حقیقت کی تصویر کو شکل دینے میں روح کا کردار

مقدمہ

روح ایک تصور ہے جس پر دورِعصر فلاسفہ، دینی علماء اور سائنسیوں نے صدیوں سے غور کیا ہے۔ اسے عموماً جوان جیون کو زندگی بخشنے والی غیر مادی موجودگی یا توانائی کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے اور یقین کیا جاتا ہے کہ یہ مادی عالم کے پار موجود ہوتا ہے۔ روح کو ہمارے وجود کا مرکز، ہماری حقیقت کا جوہر کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ وہ حصہ ہے جو ہمارے بننے کا جزو ہے، ہم کو ہماری خود سے کچھ زیادہ موجود کھنچتا ہے، سائیں کوئی اعلی قوت ہو، یا کائنات یا جمع ذہانت ہو۔

روح کا پرائے پرائے تصویر پر اثر بہت گہرا ہے۔ ہماری حقیقت کی تصویر صرف ہماری مادی حواس کی بنیاد پر نہیں ہوتی بلکہ ہمارے عقائد، قیمتیں اور تجربات کے ذریعے بھی شکل پاتی ہے۔ روحانیت ہماری تصویر کو شکل دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہے کیونکہ یہ ہمیں ایک چارچا پیش کرتی ہے جس کے ذریعے ہم دنیا کو تشریح کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں۔ یہ ہمیں سطح کی آگے دیکھنے اور زندگی کی گہری معنی اور مقصد میں ڈوبنے کی اجازت دیتی ہے۔

روح اور شعور

روح اور شعور کی مضبوط تعلقات ہیں۔ شعور کو اپنے وجود کی آگاہی کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے اور دنیا کو ہماری تجربات کو سمجھنے کے ذریعے تجربہ کیا جاتا ہے۔ روح، دوسری طرف، مادی عالم کو پار کرنے والے ہمارے وجود کی عنصر ہے۔

روح ہماری آگاہی اور دنیا کی سمجھ کو بڑھانے کے ذریعے ہماری تصویر پر اثر ڈالتی ہے۔ جب ہم اپنی روح سے جڑتے ہیں تو ہم اپنی حدودی حقیقت کی تصویر سے آگے جاتے ہیں۔ یہ بڑھی شعور کی حالت سے ہمیں چیزوں کو زیادہ وسیع منظر سے دیکھنے اور وہ تجربے حاصل کرنے کی اجازت دیتی ہے جو ہمیں روزمرہ کی حالت کی عقلیی صورتِحال میں دستیاب نہیں ہوتے ہیں۔

قدیم مصر کے لوگوں کا خیال تھا کہ موت کے بعد انسان ایک لمبے سفر پر نکل جاتا ہے۔ ان کا خیال تھا کہ یہ سفر بہت کٹھن ہوتا ہے جس میں وہ سورج کی دیوتا (جسے مصری را کہتے تھے) کی کشتی پر سوار ہو کر ‘ہال آف ڈبل ٹروتھ’ تک پہنچتا ہے۔

اساطیر کے مطابق سچائی کا پتا لگانے والے اس ہال میں روح کے اعمال کو جانچا جاتا ہے اور اس کی بنیاد پر فیصلہ کیا جاتا ہے۔

یہاں حق اور انصاف کی دیوی کے قلم کے وزن کا موازنہ انسان کے دل کے وزن سے کیا جاتا ہے۔ قدیم مصریوں کا خیال تھا کہ انسان کے سارے اچھے اور برے اعمال اس کے دل پر لکھے ہوتے ہیں۔

اگر انسان نے ایمانداری سے زندگی گزاری ہے تو اس کی روح کا وزن پنکھ کی طرح ہلکا ہوگا اور اسے مصری خدا اوسائرس کی جنت میں سدا کے لیے جگہ مل جائے گی۔

روح کا وزن

اس تحقیق سے متعلق ایک مضمون نیو یارک ٹائمز میں مارچ سنہ 1907 میں شائع ہوا تھا جس میں یہ واضح طور پر لکھا گیا تھا کہ ڈاکٹروں کے خیال میں روح کا بھی ایک خاص وزن ہوتا ہے۔ اس میں ڈاکٹر ڈنکن میک ڈوگل کے نام کے ایک فزیشین کے تجربات کے بارے میں بات کی گئی تھی۔

سنہ 1866 میں سکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں پیدا ہونے والے ڈاکٹر ڈنکن بیس سال کی عمر میں امریکہ کی ریاست میساچوسٹس منتقل ہوگئے تھے۔

انھوں نے یونیورسٹی آف ہیوسٹن کے سکول آف میڈیسن سے اپنی تعلیم مکمل کی اور اپنی زندگی کا بیشتر حصہ ہیورل شہر کے ایک رفاہی ہسپتال میں لوگوں کے علاج معالجے میں صرف کیا۔

اس ہسپتال کے مالک ایک تاجر تھے جن کا کاروبار بنیادی طور پر چین کے ساتھ تھا۔ چین سے وہ ایک اہم چیز، ‘فیئربینک کا ترازو’ لائے تھے۔

یہ ترازو پہلی بار سنہ 1830 میں بنایا گیا تھا اور اس سے بڑی بڑی اشیا کا درست وزن کرنا آسان تھا۔

ڈاکٹر ڈنکن جہاں کام کرتے تھے وہاں آئے دن لوگوں کی موت واقع ہوتی اور ہسپتال میں وزن کرنے والی مشین دیکھ کر ان کے ذہن میں انسانی روح کا وزن کرنے کا خیال ابھرا۔

نیویارک ٹائمز میں شائع مضمون کے مطابق اس واقعے کے چھ سال بعد تحقیق کا موضوع عوام کے سامنے آیا جو یہ تھا کہ ‘انسان کی موت کے بعد جب اس کی روح جسم سے الگ ہو جاتی ہے تو اس کی وجہ سے جسم میں کیا بدلاؤ آتا ہے؟’

ان کی تحقیق کا مقصد قدیم مصریوں کے اعتقاد کو ثابت کرنا یا مصر کے دیوی دیوتاؤں کے بارے میں کچھ جاننے کے لیے نہیں تھا لیکن تحقیق کا موضوع اس قدیم عقیدے سے مطابقت رکھتا تھا۔

آپ سمجھ سکتے ہیں کہ انھوں نے اپنی تحقیق کی ابتدا ہی اس بات سے کی کہ مرنے کے بعد روح انسانی جسم سے جدا ہوجاتی ہے۔ یعنی وہ روح کے ہونے یا نہ ہونے پر سوال نہیں کررہے تھے۔ لیکن ان کی تحقیق کے نتیجے میں سائنسی سطح پر اس چیز کو تسلیم کرنے کا امکان موجود تھا۔

Share.