خالق اللہ ہے۔ کائنات مخلوق ہے۔ تخلیق کا مرحلہ پیش آنے کے بعد انسان کو یہ علم حاصل ہوا کہ کائنات میں انسان ایسا فرد ہے جو ایک طرف لامتناہیت اور دوسری طرف تناہیت ہے۔ انسانی شعور کا تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ انسان کا شعور پہلے دن سے رنج و راحت کا خوگر ہے۔ پیدائش عمل خود ایک تکلیف ہے۔ لیکن یہ تکلیف برداشت ہے کیونکہ اس کا ردعمل راحت ہے۔ تکلیف اور راحت دونوں حواس پیدائش کے بعد بچے کو منتقل ہو جاتے ہیں۔

کسی چیز کا حاصل ہونا راحت ہے اور کسی چیز سے محروم ہونا رنج ہے۔ انسان ابتدائے آفرینش سے سرگرداں ہے کہ اسے رنج و راحت کی وجہ معلوم ہو جائے۔ تا کہ وہ رنج سے محفوظ رہے اور راحت کو برقرار رکھ سکے۔ ہر انسان کی طبعی خواہش ہوتی ہے کہ راحت کی زندگی بسر کرے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ راحت کو ضائع کرنا نہیں چاہتا چونکہ وہ راحت کو ضائع نہیں کرنا چاہتا اس لئے راحت کے ضائع ہونے کا خوف بھی اس کے دل سے نہیں نکلتا وہ کسی نہ کسی طرح رنج سے دور رہنے اور راحت سے قریب ہونے کی ضمانت چاہتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ زندگی میں حادثات پیش آتے ہیں، پریشانیاں لاحق ہوتی ہیں لیکن انسان کمزوریوں کے سبب پریشانیوں پر قابو نہیں پا سکتا۔ جب انسان خود کو حوادث پر قابو پانے کے لائق نہیں سمجھتا تو وہ حوادث محفوظ رہنے کے لئے کسی ایسی طاقت کا سہارا ڈھونڈتا ہے جس سے اس کو راحت کی ضمانت مل سکے۔ یہی تلاش ہے جسے عقیدہ کا نام دیا دیا جاتا ہے۔

انسان کی بنیادی ضرورت ہے کہ وہ کسی نہ کسی عقیدے پر زندگی گزارے۔جب وہ پریشانیوں میں مبتلا ہو جاتا ہے اور اس کے ذہن پر یہ خیال غلبہ حاصل کر لیتا ہے کہ کوئی ایسی ہستی ضرور ہے جس ہستی سے تعلق قائم کر لینے کے بعد انسان حوادث سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ حوادث سے محفوظ رہنے کا جذبہ ہی انسان کو کوئی نہ کوئی عقیدہ رکھنے پر مجبور کرتا ہے۔

انسان کے اندر خوشی کے جذبات ہوں یا تکلیف کے جذبات۔ محدود اور عارضی ہوتے ہیں۔ مستقل نہیں ہوتے۔ ایک آدمی جو آج پریشان ہے لازماً کل خوش ہو گا۔ ایک آدمی جو آج خوش ہے کل پریشان ہو سکتا ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس سے انسان کسی طرح چھٹکارا حاصل نہیں کرسکتا ہے۔رات  دن کا مشاہدہ ہےکہ کوئی آدمی رنج اور راحت سے بے نیاز نہیں ہوا البتہ وہ خود اعتمادی کا دعویٰ کر سکتا ہے۔ خود اعتمادی کا دعویٰ اس بات کا ثبوت فراہم کرتا ہے کہ کوئی انسان رنج و راحت سے بے نیاز ہو گیا ہے۔ البتہ غیب پر ایمان لانے کے بعد اسے بہتری کا یقین ہو جاتا ہے۔ وہ غیب پر یقین لانے کے بعد سمجھ لیتا ہے کہ جس طاقت کے ہاتھ میں میری زندگی ہے اس کے قبضہ قدرت میں پوری کائنات ہے۔ یہ بات اسے زمین پر موجود مخلوقات کی زندگی کا مطالعہ کرنے کے بعد حاصل ہوتی ہے۔ وہ یقین کر لیتا ہے کہ غیب پر ایمان لانا بہتری کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ غیب پر ایمان لانے کے معانی یہ ہیں کہ غیب بہتر ہی بہتر ہے۔ اس لئے کہ غیب اللہ رحیم و کریم کے ہاتھ میں ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔

ترجمہ: اور کسی آدمی کی حد نہیں کہ اس سے باتیں کرے اللہ مگر اشارہ سے یا پردہ کے پیچھے سے بھیجے پیغام لانے والا۔ (سورہ الشوریٰ آیت ۵۱)

اس آیت مبارکہ میں اس بات کی وضاحت کر دی گئی ہے کہ انسانی حواس کی رسائی اتنی ہے کہ وہ اللہ سے ہمکلام ہو سکتا ہے۔ البتہ ہمکلام ہونے کے طریقے اور راستے ہیں لیکن حواس کی رسائی اتنی ہے کہ انسان اللہ سے مخاطب ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے گفتگو کرتے ہیں تو اس کا طریقہ یہ ہے۔

اللہ تعالیٰ اشارے سے مخاطب کرتے ہیں یا پردے کے پیچھے سے باتیں کرتے ہیں یا فرشتے کے ذریعے سے باتیں کرتے ہیں۔

