا سامان ہے اور وہ کچھ اشیاء بھی ہیں جو موسیٰ اور ہارون چھوڑ گئے تھے اس کو فرشتے اٹھا کر لائیں گے اور بلاشبہ اس میں تمہارے لیے بڑی نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو”248:2

یہ تابوت جب تک مشرکین کے پاس رہا تب تک اس کی وجہ سے ان پر مشکلات نازل ہوتی رہیں اور آخر کار تنگ آکر انہوں نے اسے ایک بیل گاڑی پر رکھ کر اپنے علاقے سے باہر نکال دیا اور فرشتوں نے اس بیل گاڑی کو ہنکا کر واپس بنی اسرائیل تک پہنچا دیا اور غالبا”اسی بات کی طرف قرآن پاک میں بھی اشارہ کیا گیا ہے- حضرت داؤد کے زمانے تک اس تابوت کو رکھنے کے لیے کوئی خاص انتظام نہیں تھا اور اس کے لیے پڑاؤ کی جگہ پر ایک الگ خیمہ لگا دیا جاتا تھا- حضرت داؤد نے خدا کے حکم سے خدا کا گھر بنانا شروع کیا جو عین اس مقام پر ہے جہاں آج مسجد اقصیٰ موجود ہے-لیکن یہ عالی شان گھر آپ کے بیٹے حضرت سلیمان کے عہد میں مکمل ہوا اور اس کو ہیکل سلیمانی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس گھر کی تعمیر کے بعد تابوت سکینہ کو یہاں پورے احترام کے ساتھ رکھ دیا گیا۔ اور اس طرح یہ مقام یہودیوں کا مقدس ترین مقام بن گیا۔ بعد کے زمانے میں ہونے والی جنگوں نے اس ہیکل کو بہت نقصان پہنچایا لیکن بابل کے بادشاہ بخت نصر (نبو کد نضر) نے اس کو مکمل طور پر تباہ کر دیا اور اس کو آگ لگا دی، وہ یہاں سے مال غنیمت کے ساتھ ساتھ تابوت سکینہ بھی لے گیا تھا۔ اس تباہی کے نتیجے میں آج اصلی ہیکل کی کوئی چیز باقی نہیں ہے۔ ان تمام تباہیوں کے نتیجے میں تابوت سکینہ کہیں غائب ہو گیا اور اس کا کوئی نشان نہیں ملا۔

اجزائے تابوت

اس صندوق میں کیا ہے؟ بائبل کے مطابق اس میں حضرت یوسف کا جسد مبارک اور بائبل ہی کی بعض روایات کی رو سے ہڈیاں اور کپڑے تھے اور اسے حضرت موسی مصر سے اپنے ساتھ لائے تھے۔

قصص الانبیاء میں ہے کہ اس متبرک صندوق میں تورات کا اصل نسخہ حضرت موسی و ہارون کے عصاء و پیرہن اور من کا مرتبان محفوظ تھے۔ فلسطینوں نے اسے اسرائیلیوں سے چھین کر اپنے مندر ’’بیت و جون میں رکھ دیا تھا۔

قرآن مجید میں اس کے بارے میں تصریح ہے کہ جب اسرائیلیوں کے ہاتھوں سے یہ صندوق نکل گیا تو فرشتے اس کی حفاظت پر مامور تھے۔اور اس میں آل موسی اور آل ہارون کے چھوڑے ہوئے تبرکات تھے۔ جن میں پتھر کی وہ تختیاں جو طور سینا پر اللہ تعالی نے حضرت موسی کو دی تھیں۔ اس کے علاوه تورات کا وہ اصل نسخہ جسے حضرت موی نے لکھوا کر بنی لاوی کی حفاظت میں دیا تھا۔ نیز ایک بوتل جس میں ”من“ بھر کر محفوظ کر دیا گیا تھا تاکہ آنے والی نسلیں اللہ تعالی کے اس احسان کو یاد کریں جو صحرا میں ان کے باپ دادوں پر کیا گیا تھا اور غالبا حضرت موسی کا عصا بھی اس صندوق کے اندر تھا۔

