بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

حرفِ آغاز

روح کیا ہے :عالمِ شخصی کیا ہے انسان کیا ہے

عنوانِ بالا کا کیا مطلب ہے؟ ج: اس کا مطلب یہ ہے کہ جوشخص روح کو پہچاننا چاہتا ہے، اس کو عالمِ شخصی کا سفر کرنا پڑے گا، جو اس کے باطن میں بحدِ قوت موجود ہے، پہلے وہ ہادیٔ زمان علیہ السلام سے رجوع کرے، جیسا کہ رجوع کا حق ہے، پھر اپنے عالمِ شخصی کو حدِ قوت سے حدِ فعل میں لائے اور اس میں سیر و سفر کرے، اور اس انتہائی عظیم کام کی تمام سختیوں کو خوشدلی سے برداشت کرے۔

قرآنِ حکیم میں بزبانِ حکمت جگہ جگہ عالمِ شخصی کا تذکرہ موجود ہے یا تو آپ خود ریاضتِ حقہ کر کے حکمت کے ساتھ قرآنِ حکیم کا مطالعہ کریں، یا دوسروں کی مشقت سے حاصل کردہ حکمت کو پڑھیں، آ پ قرآن کو قرآنِ حکیم (حکمت والا قرآن) کہہ کر تو قرآنی حکمت کو مانتے ہیں لیکن افسوس ہے کہ حکمت حاصل کرنے کے لئے کوشش نہیں کرتے ہیں، حالانکہ خیرِ کثیر حکمت میں ہے۔

ہماری عاجزانہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام اہلِ ایمان کو اپنی کتابِ عزیز = قرآنِ حکیم کی حکمتِ بالغہ کی لازوال دولت سے مالامال فرمائے! آمین!

انتسابِ جدید:روح کیا ہے

میرے بہت ہی عزیز ساتھی اور مہربان دوست فتح علی حبیب جو آئی۔ ایل۔ جی۔

اور پریسیڈنٹ کمیٹی کے سینیر رکن ہیں انہوں نے ہمارے ادارے کے لئے بے شمار خدمات انجام دی ہیں، چونکہ ان کی جملہ خدمات امامِ زمان کے عشق میں ہیں، لہٰذا ایسے تمام عزیزوں کی اس عزت کی تعریف میں نہیں کر سکتا ہوں جو کل جنت میں ان شاء اللہ ان سب کو ملنے والی ہے، فتح علی کی فرشتہ خصلت بیگم گل شکر بھی ہر خدمت میں ساتھ ساتھ ہیں، گل شکر ہماری خداداد بیٹیوں میں سب سے سینئر ہیں، آپ آئی۔ ایل۔ جی۔ نیز سینئر رکن پریسیڈنٹ کمیٹی اور ایڈوائزر بھی ہیں۔

عزیزم نزار فتح علی ٹریننگ آفیسر، آئی۔ ایل۔ جی۔ ، ٹرینی ممبر آف پی۔ سی۔ اور ہائی ایجوکیٹر نے نہایت خوبصورت کتابیں چھپوانے کی مہارت حاصل کر لی ہے، ساتھ ساتھ عزیزم رحیم فتح علی بھی ہے جو آئی۔ ایل۔ جی، ٹرینی ممبر آف پی۔سی۔ اور سکین انچارج (Scan-Incharge) بھی ہے، فاطمہ فتح علی آئی۔ ایل۔ جی۔ ، ممبر آف بورڈ آف میڈیکل ایڈوائزر اینڈ پیٹرن اور انچارج آف ایل۔ اے۔ ایس۔ ہے، نزارکی بیگم شازیہ علمی سولجر، ہائی ایجوکیٹر اور ویڈیو کیسیٹ انچارج ہے اور درِ ثمین نزار علی علمی سولجر اور ایل۔ اے۔ ایس۔ ہے۔

خداوندِ قدوس اپنی رحمتِ بے پایان سے اس عزیز خاندان = فیملی کو دونوں جہان کی کامیابیوں سے نوازے، آمین یا رب العالمین!

