جمعہ کی فضیلت . حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، سَمِعَ جَعْفَرَ بْنَ عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعُمَيْسِ ، أَخْبَرَنَا قَيْسُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْيَهُودِ ، قَالَ لَهُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، آيَةٌ فِي كِتَابِكُمْ تَقْرَءُونَهَا لَوْ عَلَيْنَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ نَزَلَتْ لَاتَّخَذْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا ، قَالَ : أَيُّ آيَةٍ ؟ قَالَ : الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلامَ دِينًا سورة المائدة آية 3 ، قَالَ عُمَرُ : قَدْ عَرَفْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ وَالْمَكَانَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَائِمٌ بِعَرَفَةَ يَوْمَ جُمُعَةٍ .

جمعہ کی فضیلت .ایک یہودی نے ان سے کہا کہ اے امیرالمؤمنین ! تمہاری کتاب ( قرآن ) میں ایک آیت ہے جسے تم پڑھتے ہو ۔ اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوتی تو ہم اس ( کے نزول کے ) دن کو یوم عید بنا لیتے ۔ آپ نے پوچھا وہ کون سی آیت ہے ؟ اس نے جواب دیا ( سورۃ مائدہ کی یہ آیت کہ ) ” آج میں نے تمہارے دین کو مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی اور تمہارے لیے دین اسلام پسند کیا ۔“
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم اس دن اور اس مقام کو ( خوب ) جانتے ہیں جب یہ آیت رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی ( اس وقت ) آپ ﷺ عرفات میں جمعہ کے دن کھڑے ہوئے تھے ۔

Sahih Bukhari#45
کتاب ایمان کے بیان میں Status: صحیح

جمعہ کی فضیلت ہم جب بھی کوئی اہم کام کرنا چاہتے ہیں تو وہ ہم جمعے کو کرنا پسند کرتے ہیں تاکہ جمعے کی برکت سے ہیمیں کامیابی ملے

حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ المُغِيرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ الْعَدَوِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ السَّمَّانُ ، قَالَ : رَأَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ يُصَلِّي إِلَى شَيْءٍ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ ، فَأَرَادَ شَابٌّ مِنْ بَنِي أَبِي مُعَيْطٍ أَنْ يَجْتَازَ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَدَفَعَ أَبُو سَعِيدٍ فِي صَدْرِهِ فَنَظَرَ الشَّابُّ فَلَمْ يَجِدْ مَسَاغًا إِلَّا بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَعَادَ لِيَجْتَازَ فَدَفَعَهُ أَبُو سَعِيدٍ أَشَدَّ مِنَ الْأُولَى فَنَالَ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ ، ثُمَّ دَخَلَ عَلَى مَرْوَانَ فَشَكَا إِلَيْهِ مَا لَقِيَ مِنْأَبِي سَعِيدٍ ، وَدَخَلَ أَبُو سَعِيدٍ خَلْفَهُ عَلَى مَرْوَانَ فَقَالَ : مَا لَكَ وَلِابْنِ أَخِيكَ يَا أَبَا سَعِيدٍ ؟ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى شَيْءٍ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ ، فَأَرَادَ أَحَدٌ أَنْ يَجْتَازَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلْيَدْفَعْهُ ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ .

نبی کریم ﷺ نے فرمایا ( دوسری سند ) اور ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے سلیمان بن مغیرہ نے ، کہا ہم سے حمید بن ہلال عدوی نے ، کہا ہم سے ابوصالح سمان نے ، کہا میں نے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو جمعہ کے دن نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ۔ آپ کسی چیز کی طرف منہ کئے ہوئے لوگوں کے لیے اسے آڑ بنائے ہوئے تھے ۔ ابومعیط کے بیٹوں میں سے ایک جوان نے چاہا کہ آپ کے سامنے سے ہو کر گزر جائے ۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے اس کے سینہ پر دھکا دے کر باز رکھنا چاہا ۔ جوان نے چاروں طرف نظر دوڑائی لیکن کوئی راستہ سوائے سامنے سے گزرنے کے نہ ملا ۔ اس لیے وہ پھر اسی طرف سے نکلنے کے لیے لوٹا ۔ اب ابوسعید رضی اللہ عنہ نے پہلے سے بھی زیادہ زور سے دھکا دیا ۔ اسے ابوسعید رضی اللہ عنہ سے شکایت ہوئی اور وہ اپنی یہ شکایت مروان کے پاس لے گیا ۔ اس کے بعد ابوسعید رضی اللہ عنہ بھی تشریف لے گئے ۔ مروان نے کہا اے ابوسعید رضی اللہ عنہ آپ میں اور آپ کے بھتیجے میں کیا معاملہ پیش آیا ۔ آپ نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا ہے آپ نے فرمایا تھا کہ جب کوئی شخص نماز کسی چیز کی طرف منہ کر کے پڑھے اور اس چیز کو آڑ بنا رہا ہو پھر بھی اگر کوئی سامنے سے گزرے تو اسے روک دینا چاہیے ۔ اگر اب بھی اسے اصرار ہو تو اس سے لڑنا چاہیے ۔ کیونکہ وہ شیطان ہے ۔

Sahih Bukhari#509
کتاب نماز کے احکام و مسائل Status: صحیح

جمعہ ایک اہم ترین اسلامی عبادات میں سے ایک ہے اور اسے اس کے واجب عبادات میں شمار کیا جاتا ہے۔[4] جمعہ مبارک کا لفظی معنی ہے مبارک جمعہ، جہاں جمعہ کا مطلب ہے  اسلامی عقائد کے بنیادی حصے کے طور پر”جمعہ” اور مبارک کا ترجمہ “مبارک” ہے۔ مسلمان ہفتہ وار نماز جمعہ کو دوپہر کے وقت اداکرتےہیں

1. DUROOD-E-IBRAHIMI

ALLAHUMMA SALLI ALA MUHAMMADIW WA ALA AALI MUHAMMADIN KAMAA SALLAITA ALA IBRAHIMA WA ALA AALI IBRAHIMA INNAKA HAMIDUM MAJID. ALLAHUMMA BAARIK ALA MUHAMMADIW WA ALA AALI MUHAMMADIN KAMAA BAARAKTA ALA IBRAHIMA WA ALA AALI IBRAHIMA INNAKA HAMIDUM MAJID.

ALLAHUMMA SALLI ALA MUHAMMADIW WA ALA AALI MUHAMMADIN KAMAA SALLAITA ALA IBRAHIMA WA ALA AALI IBRAHIMA INNAKA HAMIDUM MAJID. ALLAHUMMA BAARIK ALA MUHAMMADIW WA ALA AALI MUHAMMADIN KAMAA BAARAKTA ALA IBRAHIMA WA ALA AALI IBRAHIMA INNAKA HAMIDUM MAJID.

“O Allah, let Your Blessings come upon Muhammad and the family of Muhammad, as you have blessed Ibrahim and his family. Truly, You are Praiseworthy and Glorious. Allah, bless Muhammad and the family of Muhammad, as you have blessed Ibrahim and his family. Truly, You are Praiseworthy and Glorious”.

The famous companion of the Prophet (sallal laahu alaihi wasallam), Hadrat Ka’ab bin Ujrah (radi Allahu anhu), narrates that once it was enquired from Sayyiduna Rasoolullah (sallal laahu alaihi wasallam) as to how blessings should be sent to him. The Prophet (sallal laahu alaihi wasallam) replied that the blessings be said in the manner (it has been mentioned) above, that is, Durood-e-Ibrahimi.

 

Share.