تابوتِ سکینہ کیا ھے
سورہ بقرہ آیت اَنۡ یَّاۡتِیَکُمُ التَّابُوۡتُ فِیۡہِ سَکِیۡنَۃٌ
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
یہ شمشاد کی لکڑی کا ایک صندوق تھا جو حضرت آدم علیہ السلام پر نازل ہوا تھا۔ یہ آپ کی آخرِ زندگی تک آپ کے پاس ہی رہا۔ پھر بطور میراث یکے بعد دیگرے آپ کی اولاد کو ملتا رہا۔ یہاں تک کہ یہ حضرت یعقوب علیہ السلام کو ملا اور آپ کے بعد آپ کی اولاد بنی اسرائیل کے قبضے میں رہا۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مل گیا تو آپ اس میں توراۃ شریف اور اپنا خاص خاص سامان رکھنے لگے۔
یہ بڑا ہی مقدس اور بابرکت صندوق تھا۔ بنی اسرائیل جب کفار سے جہاد کرتے تھے اور کفار کے لشکروں کی کثرت اور ان کی شوکت دیکھ کر سہم جاتے اور ان کے سینوں میں دل دھڑکنے لگتے تو وہ اس صندوق کو اپنے آگے رکھ لیتے تھے تو اس صندوق سے ایسی رحمتوں اور برکتوں کا ظہور ہوتا تھا کہ مجاہدین کے دلوں میں سکون و اطمینان کا سامان پیدا ہوجاتا تھا اور مجاہدین کے سینوں میں لرزتے ہوئے دل پتھر کی چٹانوں سے زیادہ مضبوط ہوجاتے تھے۔ اورجس قدر صندوق آگے بڑھتا تھا آسمان سے نَصْرٌ مِّنَ اللہِ وَفَتْحٌ قَرِیْبٌ کی بشارت عظمیٰ نازل ہوا کرتی اور فتح مبین حاصل ہوجایا کرتی تھی۔
بنی اسرائیل میں جب کوئی اختلاف پیدا ہوتا تھا تو لوگ اسی صندوق سے فیصلہ کراتے تھے۔ صندوق سے فیصلہ کی آواز اور فتح کی بشارت سنی جاتی تھی۔ بنی اسرائیل اس صندوق کو اپنے آگے رکھ کر اور اس کو وسیلہ بنا کر دعائیں مانگتے تھے تو ان کی دعائیں مقبول ہوتی تھیں اور بلاؤں کی مصیبتیں اور وباؤں کی آفتیں ٹل جایا کرتی تھیں۔ الغرض یہ صندوق بنی اسرائیل کے لئے تابوتِ سکینہ، برکت و رحمت کا خزینہ اور نصرتِ خداوندی کے نزول کا نہایت مقدس اور بہترین ذریعہ تھا مگر جب بنی اسرائیل طرح طرح کے گناہوں میں ملوث ہوگئے اور ان لوگوں میں معاصی و طغیان اور سرکشی و عصیان کا دور دورہ ہو گیا تو ان کی بداعمالیوں کی نحوست سے ان پر خدا کا یہ غضب نازل ہوگیا کہ قوم عمالقہ کے کفار نے ایک لشکر جرار کے ساتھ ان لوگوں پر حملہ کردیا، ان کافروں نے بنی اسرائیل کا قتل عام کر کے ان کی بستیوں کو تاخت و تاراج کرڈالا۔ عمارتوں کو توڑ پھوڑ کر سارے شہر کو تہس نہس کرڈالا، اور اس متبرک صندوق کو بھی اٹھا کر لے گئے۔ اس مقدس تبرک کو نجاستوں کے کوڑے خانہ میں پھینک دیا۔ لیکن اس بے ادبی کا قوم عمالقہ پر یہ وبال پڑا کہ یہ لوگ طرح طرح کی بیماریوں اور بلاؤں کے ہجوم میں جھنجھوڑ دیئے گئے۔ چنانچہ قوم عمالقہ کے پانچ شہر بالکل برباد اور ویران ہو گئے۔ یہاں تک کہ ان کافروں کو یقین ہو گیا کہ یہ صندوق رحمت کی بے ادبی کا عذاب ہم پر پڑ گیا ہے تو ان کافروں کی آنکھیں کھل گئیں۔ چنانچہ ان لوگوں نے اس مقدس صندوق کو ایک بیل گاڑی پر لاد کر بیلوں کو بنی اسرائیل کی بستیوں کی طرف ہانک دیا۔
پھر اللہ تعالیٰ نے چار فرشتوں کو مقرر فرما دیا جو اس مبارک صندوق کو بنی اسرائیل کے نبی حضرت شمویل علیہ السلام کی خدمت میں لائے۔ اس طرح پھر بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی نعمت دوبارہ ان کو مل گئی۔ اور یہ صندوق ٹھیک اس وقت حضرت شمویل علیہ السلام کے پاس پہنچا، جب کہ حضرت شمویل علیہ السلام نے طالوت کو بادشاہ بنا دیا تھا۔ اور بنی اسرائیل طالوت کی بادشاہی تسلیم کرنے پر تیار نہیں تھے اور یہی شرط ٹھہری تھی کہ مقدس صندوق آجائے تو ہم طالوت کی بادشاہی تسلیم کرلیں گے۔ چنانچہ صندوق آگیا اور بنی اسرائیل طالوت کی بادشاہی پر رضامند ہو گئے ۔ (تفسیر الصاوی،ج۱،ص۲۰۹۔تفسیر روح البیان،ج۱، ص۳۸۵۔پ۲، البقرۃ۲۴۷،چشتی)
