روحانیت اور روحانی لوگ
پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی روحانیت کے سفر کے بارے میں ایک نشست میں سیدقاسم علی شاہ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میری طبیعت میں شروع ہی سے کھوج ، تلاش اور جستجو رہی اسی کھوج کی وجہ سے میں نے ایم ۔اے ، سی۔ایس۔ایس اور بہت سے کام کیے لیکن اسکے باوجو د میرے اندر جو پیاس تھی وہ بجھ نہ سکی لیکن جیسے ہی میری روحانیت سے شناسائی ہوئی تو مجھے پتا چلا کہ جس چیز کی مجھے پیاس تھی وہ تو یہ ہے۔ جب میں نے روحانیت کے سفر کا آغاز کیا تو مجھے بہت لوگ ملے لیکن ان میں اکثریت ایسے لوگوں کی تھی جنہوں نے روحانیت کا لبادہ اوڑھ رکھا تھا ۔ جب مجھےان سے کچھ نہ ملا تو پھر میں نےصوفیا کرام کی زندگی کا مطالعہ کیا ۔ سب سے پہلے میں نے قوت القلوب کو پڑھا پھر رسالہ قشیریہ ، احیاالعلوم، کمیائے سعادت، مثنوی مولاناروم ، فتوحات مکیہ اور اس کے علاوہ حضرت واصف علی واصفؒ اور جتنا بھی لوکل لٹریچر تھا اس کا مطالعہ کیا اس کے علاوہ تصوف کے اوپر جتنا بھی غیر مسلم لٹریچر تھا اس کا بھی مطالعہ کیا۔ یہ سب کچھ پڑھنے کے بعد مجھے ایک بات کی سمجھ آئی کہ جتنے بھی صوفیائے کرام تھے انہوں نے سب سے زیادہ جس بات کا تذکرہ کیا وہ تزکیہ نفس تھا۔ یوں میں نے اپنی روح اور جسم کو پاک کر نے کے لیے مراقبہ ، ریاضت اور مجاہدہ کرنا شروع کر دیا پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ راستہ دکھایا جو صراطِ مستقیم کی طرف جاتا ہے ۔
روحانیت کے حوالے سے لوگوں میں یہ غلطی فہمی پائی جاتی ہے کہ کوئی ایسا شخص جس کامخصوص لباس ہو، خوشبو لگائی ہو، انگوٹھیاں پہنی ہوں ، لمبے بال ہوں وہ ہی روحانی ہوتا ہے حالانکہ روحانیت لباس ، وضع قطع کا نام نہیں ہے ۔ انسا ن روح اور جسم کا مرکب ہے وہ جسم کے تقاضے تو پورے کرتا رہتا ہے لیکن روح جو کہ اصل ہے اس کی طرف اس کا دھیان ہی نہیں ہوتا ۔ کثافت اور لطافت دو چیزیں ہیں جن لوگوں میں کثافت زیادہ ہوتی ہے ان کا رجحان دنیا کی طرف زیادہ ہوتا ہے اور جن لوگوں میں لطافت زیادہ ہوتی ہے ان کا رجحان قربِ الہٰی کی طرف ہوتا ہے۔ روحانیت ایک فطری جذبہ ہے یہ کسی میں زیادہ اورکسی میں کم ہوتا ہے ۔ روح کا تعلق اچھے کاموں کے ساتھ ہوتا ہے۔ اگر کوئی بندہ خیرات کرتا ہے، لوگوں میں پیار بانٹتا ہے ، لوگوں میں خوشیاں با نٹتا ہے، لوگوں کے دکھ درد میں شریک ہوتا ہے برے کاموں سے دور رہتا ہے اس سے روح کو طاقت ملتی ہے اور خوش ہوتی ہے ۔ لوگوں میں غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ صرف عبادت کرنے سے ہی روح خوش ہوتی ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے ۔ اگر عبادت ہے لیکن روحانیت نہیں ہے تو پھر وہ عباد ت نہیں ہے عبادت یہ ہے کہ بندے کے شعور اور لاشعور کی رغبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو اگر عبادت میں سوچ دنیاوی کاموں کی طرف ہو تو وہ عباد ت نہیں ہوتی۔روحانیت اصل میں اندر کی بات ہے جو لوگ اندر کی بات کرتے ہیں جن کا رجحان روحانیت کی طرف ہوتا ہے وہی روحانی لوگ ہوتے ہیں۔ روحانیت میں دو قسم کے لوگ ہوتےہیں ایک وہ جنہیں اللہ تعالیٰ ان کی فطرت میں یہ چیز ودیعت کر دیتا ہے ان کو عبادات اور مجاہدات کی ضرورت نہیں پڑتی جبکہ دوسر ی قسم کے وہ لوگ ہوتےہیں جن کے میلان میں رجحان میں روحانیت پائی جاتی ہے ایسے لوگ عبادات اور مجاہدوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرتے ہیں ۔
