🌐🌴🌴روح کیاہے🌓🌾
ارشاد ربانی ہے:
وَ یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الرُّوْحِ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ.
(بنی اسرائیل‘ 17: 85)
اور یہ (کفار) آپ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں آپ فرما دیجئے روح میرے رب کے امر سے ہے۔

روح اللہ تعالیٰ کا امر ہے۔ اللہ تعالیٰ جو چاہتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کا امر ہے۔ یہ جو دل دھک دھک کر رہا ہے۔
اللہ ھو، اللہ ھو کر رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ربانیت اور خالقیت کا اظہار کر رہا ہے۔

روح کی غذا محبت الہی ہے ذکر الہی ہے ۔ مومن جب وہ سارے کام کرتا ہے جو اللہ سبحان وتعالی نے سورہ مزمل میں ارشاد فرماے تو مومن اللہ کریم کے قرب میں پہنچ جاتا ہے قرب الہی کے نزدیک پہنچنا درحقیقت روح کے نزدیک پہنچنا ہے۔

یٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَ الۡاِنۡسِ اِنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ اَنۡ تَنۡفُذُوۡا مِنۡ اَقۡطَارِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ فَانۡفُذُوۡا ؕ لَا تَنۡفُذُوۡنَ اِلَّا بِسُلۡطٰنٍ ﴿ۚ۳۳﴾ سورہ الرحمن

اے جنوں اور انسانوں کے گروہ ! اگر تم آسمانوں اورزمین کی سرحدوں سے نکل کر اوپر جا سکتے ہو ، تو جا کر دکھاؤ ۔ تم نہیں جا سکتے ، سوا اس کے کہ اس کیلئے بڑا زور طاقت چاہیے ۔

اس کےلیے مومن کو فنافی الشیخ کے ساتھ پرومرشد کے بتائی ہوئی ریاضیت اورمجاھدے کی ضرورت ہے۔روح ستر ہزار پردوں کے اندر پوشیدہ ہوتی ہے۔جو بندہ روح سے واقف ہو جاتا ہے وہ اللہ تعالیٰ سے واقف ہو جاتا ہے۔جسم کیوں سڑ جاتا ہے اس لئے کہ روح نکل جاتی ہے۔

روحانیت کیلئے قربت ضروری ہے۔ جس طرح بچے کیلئے ماں باپ کا قرب ضروری ہے کہ وہ اپنی مادری زبان اور خاندانی روایات سیکھے۔ اسکول میں استاد کا قرب ضروری ہے۔ اسی طرح روحانیت میں پیرو مرشد کی قربت ضروری ہے۔
لوگ کہتے ہیں کہ روحانیت پھونکوں کا علم ہے، اگر پھونکوں سے روحانیت آ جاتی تو پھونکوں سے آدمی میٹرک بھی کر لیتا۔ دنیاوی علوم اور روحانی علوم سیکھنے کیلئے استاد کی قربت ضروری ہے۔ استاد کے بغیر کوئی بھی علم نہیں سیکھا جا سکتا۔

جب بچہ بداخلاق لوگوں کے ساتھ رہتا ہے تو وہ بھی بداخلاق ہو جاتا ہے۔ ماں باپ گالیاں بکتے ہیں تو بچہ بھی گالیاں بکنے لگتا ہے۔ ماں باپ صاف ستھرے رہتے ہیں، ان کا اخلاق اچھا ہوتا ہے اور وہ محب وطن ہوتے ہیں تو بچہ کے اندر بھی یہی خصوصیات ہوتی ہیں۔ بچہ کے اندر وہی صفات ہوتی ہیں جو والدین اور ماحول میں ہیں۔

جس طرح دنیاوی زندگی میں ماحول کا اثر ہوتا ہے اور آدمی اس ماحول کی نقل کرتا ہے جس ماحول میں وہ رہتا ہے۔ اسی طرح روحانی دنیا کا بھی ایک ماحول ہے۔ اس ماحول میں رہنے والے لوگوں کا اخلاق اچھا ہوتا ہے۔ ان کے اندر شک اور وسوسے کی جگہ یقین کام کرتا ہے۔ جس طرح آدمی کے اوپر ماحول اثر انداز ہوتا ہے اسی طرح اخلاق اور شرافت کا اثر ہوتا ہے۔ روحانی دنیا میں بھی ماحول کا اثر ہوتا ہے اور اس کی ابتداء یقین سے ہوتی ہے۔ جب کوئی بندہ روحانی دنیا سے واقف ہو جاتا ہے اور روحانی دنیا کی طرزیں اس کے اندر راسخ ہو جاتی ہیں تو وہ کہتا ہے کہ

’’میرا اس بات پر یقین ہے کہ دنیا میں آخرت میں، دنیا میں آنے سے پہلے اور دنیا سے جانے کے بعد کی دنیا میں، یعنی جی اٹھنے کے بعد عالم میں، صبح، دوپہر، شام اور رات میں جو کچھ ہوتا ہے، ہو چکا ہے اور جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔‘‘
(سورۃ آل عمران۔ آیت۷)

روحانی علوم سیکھ کر آدمی کے اندر یقین کا پیٹرن بن جاتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ

’’جو لوگ علم میں پختہ کار ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہمارا ان پر ایمان ہے یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے۔‘‘(سورۃ آل عمران۔ آیت ۷)

روحانیت کیلئے ضروری ہے کہ ان کے اندر استقامت اور اس بات کا یقین ہو کہ دنیا میں آنے سے پہلے جو کچھ ہو چکا ہے، دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے اور دنیا سے جانے کے بعد جو کچھ ہو گا وہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔

ہمیں یہ سوچنا چاہئے کہ انسان دو پیروں سے چلتا ہے، دو ہاتھوں سے پکڑتا ہے، دو آنکھوں سے دیکھتا ہے، دماغ سے سوچتا ہے، یہ سب اعضاء مرنے کے بعد بے حس و حرکت ہو جاتے ہیں اور مٹی میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔

لیکن جو شے اعضاء کو متحرک رکھتی ہے، آنکھوں میں بینائی مستقل کرتی ہے، جسمانی اعضاء کو حرکت دیتی ہے، سوتے ہوئے کو جگاتی ہے، جاگتے ہوئے بندہ کو سلاتی ہے، وہ روح ہے۔ سب جانتے ہیں کہ مرنے کے بعد جسم کیڑے مکوڑوں کی خوراک بن جاتا ہے۔ لیکن روح برقرار رہتی ہے اور اس کا علم بھی قائم و دائم رہتا ہے۔

Share.