تابوتِ سکینہ میں کیا تھا ؟ : اس مقدس صندوق میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا اور ان کی مقدس جوتیاں اور حضرت ہارون علیہ السلام کا عمامہ، حضرت سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی، توراۃ کی تختیوں کے چند ٹکڑے ،کچھ من و سلویٰ، اس کے علاوہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی صورتوں کے حلیے وغیرہ سب سامان تھے ۔ (تفسیر روح البیان،ج۱،ص۳۸۶،پ۲،البقرۃ: ۲۴۸،چشتی)
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے سورہ بقرہ میں اس مقدس صندوق کا تذکرہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ : وَقَالَ لَہُمْ نَبِیُّہُمْ اِنَّ اٰیَۃَ مُلْکِہٖ اَنۡ یَّاۡتِیَکُمُ التَّابُوۡتُ فِیۡہِ سَکِیۡنَۃٌ مِّنۡ رَّبِّکُمْ وَبَقِیَّۃٌ مِّمَّا تَرَکَ اٰلُ مُوۡسٰی وَاٰلُ ہٰرُوۡنَ تَحْمِلُہُ الْمَلٰٓئِکَۃُ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لَّکُمْ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤْمِنِیۡنَ ﴿248﴾
ترجمہ : اور ان سے ان کے نبی نے فرمایا اس کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ آئے تمہارے پاس تابوت جس میں تمہارے رب کی طرف سے دلوں کا چین ہے اور کچھ بچی ہوئی چیزیں ہیں معزز موسیٰ اور معزز ہارون کے ترکہ کی، اٹھاتے لائیں گے اسے فرشتے بیشک اس میں بڑی نشانی ہے تمہارے لئے اگر ایمان رکھتے ہو ۔ (پ2،البقرۃ:248)
اس آیت کی مختصر تفسیر
اِنَّ اٰیَۃَ مُلْکِہٖ : بیشک اس کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے ۔ بنی اسرائیل نے چونکہ طالوت کی بادشاہت پر کوئی نشانی مانگی تھی اس پر حکمِ الٰہی سے حضرت شمویل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا کہ طالوت کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس تمہارا وہ مشہورو معروف بابرکت تابوت آجائے گاجس سے تمہیں تسکین ملتی تھی اور جس میں حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام او رحضرت ہارون عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے تبرکات تھے ۔ یہ تابوت اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر نازل فرمایا تھا، اس میں تمام انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی تصویریں تھیں ،ان کے مکانات کی تصویریں تھیں اور آخر میں حضور سیدالانبیاء صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی اور حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے مقدس گھر کی تصویر ایک سرخ یاقوت میں تھی جس میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنماز کی حالت میں قیام میں ہیں اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے ارد گرد آپ کے صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم موجود ہیں۔ حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان تمام تصویروں کو دیکھا ،یہ صندوق نسل در نسل منتقل ہوتا ہوا حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تک پہنچا، آپ اس میں توریت بھی رکھتے تھے اور اپنا مخصوص سامان بھی ،چنانچہ اس تابوت میں توریت کی تختیوں کے ٹکڑے بھی تھے اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا عصا اور آپ کے کپڑے اور آپ کی نعلین شریفین اور حضرت ہارون عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا عمامہ اور ان کی عصا اور تھوڑا سا مَن جو بنی اسرائیل پر نازل ہوتا تھا ۔حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جنگ کے مواقع پر اس صندوق کو آگے رکھتے تھے، اس سے بنی اسرائیل کے دلوں کو تسکین رہتی تھی۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بعد یہ تابوت بنی اسرائیل میں چلتاآیا ، جب انہیں کوئی مشکل درپیش ہوتی وہ اس تابوت کو سامنے رکھ کردعا ئیں کرتے اور کامیاب ہوتے ،دشمنوں کے مقابلہ میں اس کی برکت سے فتح پاتے ۔ جب بنی اسرائیل کی حالت خراب ہوئی اور ان کی بدعملی بہت بڑھ گئی اور اللہ تعالیٰ نے ان پر عمالقہ کو مسلط کیا تو وہ ان سے تابوت چھین کر لے گئے اور اس کو نجس اور گندے مقامات میں رکھا اور اس کی بے حرمتی کی اور ان گستاخیوں کی وجہ سے عمالقہ کے لوگ طرح طرح کے امراض و مصائب میں مبتلا ہوگئے ،ان کی پانچ بستیاں ہلاک ہوگئیں اور انہیں یقین ہوگیا کہ تابوت کی توہین و بے ادبی ہی ان کی بربادی کا باعث ہے چنانچہ انہوں نے تابوت ایک بیل گاڑی پر رکھ کر بیلوں کو چھوڑ دیا اور فرشتے اسے بنی اسرائیل کے سامنے طالوت کے پاس لائے اور چونکہ اس تابوت کا آنا بنی اسرائیل کے لیے طالوت کی بادشاہی کی نشانی قرار دیا گیا تھا لہٰذا بنی اسرائیل نے یہ دیکھ کرطالوت کی بادشاہی کو تسلیم کرلیا اور بلا تاخیر جہاد کے لیے آمادہ ہوگئے کیونکہ تابوت کے آنے سے انہیں اپنی فتح کا یقین ہوگیا۔ طالوت نے بنی اسرائیل میں سے ستر ہزار جوان منتخب کیے جن میں حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بھی تھے۔ (جلالین، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۴۸، ص۳۸، جمل، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۴۸، ۱/۳۰۴، خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۴۸، ۱/۱۸۷-۱۸۹، مدارک، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۴۸، ص۱۲۹،چشتی)
طالوت کے پاس تابوت سکینہ آنے والے واقعہ سے معلوم ہونے والے مسائل ، اس واقعے سے کئی مسائل معلوم ہوئے :
(1) بزرگوں کے تبرکات کا اعزاز و احترام لازم ہے، ان کی برکت سے دعائیں قبول ہوتی ہیں اور حاجتیں پوری ہوتی ہیں ۔
(2) تبرکات کی تعظیم گزشتہ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے چلتی آرہی ہے۔سورہ ٔیوسف میں بھی حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے کُرتے کی برکت سے حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی آنکھوں کی روشنی درست ہونے کا واقعہ مذکور ہے ۔
(3) تبرکات کی بے ادبی و گستاخی گمراہ لوگوں کا طریقہ ہے اور بربادی کا سبب ہے ۔
(4) جب تبرکات کی گستاخی گمراہی اور تباہی ہے تو جن ہستیوں کے تبرکات ہوں ان کی بے ادبی اور گستاخی کس قدر سنگین اور خطرناک ہوگی ۔
(5) اللہ تعالیٰ کے پیاروں سے نسبت رکھنے والی ہر چیز بابرکت ہوتی ہے جیسے تابوت میں حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے نعلین شریفین یعنی پاؤں میں پہننے کے جوڑے بھی برکت کا ذریعہ تھے۔ یاد رہے کہ مذکورہ بالا تابوت میں انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی جو تصویریں تھیں وہ کسی آدمی کی بنائی ہوئی نہ تھیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی تھیں ۔
تابوت سکینہ کہاں ہے ؟
