مولانارومی نے ایک بار کہا: “تفکر کرنا ایک بندر کی طرح ہے جو ایک آئینے کے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔” اس کلمہ چین میں انسان کے دل کی گہرائیوں کو چھونے کی بات کرتا ہے۔ اسلام میں تفکر کو دھیان کہا جاتا ہے، اور یہ ایک معنوی عمل ہے جو انسان کی روحانی ترقی اور قریبی اللہ کی طرف رجوع کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

تفکر کی تعریف

تفکر کا مطلب ہے: “خواب میں چھوڑ دینا” یا “خود سے روشنی ڈالنا۔” اس کے ذریعے انسان اپنی فکری قوتوں کو توانائی دینے کے لئے اپنی روح کو تربیت دیتا ہے۔ تفکر کا مقصد انسان کو بے قرار کرنا اور اس کی روحانی طرف منتقل کرنا ہوتا ہے۔

اسلام میں تفکر کی اہمیت

  1. قرآنی اشارات اسلامی تعلیم کے مطابق، قرآن مجید میں تفکر کی اہمیت کو کئی مرتبہ ذکرکیا گیا ہے۔ قرآن میں فرمایا گیا ہے: “سوچو اور تفکر کرو۔” (سورة الحشر، آیت 18) تفکر کی ایسی اہمیت کو بیان کرتی ہے کہ انسان کو اپنی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر غور کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔
  2. پیغمبر کی سنت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی تفکر کو اپنی سنت کا حصہ بنایا۔ وہ زمین پر فکر کرنے اور آسمانوں کو تلاش کرنے کے لئے وقت گزارتے تھے۔ ان کی تعلیمات میں انسانوں کو تفکر کی اہمیت کی وضاحت دی گئی۔

تفکر کے فوائد

  1. روحانی ترقی تفکر کی ممارسہ سے انسان اپنی روحانی ترقی کرتا ہے۔ اس کے ذریعے وہ اپنے رب کےہاں قربانی کا راستہ ڈھونڈتا ہے اور اپنے اندر کی دنیاوی خواہشوں کو کنٹرول کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔
  2. دنیاوی فوائد تفکر انسان کی سوچ کو تیز کرتا ہے، اور اس کے نتائج میں دنیاوی ترقی کی طرف اضافہ ہوتا ہے۔ ایک تفکری ذہانت والا انسان مسائل کا حل تلاش کرنے میں کامیاب ہوتا ہے اور نیک فیصلے کرتا ہے۔

