روحانیت اور تجربہء بیرون جسم

تخلیۂ روح یا تخلیۃ الروح (spirit walking) سائنسی و طبیعیاتی مشاہدات کے بالعکس مابعدالطبیعیات اور مذہب سے متعلقہ ادب میں پایا جانے والا ایک تصور ہے جسے خروج الروح، تظل الروح، پرواز روح اور مسقط الروح یا اسقاط النجمی (astral projection) بھی کہا جاتا ہے۔ علم نفسیات میں اس کی حیثیت تجربۂ بیرون جسم (OBE) کی مانی جاتی ہے۔ یہاں پرواز روح کی عبارت کو اردو میں کہی جانے والی روح پرواز کرگئی کی عبارت سے تفریق کرنا لازم ہے جس کے معنی موت کے ہی لیے جاتے ہیں جبکہ اس مضمون میں اگر پرواز روح کا کلمہ آیا ہے تو اس کے معنی اس انسانی تجربے کے ہیں جس میں اسے اپنی روح یا اپنا نفس اپنے مادی جسم سے الگ پرواز کرتا ہوا محسوس ہوتا ہے یا نظر آتا ہے، یعنی یہاں پرواز روح کا کلمہ موت کو بیان نہیں کرتا بلکہ ایک مظہر یا تجربۂ ذاتی کے بارے میں ہے۔

اقسام

تجربہء بیرون جسم کی بھی کی اقسام ہیں اور اس کی توجیہات مختلف ہوسکتی ہیں۔ ذیل میں اس کی مختلف توجیہات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

دورانِ نیند

نیند کے دوران جب انسان سوتا ہے تو بیشتر انسان خواب دیکھتے ہیں اور ان خوابوں میں وہ خود کو کسی اور جگہ گھومتے، پھرتے دیکھتے ہیں جبکہ اس کا مادی جسم اپنی جگہ متمکن ہوتا ہے۔ یہ بھی تجربہء بیرون جسم کی ہی ایک صورت ہے۔ خواب میں نظر آنے والی یا گھومنے والی شبیہہ سے خواب دیکھنے والے کو یہ گمان گزرتا ہے کہ وہ خود ہے جبکہ وہ انسان خود نہیں ہوتا بلکہ روحانیت یا تصوف کے نقطہء نظر سے یہ انسانی نفس ہوتا ہے جو نیند کے دوران شیطانی محافل میں شریک ہوتا ہے۔ نفس کا ذکر قرآن پاک میں بھی آیا ہے، اس کی بھی مختلف اقسام ہوتی ہیں جن کا قرآن میں ذکر ہے:

روحانیت کے رو سے ہر انسان میں اللہ تعالٰیٰ نے سولہ (16) باطنی مخلوقات رکھی ہیں،[1] جن میں سے نفس دنیا میں آنے کے بعد اس ناسوتی دنیا کے اثر سے زیادہ قوی ہوتا ہے لیکن پاکیزہ زندگی گزارنے والوں کے نفس پاک ہوجاتے ہیں، تاہم اس کے لیے اُنہیں سخت عبادات، ریاضات و مجاہدوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر ولی کچھ عرصے کے لیے جنگلوں، بیابانوں میں چلہ کشی کے لیے جاتے ہیں تاکہ اپنے اندر کی کثافت و آلودگی کو ختم کرنے کے لیے سخت مجاہدوں اور ریاضتوں سے بلا کسی مداخلت گزر سکیں۔ جیسا کہ شیخ عبدالقادر جیلانی، لعل شہباز قلندر، بوعلی شاہ قلندر، رابعہ بصری وغیرہ روحانیت و تصوف کی دنیا میں پہلی بار نہ صرف انسان میں موجود ان باطنی مخلوقات کی بھرپور تشریح و وضاحت کی بلکہ نفس کو پاک کرنے اور ان باطنی مخلوقات کو بیدار کرنے کا طریقہ بھی بتایا۔ اس سے قبل تمام اولیاء اللہ کی تعلیمات و تصانیف میں ان انسانی باطنی مخلوقات کا محض تذکرہ ملتا تھا[2] لیکن ان مخلوقات کی نہ صرف پوری وضاحت، اعمال، افعال، اشکال، رنگ ۔ نفس، لطائف اور جُسے انسانی باطنی مخلوقات ہیں، جن میں نفس ناپاک ہوتا ہے، جب تک نفس ناپاک رہتا ہے، نفس آزاد ہوتا ہے اور باقی مخلوقاتِ روحانی خوابیدہ ہوتی ہیں، جب یہ نفس پاک ہوجاتا ہے تو نور کی خوارک ملنے کے سبب یہ مخلوقات بھی قوی ہوجاتی ہیں اور اس بات پر قادر ہوجاتی ہیں کہ انسانی جسم سے باہر نکل سکیں۔ پھر ایسا شخص جب نماز پڑھتا ہے تو اس کی باطنی مخلوقات، اس کی امامت میں نماز پڑھتی ہیں اور یہ تجربہء بیرون جسم کی ہی مثال ہے۔

حوالہ جات
“کتاب:مخزن الاسرار، مصنف حضرت فقیر نور محمد سروری قادری کلانچوی”. 06 اگست 2009 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 14 جنوری 2009.
“کتاب:حق نمائے نور الہُدٰی، مصنف حضرت سخی سلطان باھو”. 12 فروری 2009 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 14 جنوری 2009.

Share.