حضرت داؤد علیہ السلام کے زمانے تک اس تابوت کو رکھنے کے لئے کوئ خاص انتظام نہیں تھا اور اسکے لئے پڑاؤ کی جگہ پر ایک الگ خیمہ لگا دیا جاتا تھا- حضرت داؤد علیہ السلام نے خدا کے حکم سے خدا کا گھر بنانا شروع کیا جو عین اس مقام پر ہے جہاں آج مسجد اقصیٰ موجود ہے-لیکن یہ عالی شان گھر آپ کے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام کے عہد میں مکمل ہوا اور اسکو یہودی ہیکل سلیمانی کے نام سے پکارتے ہیں۔ اس گھر کی تعمیر کے بعد تابوت سکینہ کو یہاں پورے احترام کے ساتھ رکھ دیا گیا- اور اس طرح یہ مقام یہودیوں کا مقدس ترین مقام بن گیا – بعد کے زمانے میں ہونے والی جنگوں نے اس ہیکل کو بہت نقصان پہنچایا لیکن بابل کے بادشاہ بخت نصر نے اس کو مکمل طور پر تباہ کر دیا اور اسکو آگ لگا دی ، وہ یہاں سے مال غنیمت کے ساتھ ساتھ تابوت سکینہ بھی لے گیا تھا- اس تباہی کے نتیجے میں آج اصلی ہیکل کی کوئی چیز باقی نہیں ہے۔ان تمام تباہیوں کے نتیجے میں تابوت سکینہ کہیں غائب ہو گیا اور اسکا کوئی نشان نہیں ملا- آج بھی بہت سارے ماہر آثار قدیمہ اور خصوصا”یہودی مذہب سے تعلق رکھنے والے ماہر اسکی تلاش میں سرگرداں ہیں تاکہ اسکو ڈھونڈ کر وہ اپنی اسی روحانیت کو واپس پا سکیں جو کبھی ان کو عطا کی گئی تھی ۔
تابوت سکینہ کی موجودہ جگہ کے بارے میں مختلف لوگ قیاس آرائیاں کرتے رہتے ہیں ۔ اس پر انگریز عیسائیوں اور یہودیوں نے بڑی ریسرچ کیں ہیں۔ لیکن حتمی طور پر سارے ایک نقطے پر متفق نہیں ہوسکے۔ لیکن مجھے جو سب سے قرین قیاس تھیوری لگتی ہے وہ یہ کہ اس وقت یہ صندوق یا تابوت حضرت سلیمان علیہ السلام کے محل میں کہیں دفن ہے۔ جو فلسطین میں آج بھی گم ہے جس کو یہودی کافی عرصے سے ڈھونڈنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اور آئے دن وہاں بیت المقدس میں کھدائی کرتے رہتے ہیں۔ یہ وہ ہی محل ہے جس کو حضر ت سلیمان علیہ السلام نے جنات کی مدد سے بنایا تھا۔ اس کی بنیادوں کو آج بھی ڈھونڈنے کی کوشش کی جارہی ہیں۔ جس کو ہیکل سلیمانی بھی کہتے ہیں۔ بہرحال اس کے متعلق بہت سے نظریات ہیں اور میرا خیال ہے کہ یہ تابوت اب بھی حضر ت سلیمان علیہ السلام کے محل کے اندر ہی کہیں دفن ہے۔ کچھ کے نزدیک اس کو افریقہ لے جایا گیا۔ ایک مشہور ماہر آثار قدیمہ ران وائٹ کا کہنا ہے کہ یہ مشرق وسطیٰ میں موجود ہے ۔
کچھ لوگوں کے مطابق اسکو ڈھونڈنے کی کوشش انگلینڈ کے علاقے میں کرنی چاہیے۔ جبکہ کچھ سکالرز کا ماننا ہے کہ یہ تابوت ایتھوپیا کے تاریخی گرجا گھر ایکسم میں پڑا ہواہے۔ ایک اور نظریہ ہے کہ یہ بحیرہ مردار کے قریب ایک غار کے اندر کہیں گم ہو چکا ہے۔ اور ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ یہودیوں نے 1981 میں اسے حضرت سلیمان علیہ السلام کے پہلے محل سے کھدائی کے دوران نکال کر کہیں نامعلوم جگہ پر منتقل کردیا ہے۔ جبکہ کھدائی کرنے والے یہودیوں کا کہنا تھا۔ کہ وہ اس صندوق کے بالکل قریب پہنچ گئے تھے۔ لیکن اسرائیلی گورنمنٹ نے مسلمانوں اور عیسائیوں کے پریشر میں آکر اس کی کھدائی پر پابندی لگا دی تھی۔ اسلئے انہیں یہ کام نامکمل ہی چھوڑنا پڑا۔ بہرحال کوششیں جاری ہیں لیکن تاحال انہیں ناکامی کا سامنا ہے۔ اور حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ تابوت کہاں ہے ۔
بنی اسرائیل کے صندوق کے اس واقعہ سے چند مسائل و فوائد پر روشنی پڑتی ہے جو یاد رکھنے کے قابل ہیں :
(1) معلوم ہوا کہ بزرگوں کے تبرکات کی خداوند قدوس کے دربار میں بڑی عزت و عظمت ہے اور ان کے ذریعہ مخلوقِ خدا کو بڑے بڑے فیوض و برکات حاصل ہوتے ہیں۔ دیکھ لو! اس صندوق میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جوتیاں، آپ کا عصا اور حضرت ہارون علیہ السلام کی پگڑی تھی، تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ صندوق اس قدر مقبول اور مکرم و معظم ہو گیا کہ فرشتوں نے اس کو اپنے نورانی کندھوں پر اٹھا کر حضرت شمویل علیہ السلام کے دربارِ نبوت میں پہنچایا اور خداوند قدوس نے قرآن مجید میں اس بات کی شہادت دی کہ فِیْہِ سَکِّیْنَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ یعنی اس صندوق میں تمہارے رب کی طرف سے سکینہ یعنی مومنوں کے قلوب کا اطمینان اور ان کی روحوں کی تسکین کا سامان تھا۔ مطلب یہ کہ اس پر رحمتِ الٰہی کے انوار و برکات کا نزول اور اس پر رحمتوں کی بارش ہوا کرتی تھی تو معلوم ہوا کہ بزرگوں کے تبرکات جہاں اور جس جگہ بھی ہوں گے ضرور ان پر رحمت خداوندی کا نزول ہو گا۔ اور اس پر نازل ہونے والی رحمتوں اور برکتوں سے مومنین کو سکونِ قلب اور اطمینانِ روح کے فیوض و برکات ملتے رہیں گے ۔
(2) جس صندوق میں اللہ والوں کے لباس و عصا اور جوتیاں ہوں جب اس صندوق پر اطمینان کا سکینہ اور انوار و برکات کا خزینہ خدا کی طرف سے اترنا، قرآن سے ثابت ہے تو بھلا جس قبر میں ان بزرگوں کا پورا جسم رکھا ہو گا، کیا ان قبروں پر رحمت و برکت اور سکینہ و اطمینان نہیں اترے گا؟ ہر عاقل انسان جس کو خداوند عالم نے بصارت کے ساتھ ساتھ ایمانی بصیرت بھی عطا فرمائی ہے، وہ ضرور اس بات پر ایمان لائے گا کہ جب بزرگوں کے لباس اور ان کی جوتیوں پر سکینہ رحمت کا نزول ہوتا ہے تو ان بزرگوں کی قبروں پر بھی رحمتِ خداوندی کا خزینہ ضرور نازل ہو گا۔ اور جب بزرگوں کی قبروں پر رحمتوں کی بارش ہوتی ہے تو جو مسلمان ان مقدس قبروں کے پاس حاضر ہو گا ضرور اس پر بھی بارشِ انوار رحمت کے چند قطرات برس ہی جائیں گے کیونکہ جو موسلا دھار بارش میں کھڑا ہو گا ضرور اس کا کپڑا اور بدن بھیگے گا، جو دریا میں غوطہ لگائے گا ضرور اس کا بدن پانی سے تر ہو گا، جو عطر کی دوکان پر بیٹھے گا ضرور اس کو خوشبو نصیب ہو گی۔ تو ثابت ہو گیا کہ جو بزرگوں کی قبروں پر حاضری دیں گے ضرور وہ فیوض و برکات کی دولتوں سے مالا مال ہوں گے اور ضرور ان پر خدا کی رحمتوں کا نزول ہو گا جس سے ان کے مصائب و آلام دور ہوں گے اور دین و دنیا کے فوائد و منافع حاصل ہوں گے ۔
(3) یہ بھی معلوم ہوا کہ جو لوگ بزرگوں کے تبرکات یا ان کی قبروں کی اہانت و بے ادبی کریں گے وہ ضرور قہرِ قہار اور غضب ِ جبار میں گرفتار ہوں گے کیونکہ قوم عمالقہ جنہوں نے اس صندوق کی بے ادبی کی تھی ان پر ایسا قہرِ الٰہی کا پہاڑ ٹوٹا کہ وہ بلاؤں کے ہجوم سے بلبلا اٹھے اور کافر ہوتے ہوئے انہوں نے اس بات کو مان لیا کہ ہم پر بلاؤں اور وباؤں کا حملہ اسی صندوق کی بے ادبی کی وجہ سے ہوا ہے۔ چنانچہ اسی لئے ان لوگوں نے اس مقدس صندوق کو بیل گاڑی پر لاد کر بنی اسرائیل کی بستی میں بھیج دیا تاکہ وہ لوگ غضب ِ الٰہی کی بلاؤں کے پنجہ قہر سے نجات پالیں ۔
(4) اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو قوم سرکشی اور عصیان کے طوفان میں پڑ کر اللہ و رسول (عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کی نافرمان ہوجاتی ہے اس قوم کی نعمتیں چھین لی جاتی ہیں۔ چنانچہ آپ نے پڑھ لیا کہ جب بنی اسرائیل سرکش ہو کر خدا کے نافرمان ہو گئے اور قسم قسم کی بدکاریوں میں پڑ کر گناہوں کا بھوت ان کے سروں پر عفریت بن کر سوار ہو گیا تو ان کے جرموں کی نحوستوں نے انہیں یہ برا دن دکھایا کہ صندوق سکینہ ان کے پاس سے قوم عمالقہ کے کفار اٹھا لے گئے اور بنی اسرائیل کئی برسوں تک اس نعمت عظمیٰ سے محروم ہو گئے ۔
(5) جب اس صندوق کی برکت سے بنی اسرائیل کو جہاد میں فتح مبین ملتی تھی تو ضرور بزرگوں کی قبروں سے بھی مومنین کی مشکلات دفع ہوں گی اور مرادیں پوری ہوں گی کیونکہ ظاہر ہے کہ بزرگوں کے لباس سے کہیں زیادہ اثرِ رحمت بزرگوں کے بدن میں ہو گا