روح کیا ہے؟

(رئیس امروہوی)

علامہ نصیر الدین ہونزائی کا ذکر ان کالموں پر کیا جا چکا ہے، عجیب شخصیت کے مالک ہیں ایک سو تیس کتابوں کے مصنف، بروشسکی، اردو، اور فارسی زبانوں پر کامل دست رس! تینوں زبانوں میں شعر کہتے ہیں، حضرتِ ہونزائی نے چین کے زندان خانوں میں عرفانِ خودی کی منزلیں طے کیں۔ اس ناکارہ پر خصوصیت سے مہربان ہیں۔ احسان فرماتے ہیں اور اظہار نہیں کرتے۔ دلنوازی کی ادائیں کوئی ان سے سیکھے، کہتے ہیں کہ یہ لازوال دولت یعنی روحانیت قرآنِ مجید کی ظاہری اور باطنی برکتوں سے حاصل ہوتی ہے۔ قرآنی برکتوں کے حصول کے لئے ضروری ہے کہ طالبِ روحانیت قرآنِ مجید کی آیات پر غور و تدبر کرے۔ روح کیا ہے؟ روح ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہر آن اور ہر لمحہ جمالِ الٰہی اور جلالِ ربانی کی ایک نئی تجلی ظہور پذیر ہوتی ہے۔ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ہر روز اس کی ایک نئی شان ہے (۵۵: ۲۹) اس آیۂ مبارکہ کی ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ روح کے آئینے میں پیہم تجلیاتِ غیبی منعکس ہوتی رہتی ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کوئی قلبِ با صفا اپنی روح کو دیکھ سکتا ہے؟ دیکھ سکتا ہے تو کس آنکھ سے؟ چشمِ ظاہر سے یا دیدۂ باطن سے؟ روحِ انسانی بجائے خود ایک کائنات ہے۔ یعنی عالمِ صغیر! اس ننھی منی ان دیکھی کائنات (روح) میں

تمام عالموں تمام کائناتوں اور تمام موجودات کی کیفیت لطیف ذرات کی شکل میں موجود ہوتی ہے ۔ روح ایک قائم بالذات جوہر ہے۔ اس کی تجرید کے چار درجے ہیں۔ خیال، خواب، روحانیت اور عقل۔ اور اس کی تجسیم (جسمانی حالت) کے بھی چار درجے ہیں۔ کثیف ذرے، کثیف جسم، لطیف ذرے، لطیف جسم! روح ناقابلِ تقسیم ہے۔ لیکن یہ لطیف اور کثیف جسم کے توسط سے لاتعداد مظاہر میں جلوہ پزیر ہوتی ہے۔ ہدایتِ قرآنی کے مطابق روح کا منبع و مرکز عالمِ امر ہے (۱۷: ۸۵) جس کے لاتعداد نورانی سائے، وجودِ انسانی کے آئینہ خانے میں منعکس (Reflect) ہوتے رہتے ہیں۔ انفرادی روح کا تعلق روحِ کل سے ہے۔ نباتات اور حیوانات بھی ذی روح ہیں۔ لیکن ان کی روحوں کی نوعیت انسانی روح سے مختلف ہے۔ ہر روح مختلف ذرات کا مجموعہ ہوا کرتی ہے۔ جنات اور اس قسم کی دوسری نادیدہ مخلوقات بھی ذی روح ہے۔ علامہ نصیر الدین ہونزائی نے روح اور روحانیت کے بارے میں اپنی کتاب روح کیا ہے؟ میں تفصیلی بحث کی ہے۔ ان کی فکر کا سرچشمہ قرآنِ مجید ہے۔ یہ موضوع بہت دقیق، نازک اور لطیف ہے۔ چند سطور یا ایک آدھ مضمون کے کوزے میں اس سمندر کو سمیٹ لینا ممکن نہیں۔ جو حضرات ان علمی بحثوں سے دلچسپی رکھتے ہیں وہ علامہ مولف کی کتاب (روح کیا ہے؟) کا مطالعہ کریں اس کتاب کو اے۔۳۔ نور ولا پلاٹ نمبر ۲۶۹ گارڈن ویسٹ کراچی ۳۔ فون ۷۲۲۴۹۲۰ سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