اکثر صوفیائے کرام کے بارے میں ذکر ملتا ہے کہ وہ عشقِ مجازی سے عشق ِ حقیقی کی طر ف گئے اگر اس بات پر غور کیا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے ، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عشق سب کی فطرت میں پایا جاتا ہے لیکن دیکھنا یہ ہوتا ہےکہ عشقِ مجازی سے حقیقت کی طرف کون جاتا ہے ۔ جتنے بھی صوفیائے کرام ہیں وہ فطرت سے متاثر ہوتےہیں جب وہ فطرت کی طرف جاتےہیں تو وہ مجازی عشق کی طرف چلے جاتے ہیں جب وہ اس پروسس سے گزر رہے ہوتے ہیں اسی دوران جب انہیں ٹھوکر لگتی ہے تو پھر ان کواحساس ہوتا ہے کہ ہم توایسی چیز کے عشق میں مبتلا ہیں جو نامکمل ہے۔ اس احساس کے بعد پھر وہ خالقِ کائنات کی طرف روجوع کرتے ہیں اور پھر روجوع کے لیے کسی مرشد کی بیعت کرتے ہیں ۔ حضرت واصف علی واصف ؒ فرماتےہیں”عشقِ مجازی کو عشقِ حقیقی بننے کے لیے ایک استاد کی ضرورت ہوتی ہے ۔”
اللہ تعالیٰ کی محبت دنیا کا واحد ذائقہ ہے جس کو یہ لگ جاتا ہے وہ دنیا سے آزاد ہو جاتا ہے ۔جن لوگوں نے یہ ذائقہ چھکا ہوتا ہے وہ صوفیا کہلاتے ہیں رسل کہتا ہے “اگر آپ کسی انسان میں انسانی خوبیوں کا نقطہ عروج دیکھنا چاہتے ہیں تو آپ کسی اہلِ تصوف سے ملیں۔” وہ مزید کہتا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کو نہیں مانتا لیکن میں یہ مانتا ہوں کہ میں نے انسانی خوبیوں کا نقطہ عروج اگر کسی انسان میں دیکھا ہے تو وہ اہل ِ تصوف ہیں ۔ پیٹمور کہتا ہے “تصوف کے بارے میں جاننے کے لیے پہلے بندے کو اس تجربے اور اس کیفیت سے گزرنا پڑے گا کیونکہ اگر کسی نے بنفشے کا پھول نہیں سونگھا تو وہ بنفشے کی خوشبو نہیں بتا پائے گا۔ جب قربِ الہیٰ کی بات آتی ہے تو یہ وہ لوگ ہوتےہیں جوکائنات میں صرف رب تعالیٰ کا انتخاب کرتے ہیں ۔وہ اپنے جسم اور روح کو ہر اس چیز سے پاک کر لیتےہیں جسے اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے ا ور اپنے جسم اور روح کو ہر اس چیز سے مذین کر لیتےہیں جنہیں اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے ۔ جو عشقِ الہیٰ کا مسافر ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کو سب سے پہلے رکھتا ہے باقی چیزوں کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے ۔ عشق ِ الہیٰ کا مسافر اللہ تعالیٰ کو حاصل کرنے کے لیے عبادا ت کرتا ہے مجاہدات کرتا ہے اور ہر وہ کام کرتا ہے جس سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعا لی ٰ جس سے راضی ہوتا ہے اس کے متعلق اس کا ارشاد ہے کہ ” جب تم میرے ہو جاتے ہو تو تم تم نہیں رہتے تمہارا بولنا میرا ، تمہار ا چلنا میرا، تمہارا اٹھنا میرا اور تمہارا بیٹھنا میرا ہو جاتا ہے۔ ” اللہ تعالیٰ مزیدفرماتا ہے کہ ” جب میں کسی سے راضی ہو جاتا ہوں تو میں کائنات کی مخفی قوتوں کو آڈر دے دیتا ہوں کہ میرے بندے کے ہم رکا ب بن جاؤ۔ خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جن کے اندر یہ طلب پائی جاتی ہے ۔
قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ “بے شک میرے ذکر سے تمہارے دلوں کو اطمینان ملے گا۔” “تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں ” “میرے نام بہت خوبصورت ہیں میرے ناموں سے پکارو” “میرا ذکر کثرت سے کرو تاکہ تم فلاح پا جاؤ۔” سارے مسائل کا حل قرآنِ پاک میں موجود ہے جب اللہ تعالیٰ خود کہہ رہا ہے کہ “میرے نام بہت خوبصورت ہیں تو ہمیں چاہییں کہ ہم ان ناموں کو پڑھیں اور صوفیائے کرام کے فلسفے کے تحت اللہ تعالیٰ کو دستک دیں اس کو بار بار یاد کریں۔اللہ تعالیٰ کے ناموں کا وظیفہ کرنا اللہ تعالیٰ کو دستک دینے کے مترادف ہے اللہ تعالیٰ سورۃ مو منون فرماتا ہے “مجھے پکارو میں تمہاری دعا قبول کر وں گا “۔ ہمارا معاشرہ ڈیپریشن سے بھراپڑا ہے اس کا حل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کیاجائے ڈیپریشن خود ہی دور ہو جائے گی ۔ جو لوگ اللہ تعا لی ٰ کا ذکر کرتے ہیں ان پر اپنا آپ کھل جاتا ہے چنانچہ حضرت بابا بلھے شاہؒ فرماتے ہیں:
جنے بھیت پایا قلندر دا
او پیتی ہویا اندر دا
حضرت سلطان باہوؒ فرماتےہیں
ائے تن تیرا رب سچے دا حجرا
ایتھے پا فقیراچاتی ہو
نا کر منت خاص خضر دی
تیرے اندر آپ حیاتی ہو
حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں “تمہار ا جو من ہے اس کے اندر ایک کائنات آباد ہے “حضرت مولانا روم ؒ فرماتےہیں “اگر تو انبیاء کرامؑ،اولیاء کرام ؒ کی زیارت کرنا چاہتا ہے تو اپنے باطن کو دیکھ۔اللہ تعالیٰ بہت رحیم ہے اس نے ہمارے اندر شر اور نیکی رکھی ہے انسانی جسم پر جب نفس اور شر غالب آتا ہے تو پھر اس کا رجحان غلط کاموں کی طر ف ہو جاتا ہے لیکن جب کسی انسان پر شر کی بجائے نیکی غالب ہو تو وہ محبت کر تا ہے، پیار کرتا ہے ، بھلائی کرتا ہے ۔صوفیائے کرام ؒ اپنے اندر کے شر کی طاقتوں کو مار کر بھلائی کی قوت کو غالب کر تےہیں اسے ہی تزکیہ نفس کہا جاتا ہے۔جب بندہ اللہ تعالیٰ کی محبت میں مبتلا ہوتا ہے تو وہ ہر اس چیز سے پیا ر کرتا ہے جو اس نے بنائی ہے۔جب بندہ ذکرِ الہیٰ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے وجود کو راحت عطا کرتا ہے ان کے دل میں خدمتِ خلق کا جذبہ ڈال دیتا ہے ۔ درویش کائنات کے سب سے خوبصورت لوگ ہوتےہیں ان کے دل میں ایک تڑپ ہوتی ہے ایک احساس ہوتا ہے جب وہ کسی دکھی کو دیکھتے ہیں تو ان کو گلے لگاتےہیں ۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو خاص قوتِ برداشت عطا کرتا ہے وہ کسی کو تکلیف میں دیکھ کر اس کی تکلیف دور کرتے ہیں۔
برصغیر میں ہندوانہ کلچر ہونے کی وجہ سے تصوف کو بہت غلط رنگ دے دیا گیا ہے یہاں پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ صرف تعویز گنڈے کا نام ہی تصوف و رحانیت ہے۔اس غلط رنگ کی وجہ سے ہر دوسرے شخص کو شک رہتا ہے کہ مجھ پر جادو ہو گیا ہے حالانکہ یہ سارا وہم ہے یہ ڈیپریشن کی ایک شکل ہے ۔ڈیپریشن اس وقت ہوتی جب بندہ کسی چیز کی تلاش کرتا ہے جب وہ نہیں ملتی تو وہ اداسی کی کیفیت میں چلا جاتا ہے پھر توہم پرستی ہونے کی وجہ سے اس کو جادو سمجھ لیتا ہے ۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ ہم پر جاود ہو گیا ہے ان میں نوئے فیصد سے زائد ایسے لوگ ہوتےہیں جن پر کسی قسم کا کوئی جادو نہیں ہوا ہوتا صرف وہم ہوتا ہے دس فیصد ایسے لوگ ہوتے ہیں جنہیں شیطانی قوتیں تنگ کرتی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں انسانوں سے پہلے جنوں کو پیدا کیا تھا جنوں میں جوغیر مسلم ہیں بعض اوقات وہ انسانوں کو تنگ کر تے ہیں ان کا تناسب بھی ایک فیصد سے کم ہے ۔ یہ سب ایمان ،یقین کی کمزوری اور دین سے دوری کی وجہ سے ہے جب اللہ تعالیٰ ترجیح اؤل ہوگا اس سے محبت ہو گی تو پھر جتنے بھی اس قسم کے وہم یا خوف ہیں ان سے آزادی مل جائے گی۔(  قاسم علی شاہ /ابو اسماعیل /عدیر مغل رائٹر)
Share.