تابوت کی تلاش

آج بھی بہت سارے ماہر آثار قدیمہ اور خصوصاً یہودی مذہب سے تعلق رکھنے والے ماہر اس کی تلاش میں سرکرداں ہیں تاکہ اس کو ڈھونڈ کر وہ اپنی اسی روحانیت کو واپس پا سکیں جو کبھی ان کو عطا کی گئی تھی۔

تابوت سکینہ کی موجودہ جگہ کے بارے میں مختلف لوگ قیاس آرائیاں کرتے رہتے ہیں کچھ کے نزدیک اس کو افریقہ لے جایا گیا، ایک مشہور ماہر آثار قدیمہ ران وائٹ کا کہنا ہے کہ یہ مشرق وسطیٰ میں موجود ہے اور کچھ لوگوں کے مطابق اس کو ڈھونڈنے کی کوشش انگلینڈ کے علاقے میں کرنی چاہیے- بہرحال کوششیں جاری ہیں لیکن تاحال انہیں ناکامی کا سامنا ہے۔

ایک بزرگ کے بقول یہ تابوت قیصرانی قبیلے کے علاقے غربن میں موجود ہے۔ غربن پاکستان کے ضلع ڈیرہ غازیخان کی ایک تحصیل تونسہ شریف میں ہے۔[حوالہ درکار]

حوالہ جات

  1.  تفسیر مظہری قاضی ثنا ءاللہ پانی پتی
  2.  انوار البیان فی حل لغات القرآن جلد1 صفحہ204 ،علی محمد، سورہ البقرہ،آیت248،مکتبہ سید احمد شہید لاہور
  3.  تفسیرجلالین، جلال الدین السیوطی، سورہ البقرہ، آیت248
  4.  تفسیر عثمانی، شبیر احمد عثمانی۔ سورۃ البقرہ، آیت248
  5. شاہکار اسلامی انسائیکلو پیڈیا- ص ٥٠٣، ج اول،از سید قاسم محمود، عطش درانی- مکتبہ  شاہکار لاہور( حافظ مغل)

Share.