’’روح کیا ہے؟‘‘ جیسے سب سے مشکل موضوع پر ’’سو (۱۰۰) سوال و جواب‘‘ کی پرمغز و مفید کتاب جس طرح مکمل ہوئی ہے، وہ حقیقت میں اس بندۂ ناچیز کی کوششوں کا نتیجہ ہرگز نہیں، بلکہ یہ عنایاتِ خداوندی کا ایک علمی معجزہ ہے، جو دور و نزدیک کے بہت سے پاک و پاکیزہ دلوں کی پرخلوص دعاؤوں سے وجود میں آیا، یہ بات میرے بنیادی عقائد میں سے ہے کہ میں اہلِ ایمان کی قلبی دعا کو تائیدِ روحانی کا وسیلہ مانتا ہوں۔

امامِ عالی مقام کے اس غلامِ ناتمام کو چاہئے کہ یہ اپنی حقیر سی روح کے جملہ ذرات کے ساتھ ہزار گونہ عاجزی و انکساری سے سر بسجود ہو کر خداوندِ مہربان کے عظیم الشان احسانات کی شکرگزاری کرے، اگر یہ بندۂ کمترین اپنے جسم و جان کے بے شمار ذرات کی ایسی ہم آہنگی حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہو جائے، تو پھر بھی میرے مالک و مولا کی پرحکمت نعمتیں اتنی زیادہ، اس قدر گرانمایہ اور ایسی عالی شان ہیں، کہ ان کا حقِ شکرانہ کسی طرح سے بھی ادا نہیں ہو سکتا۔

بارانِ رحمت کے اس موسم میں بھی ہمیشہ کی طرح آسمانِ امامت نے ہم سب پر جیسی بابرکت بارش برسائی ہے، اور اس سے قلوبِ احباب کے باغ و چمن میں جو روحانی مسرتوں اور امیدوں کی تازہ بہار آئی ہے، اس کے نتیجے میں ہم قدردانی اور احسان مندی کے جذبات سے سرشار تو ضرور ہیں،

لیکن ان تمام مہربانیوں کی شکرگزاری کے لئے ہم اپنے آسمانی بادشاہ کے حضور میں کیا نذرانہ پیش کر سکتے ہیں اگر ہم اپنی حقیر جانیں اس کی راہ میں قربان کر دیں، تو پھر بھی حقیقت میں کیا کارنامہ ہو سکتا ہے، کیونکہ ہماری جانیں بھی تو اسی کی ہیں۔

’’روح کیا ہے؟‘‘ کی بحث بے حد دلچسپ بھی ہے، اور انتہائی مفید بھی، اور یہ سب سے عالی قدر موضوع ایسا ضروری ہے کہ اس کی طرف اہلِ دانش جس قدر بھی توجہ دیں کم ہے، شاید کوئی دوست مجھ سے پوچھے گا کہ یہ بات اتنی اہمیت والی کس وجہ سے ہو سکتی ہے؟ میں یہ عرض کروں گا کہ آیا معرفتِ روح معرفتِ خدا نہیں ہے؟ جیسا کہ مولا علی صلوات اللہ علیہ کا ارشادِ گرامی ہے کہ:

’’من عرف نفسہ فقد عرف ربہ‘‘

’’جس نے اپنی روح کو پہچان لیا یقیناً اُس نے اپنے پروردگار کو پہچان لیا‘‘۔ سو وہ اس مبارک فرمان کو ضرور قبول کرے گا۔

جب یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ مومن کی خود شناسی ہی میں خدا شناسی کا عظیم ترین خزانہ مل جاتا ہے، تو اس کے یہ معنی ہوئے کہ خدا اور خدائی کا یہ خزانہ اسرارِ روح اور رموزِ روحانیت سے بھرپور ہے، اس میں قرآن اور اسلام کی عقل و جان بھی ہے، اور نبوت و امامت کا درخشندہ نور بھی، اللہ تعالیٰ کے عظیم اور پیارے بھیدوں کا یہ گنجِ گرانمایہ، جس میں ازل اور ابد کے تمام حقائق و معارف جمع ہیں، جب روحانیت میں ہے، تو پھر روح کا موضوع کیوں اہم اور ضروری نہ ہو۔