تفکر کا طریقہ

  1. نماز اور ذکر اسلام میں نماز اور ذکر کی ممارسہ تفکر کا اہم حصہ ہے۔ اس کے ذریعے انسان اپنے خالق کی طرف رجوع کرتا ہے اور اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہے۔تفکر / مراقبہ Meditation
    علم حاصل کرنے کے دو طریقے ہیں ایک ظاہری اور دوسرا باطنی۔ ظاہری طریقہ علم وہ عام طریقہ ہے جو مروج ہے اور علم ظاہر ایک مدت تک سخت محنت کے بعد حاصل ہوتا ہے۔ علم باطن ذرا سی توجہ سے ظاہر ہوجاتا ہے اور اس میں استقامت حاصل ہوجاتی ہے۔ حصول علم کاباطنی طریقہ مراقبہ اور تفکر ہیں۔ تفکر سے ہمیں کسی شئے کے بارے میں علم حاصل ہوتا ہے اور پھر تفکر کے ہی ذریعہ اس علم میں گہرائی پیدا ہوتی چلی جاتی ہے اور اسی مناسبت سے ہم کسی چیز اور اس کی صفات سے باخبر ہو جاتے ہیں۔
    مراقبہ دراصل اس تفکر کا نام ہے جس سے انسان اس علم کو حاصل کر لیتا ہے جو اس کی اپنی انا، ذات، شخصیت یا روح کا علم ہے۔ یہ علم حاصل ہونے کے بعد کوئی انسان اپنی انا یا روح سے وقوف حاصل کر لیتا ہے۔ تفکر یہ ہے کہ ایک نفس ِانسانی اُن علوم کو جو اس کے اندر مخفی ہیں غور و خوض اور طبعیت پر زور ڈال کر تلاش کرئے جسے meditation بھی کہتے ہیں۔ چونکہ meditation ہر مذہب میں استعمال ہونے والا ایک تصور ہے ۔ عربی ، فارسی اور اردو تینوں زبانوں میں اس کے لئےمراقبے کے ساتھ ساتھ تُعمِّق کا لفظ لغات میں آتا ہے، لغات میں مراقبے کو استبصار بھی کہا جاتا ہے۔ مراقبہ کا اصل اصول یہ ہے کہ دل کو دوسرے خیالات سے ہٹا کر ایک ہی خیال پر جما دیا جائے اور اسی خیال کے اندر فکر میں منہمک ہوجایا جائے۔
    اصطلاحات صوفیاء میں مراقبہ سے مراد دل کی ماسویٰ سے نگہبانی ہے، دل میں مقصود کے تصور کی محافظت کرنا ہے اوربندے کا اپنے علم کو بغرض فیضانِ علم قدسی حق تعالیٰ کی جانب رجوع کرنا ہے۔ مراقبہ حضورِ قلب ہے یعنی کہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں دل سے اس طرح حاضر ہونا کہ اس وقت کوئی خطرہ دل میں نہ آئے ، اگر آئے تو اُسے فوراً دفع کردیا جائے۔ مراقبے کا انحصار دل پر ہے ۔ دل جب متوجہ الی اللہ یا غیر اللہ ہوتا ہے تو سب اعضا ء بھی اسی کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں کیونکہ یہ سب دل کے تابع ہیں۔
    تصوف میں ایک اور اصطلاحات بھی استعمال ہوتی ہے وہ ہے حدس یعنی وہ بات جوبغیر سوچے سمجھے اور بلا غور و خوص دفعتاً قلب پر القا ہوجاتی ہے۔ صاحب حدس یک بیک غیب کی جانب متوجہ ہوجاتا ہے اور یکبارگی علم مطلوبہ اُس پر منکشف ہونے لگتا ہے۔حدس سے فراست پیدا ہوتی ہے اور فراست اللہ کا نور ہے۔ ڈرو تم مومن کی فراست سے کیونکہ وہ دیکھتا ہے اللہ کے نور سے۔ تفکر سے دانائی (زیرکی) پیدا ہوتی ہے جس کا تعلق دماغ سے ہے۔جب نفس انسان تفکر کی قوت سے عالم بالا کی جانب متوجہ ہوتا ہے اور علوم غیبیہ کے انوار اُس پر چمکنا شروع ہوتے ہیں تو ان علوم کا اظہار اُس پر رمز کے حجاب اور اخفاء کے پردوں کی آڑ میں ہوتا ہے۔ تفکر مراقبہ اور حدس ان سب کا تعلق باطنی حواس سے ہےاس لیے اس علم کو علم ِباطن کہتے ہیں۔