حواس کی رسائی اتنی ہے کہ جب اللہ مخاطب کرتے ہیں تو انسان کی حس جسے بصارت کہتے ہیں، اللہ کے پیغام لانے والے کو دیکھ لیتی ہے۔

اللہ تعالیٰ کسی اور طرح اپنے بندے پر رونمائی کرتے ہیں اس طرز کا نام حجاب ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نور علی ٰنور صورت میں بندہ پر جلوہ فرماتے ہیں۔ یہ جمیل صورت اللہ نہیں حجاب ہے۔ اس لئے کہ جب بھی صورت کا تذکرہ آئے گا تناہیت زیر بحث آ جائے گی اور اللہ تعالیٰ تناہیت سے ماوراء ہیں لیکن اللہ تعالیٰ جب اپنی صفات میں جلوہ فرماتے ہیں تو بندہ خدوخال میں اللہ کو دیکھتا ہے۔ یہ خدوخال اللہ کی ذات نہیں بلکہ اللہ کی صفات ہیں۔

انسانی حواس کسی نقطے پر ٹھہر جاتے ہیں۔ اس ٹھہراؤ کا نام شئے ہے اور ہر شئے شکل وصورت رکھتی ہے۔ جب حواس کسی طرف اشارہ کرتے ہیں تو اندرونی خدوخال کو بیرونی بنا دیتے ہیں۔ جب حواس خود کا اعلان کرتے ہیں اور کہتے ہیں”میں’’  تو یہ”میں’’ صرف خلاء ہے۔ گویا حواس اپنے نقش و نگار کی طرف اشارہ نہیں کر رہے بلکہ ایک بے رنگ شئے کا تذکرہ کر رہے ہیں جو صرف خاکہ ہے۔

حواس”میں’’ کی رنگینیوں اور نقش و نگار کی طرف اشارہ کرتے ہیں تو کہتے ہیں میں نے یہ کہا۔ میں نے وہ کیا۔ دیکھو یہ چاند یہ ستارے ہیں یہ چاند اور ستارے وہ ہیں جن کی طرف میں اشارہ کر رہا ہوں۔ اس طرز میں حواس اپنی ذاتی حرکت کو قریب یا بعید دیکھتے ہیں۔ یہ حواس ہی فرد کے اندر‘‘میں’’ بن جاتے ہیں۔ اور قریب و بعید اشارہ کے ذریعے اپنی تکرار کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔

‘‘کیا نہیں پہنچا انسان پر ایک زمانے میں جو تھا شئے بغیر تکرار کیا ہوا۔’’
کبھی انسان ایسا وقت (حواس) تھا جس میں تکرار نہیں تھی۔ پھر ایسا وقت ہوا جس میں تکرار ہے۔
یہاں دو ایجنسیاں بن گئیں۔
۱۔ حواس
۲۔ حواس کی تکرار

یہ دونوں ایجنسیاں ایک یونٹ ہیں۔ اس کی وضاحت قرآن پاک میں سورہ آل عمران آیت ۲۷ میں موجود ہیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنا دستورالعمل بیان فرمایا ہے۔ اللہ رات کو داخل کرتا ہے دن میں اور دن کو داخل کرتا ہے رات میں۔ زندگی کو موت سے نکالتا ہے اور موت کو زندگی سے نکالتا ہے۔

رات حواس کی ایک نوع ہے اور دن حواس کی دوسری نوع ہے۔ رات کے حواس کی نوع میں مکانی اور زمانی فاصلے مردہ ہو جاتے ہیں لیکن دن کے حواس کی نوع میں یہی فاصلے زندہ ہو جاتے ہیں۔ اگر ہم اس بات کی مزید تشریح کریں تو یوں کہیں گے کہ زندگی اور موت رات اور دن۔ شعور اور لاشعور میں الٹ پلٹ ہو رہے ہیں۔

رات کے حواس دن میں داخل ہو جاتے ہیں اور دن کے حواس رات میں داخل ہو جاتے ہیں۔

ایک حواس پر اسپیس اور ٹائم کی پابندی غالب ہے۔ دوسرے حواس پر ٹائم اسپیس کی پابندی نہیں۔

ہم جب زندگی کا تجزیہ کرتے ہیں تو پیدائش سے موت تک ہم روزانہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ ہر روز دن اور ہر روز رات ہوتی ہے۔ ہم روزانہ ایک ہی ڈیوٹی انجام دیتے ہیں۔ ایک ہی طرح کا کھانا کھاتے ہیں لیکن ہر کھانے کو نیا کھانا کہتے ہیں۔ روزانہ جس گاڑی میں دفتر جاتے ہیں اس ہی گاڑی پر برسوں سفر کرتے ہیں۔ اس کے باوجود ہر دن کو نیا دن اور ہر دن کے عمل کو نیا عمل قرار دیتے ہیں۔ یہ محض حواس کی کمزوری ہے۔حواس ایک ہی ہیں لیکن ان میں تکرار ہو رہی ہے۔

حواس میں تکرار دو طرح ہو رہی ہے۔ حواس جب دن میں کام کرتے ہیں تو ہم دن کہتے ہیں اور یہی حواس جب رات میں کام کرتے ہیں تو ہم رات کہتے ہیں۔ فرق اتنا ہے کہ رات کے حواس کی نوع میں مکانی و زمانی فاصلے مردہ ہو جاتے ہیں اور دن کے حواس میں زمانی و مکانی فاصلے زندہ ہو جاتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔

وہی ہے جو زندگی کو موت سے نکالتا ہے اور موت کو زندگی سے نکالتا ہے۔

Share.