اب ہم اس پیاری کتاب کے سوالات کے بارے میں بات کرتے ہیں کہ یہ کس طرح مرتب ہوئے، قصہ یوں ہے کہ عرصۂ دراز سے روح اور روحانیت پر جو سوالات عام لفظوں میں ہوتے آئے ہیں ایک تو انہی کو منظم شکل دی گئی ہے،

اور دوسرے یہاں وہ سوالات ہیں، جو ہمارے بہت ہی پیارے پریذیڈنٹ فتح علی حبیب، دیگر عملداران اور ارکان کی خواہش و فرمائش پر خانۂ حکمت نے بنائے ہیں، یاد رہے کہ عام اور غیر منطقی سوال کوئی بھی کر سکتا ہے، مگر ایسا سوال حقیقی اور روحانی علم کی بلندیوں کو چھو نہیں سکتا، اور نہ ہی وہ حقیقتوں اور معرفتوں کو گھیر سکتا ہے، چنانچہ درست سوال کسی مکان کے صحیح نقشے کی طرح ہے، جس پر پرحکمت جواب کی خوبصورت عمارت قائم ہو سکتی ہے۔

اس مقام پر میں اپنے دینی بھائیوں، دوستوں اور عزیزوں کو ایک ضروری مشورہ دینا چاہتا ہوں، وہ یہ ہے کہ اس کتاب سے زیادہ سے زیادہ علمی فائدہ حاصل کرنے کے لئے خانۂ حکمت کی دوسری کتابوں کا بھی مطالعہ کیا جائے، خصوصاً ان کتابوں کا، جو روح اور روحانیت سے متعلق ہیں، تا کہ اس وسیع مطالعے سے ایک طرف تو قاری پر اس کتاب کے تمام مطالب روشن ہو جائیں، اور دوسری طرف اس کے ذخیرۂ معلومات میں خاطر خواہ اضافہ ہو۔

یہ درویش جو دنیا کی گوناگون تکالیف سے تھکا ماندہ ہے، درختِ ’’خانۂ حکمت‘‘ کے زیرِ سایہ اپناحقیرانہ کام انجام دے رہا ہے، خداوندِ تعالیٰ اس پرمیوہ اور سایہ دار درخت اور اس کی سر سبز شاخوں کو دونوں جہان میں سدا بہار اور سربلند رکھے! اس کے لذیذ، خوشذائقہ اور خوشبودار پھلوں میں توقع سے زیادہ برکت پیدا کرے! اور اس کو ہر صبح و شام روئے زمین کے مومنین و مومنات کی نیک دعاؤوں سے حصہ ملتا رہے! !

’’خانۂ حکمت‘‘ ایک چھوٹا سا ذاتی نوعیت کا ادارہ سہی، لیکن جب آپ حق پسندی اور علم پروری کی نظر سے اس کی اہمیت و افادیت کو دیکھیں گے، تو اس وقت آپ کو اس بات سے بڑا تعجب ہو گا کہ امامِ زمان صلوات اللہ علیہ کی مصلحت و حکمت

اور نورانی ہدایت پیاری جماعت کی ترقی اور مضبوطی کے لئے ظاہر میں بھی اور باطن میں بھی کس طرح اپنا کام کرتی رہتی ہے، الحمدللہ ہم سب افرادِ جماعت اس بات کے قائل ہیں کہ ہمارا پاک مذہب باطنی اور روحانی ہے، لہٰذا ہم سرچشمۂ نورِ ہدایت کے ذریعۂ ظاہر کے علاوہ وسیلۂ باطن پر بھی یقین رکھتے ہیں، پس ہم فیضِ باطن اور توفیق و تائیدِ روحانی کے لئے ہر وقت دعا کرتے رہتے ہیں۔