    حضرت خواجہ شمش الدین عظیمی فرماتے ہیں کہ مراقبہ کے معنی ہیں کہ تمام طرف سے ذہن کو ہٹا کر ایک نقطہ پر اپنی پوری توجہ مرکوز کرنا اور یہ مرکزیت اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس ہے۔ جب تک کوئی بندہ ذہنی مرکزیت کے قانون سے واقف نہیں ہوتا وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ربط قائم نہیں کر سکتا۔ اللہ سےربط اور تعلق قائم کرنے کے لئے مراقبہ ضروری ہے۔ مراقبہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وہ پہلی سنت ہے کہ آپ نبیﷺ نے غار حرا میں طویل عرصے تک عبادت و ریاضت کی ہے جس کے نتیجے میں حضرت جبرئیلؑ سے رسول اللہﷺ کی گفتگو ہوئی اور ہادی برحق سرور کائنات سرکار دو عالم سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام پر قرآن نازل ہوا۔ سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان تمام اوراد و وظائف اور اعمال و اشغال اور مشقوں کو نماز میں سمو دیا ہے ۔ قیام صلوٰۃ کا ترجمہ ربط قائم کرنا ہے اس لئے ضروری ہوا کہ کوئی ایسا عمل تجویز کیا جائے جس عمل میں زندگی کی تمام حرکات و سکنات موجود ہوں اور ہر عمل اور ہر حرکت کے ساتھ آدمی کا رابطہ اللہ کے ساتھ قائم ہو ۔
    بالفاظ دیگر دنیاوی معاملات، بیوی بچوں کے مسائل، دوست احباب کے تعلقات سے عارضی طور پر رشتہ منقطع کر کے یکسوئی کے ساتھ کسی گوشے میں بیٹھ کر اللہ کی طرف متوجہ ہونا مراقبہ ہے۔ مراقبہ کی یہ کیفیت مرتبہ احسان کا ایک درجہ ہے۔ جب کوئی بندہ اس کیفیت کے ساتھ مراقبہ کرتا ہے تو اس کے اوپر غیب کی دنیا کے دروازے کھل جاتے ہیں اور وہ بتدریج ترقی کرتا رہتا ہے۔ فرشتے اس سے ہم کلام ہوتے ہیں اور اس کے ساتھ رکوع و سجود میں شریک ہوتے ہیں۔ یہی وہ صلوٰۃ (مراقبہ) ہے جو حضور علیہ السلام کے ارشاد کے مطابق مومن کی معراج ہے ۔ مراقبہ میں اپنے باطن کی اتھا ہ گہرائیوں میں جا کر اپنے اللہ کو سنا جاتا ہے اور کائنات کی حقیقت سے نہ صرف شناسا ہوا جاتا ہے بلکہ مشاہدۂ قدرت بھی کیا جاتا ہے۔ مراقبہ کا مقصد صرف اور صرف اپنے جسم، جذبات ،اور ذہن کو یکجا کرنا ہے اور اس اعلی درجے کی یکسوئی کا مقصد صرف اپنے باطن میں موجزن آگہی کے بحر بیکراں میں غوطہ زن ہونا ہے یہیں سے کشف و وجدان کے دھارے پھوٹتے ہیں ۔ اسطرح ایک انسان کا رابطہ کائنات کی اصل سے جڑ جاتا ہے اور علم و عر فان کے چشمے پھوٹ پڑ تے ہیں ۔
    مراقبہ کیا ہے اور کیوں کیا جاتا ہے کہ ضمن میں بابا اشفاق احمدمرحوم فرماتے ہیں کہ کوئی ایسی مشین یا آلہ ایجاد نہیں ہوا، جو کسی بندے کو لگا کر یہ بتایا جا سکے کہ میں کیا ہوں؟ یا یہ کہ میں کون ہوں؟ اس کے لئے انسان کو خود ہی مشین بننا پڑتا ہے اور خود ہی جانچنے والا۔ اس میں آپ ہی ڈاکٹر ہے، آپ ہی مریض ہے۔ یعنی آپ‌ اپنا سراغ رساں خود ہوں اور اس سراغ رسانی کے طریقے بھی آپ کو خود ہی سوچنے ہیں کہ میں اپنے بارے میں کیسے پتا کرسکوں۔ اپنی اس ذات (خودی ) جوکہ ایک خوبصورت پارس ہے اور وہ ہم سب کے اندر موجود ہے کو جاننے کے لئے سب سے بڑی رکاوٹ خیالات کا وہ انبار ہے جو خودی کے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں، جیسے گڑ کی ڈلی کے اوپر مکھیاں آ چمٹتی ہیں یا پرانے زخموں پر بھنبھناتی ہوئی مکھیاں آ کر چمٹ جاتی ہیں، اس خودی کو تلاش کرنے کے لئے، اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے لوگ (مراقبہ) کرتے ہیں۔ خدا تعالٰی نے اپنی روح ہمارے اندر پھونک رکھی ہے۔ ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ اس سے فائدہ اٹھائیں اس کی خوشبو ایک بار لیں، اس کے لئے لوگ تڑپتے ہیں اور لوگ جان مارتے ہیں۔ وہ خودی جو اللہ کی خوشبو سے معطّر ہے اس کے اوپر خیالات کا ایک بڑا بوجھ پڑا ہوا ہے۔ یہ خیالات کا انبارکسی بھی صورت میں خودی کو تنہا نہیں چھوڑتے ہیں۔ ان خیالات کے انبار کو اس سے ہٹانے کے لئے مراقبے کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔
    حضرت خواجہ شاہ محمد عبدالصمد ؒ اپنی تصنیف اصطلاحات صوفیاء میں تحریر فرماتے ہیں کہ مراقبہ کی چار قسمیں ہیں۔ (۱) مراقبہ ناظرہ، وہ یہ ہے کہ سالک تصورکرئے کہ حق تعالیٰ سبحانہ میری صورت پر ظاہر ہے اور حق تعالیٰ کے افعال کا میں آلہ ہوں یہ مراقبہ فنا ِ ذات کے بعد ہوتا ہے۔ (۲) مراقبہ ِحضوری یعنی سالک تصور کرئے کہ میں اللہ تعالیٰ کو آنکھ سے دیکھتا ہوں، اس ہی کے کان سے سنتا ہوں اور اسی کے پیر سے چلتا ہوں یہ قرب نوافل ہے۔ (۳) مراقبہ جمع یعنی سالک ذرہ ذرہ میں حق سبحانہ کا مشاہدہ کرئے ۔ (۴) مراقبہ ِ جمع الجمع یعنی سالک حق اور خلق کو ایک جانے کسی قسم کی دوئی اور غیریت باقی نہ رہے۔ سید غوث علی شاہ قلندر قدس سرہ کی تعلیمات کے مطابق سالک جب نماز و ذکر سے فارغ ہو تو مراقبہ کرئے تاکہ توحید میں فنا حاصل ہو۔
    مراقبہ کرتے وقت آنکھ بند ، زبان تالو سے چپکی ہوئی ہو نی چاہیں، ٹھوڑی سینہ پر جھکی ہوئی ہو، کمر سیدھی دونوں ہاتھ زانوں پر نماز کی نششت یا چار زانوں ہوجایا جائے اور تصور کیا جائےکہ قلب پر ( اللہ)سورج کی طرح درخشاں و تاباں تحریر ہے اور اس کی تابانی میں اضافہ ہورہا ہے ۔ اسم اللہ کو ملا حظ کرتے وقت جل جلالہ بھی خیال میں دھرایا جائے۔پھر اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ کاتصور کریں کہ قلب پر دونوں نشان پستان کے درمیاں (محمد ﷺ ) چاند کی طرح روشن لکھا ہے اور سینے میں ٹحنڈک آرہی ہے ساتھ ہی صل اللہ علیہ وسلم دل میں دہراتے جائیں۔ ان تصورات کے قائم ہوجانے کے بعد اس کلمہ، آیت یا اسم کے معنی کا تصور کرئے جس کا وہ مراقبہ کررہا ہے اور اس میں محو درمحو ہوجائے۔
    صوفیاء اکرام فرماتے ہیں کہ ایک سالک کو عام طور پر مراقبہ محبت حق کرنا چاہیے یعنی یہ کہ حق تعالیٰ کو مجھ سے محبت ہے اور حق تعالیٰ مجھ کو بہت چاہتا ہے ۔ اس مراقبے سے بندہ خواہ کیسی پریشانی اور مصیبت میں ہو جہاں یہ مراقبہ کیا سب رفو چکر ہوجاتی ہیں۔ آیت کریمہ ألَم یَعلَم بأنَّ اللهَ یَری ( کیا اس کو خبر نہیں اللہ دیکھا رہا ) کا مراقبہ یہ ہےکہ تصور کرئے کہ اللہ تعالیٰ میرے ظاہر وباطن پر مطلع ہے اور کوئی بات کسی وقت اس سے پوشیدہ نہیں ، اس مراقبے سے وہ دھیان بندھنے لگے گا کہ پھر کوئی کام اللہ کی مرضی کے خلاف اس سے نہیں ہوگا۔ آیت ربانی کلُّ مَنْ عَلیها فَان وَ یبقَی وَجْهُ رَبَّک ذوالجلالِ والاکرامِ (جو کچھ زمین پر ہے فانی ہے اور تیرے رب کی ذات باقی رہے گی جو صاحب بزرگ اور انعام والا ہے۔ یہ مراقبہ کرتے وقت تمام موجودات کی فنا اور اس ذات بحت کی بقا کا تصور کرئے اور دل کی آنکھوں سے اُس کو دیکھے اور اس میں مستغرق ہوجائے تاکہ یہ معنی احسن طریقہ سے جلوہ گرہوجائیں اور سالک کو عقل وعلم کا اضمحلال (پژمردگی) حاصل ہوجائے۔
    مناسب یہ ہے کہ یہ مراقبات کسی واقف تجربہ کار استاد جس کو پیر یا مرشد کہا جاتا ہے کی نگرانی میں کیے جائیں تو بہتر ہے۔
Share.