خانۂ حکمت کے عہدہ داران اور ارکان پر خداوندِ مہربان کی نظرِ رحمت ہے، کہ وہ زیورِ اخلاق و ایمان سے آراستہ ہیں، اُن میں عجز و انکساری، جذبۂ ایثار و قربانی اور دینداری کی تمام تر خوبیاں موجود ہیں، ان کی سب سے بڑی آرزو اور خوشی اس بات میں ہے کہ وہ اپنے امامِ اقدس و اطہر کے پیارے مریدوں کی کوئی علمی خدمت کر سکیں، وہ اسی مقصدِ عالی کے پیشِ نظر سوچتے بھی ہیں اور عملاً کوشش بھی کرتے ہیں۔

اس موقع پر ہم ادارۂ ’’عارف‘‘ کو کیسے فراموش کر سکتے ہیں، یہ بڑا پیارا ادارہ ہے، اس نے مغرب میں اسماعیلی جماعت کے لئے جو علمی کارنامے انجام دئے ہیں، وہ بڑے تسلی بخش اور دور رس فوائد کے حامل ہیں، اس کے کارکن عالی ہمت اور حوصلہ مند ہیں، انہوں نے خوش بختی سے مولائے زمان صلوات اللہ علیہ سے اپنی اس بے لوث علمی خدمت کے لئے پرحکمت اجازت اور پاک دعا حاصل کر لی ہے۔

’’عارف‘‘ کا یہ خوبصورت نام کتنا پیارا ہے، دیکھئے اس سے معرفت کی خوشبو آتی ہے، کیونکہ اس لفظ میں معرفت کا تصور ہے، اور اس کا رشتہ مولا علی علیہ الصلاۃ و السلام کے مبارک کلام سے ہے، یعنی یہ ’’من عرف نفسہ فقد عرف ربہ‘‘ کی بنیاد پر قائم ہے، لہٰذا امید ہے کہ یہ ادارہ آگے چل کر بہت مفیدثابت ہو گا۔

 

اصل میں ’’خانۂ حکمت‘‘ اور ’’عارف‘‘ دو دوست ادارے ہیں، بلکہ کہنا چاہئے کہ یہ ایک ہی علمی وجود کے دو نام ہیں، وہاں بھی اور یہاں بھی اور عملدار و ارکان ہر وقت یہی چاہتے ہیں کہ فروغِ علمِ دین کا پھیلاؤ زیادہ سے زیادہ ہو، کیونکہ جب اس مذہب میں نورِ ہدایت کا سرچشمہ موجود ہے تو پھر یہاں کسی قسم کی جہالت و نادانی کی تاریکی کو کیوں رکھنا چاہئے۔https://webkad.com/

امامِ حی و حاضر کی مہربانی اور نوازش سے ’’خانۂ حکمت‘‘ اور ’’عارف‘‘ کے پاس اس وقت کل ملا کر سو (۱۰۰) کتابیں موجود ہیں ان میں سے تقریباً نصف کتابیں چھپ چکی ہیں، یہ کتابیں سب کی سب اسماعیلی مذہب پر ہیں، جو سب سے اہم موضوعات پر مبنی ہیں، جیسے تصورِ توحید، یک حقیقت (MONOREALISM)، قرآن کی حکمت و تاویل، اسمِ اعظم، ذکر و بندگی، معارفِ اسلام، حقائقِ نبوت، اسرارِ امامت، نظریۂ قیامت، معرفتِ روح و روحانیت، فلسفۂ خودی، مذہب اور سائنس، جماعتی خدمت، حقیقتِ نور، اثباتِ امامت، کیفیتِ معراج، وغیرہ، یہ کتابیں ان شاء اللہ تعالیٰ حال و مستقبل میں اہلِ علم کے لئے ممد و معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔

آخر میں عاجزانہ دعا ہے کہ پروردگارِ عالم اپنی رحمتِ بے نہایت سے خانۂ حکمت اور عارف کے سعادت مند عملداروں اور ممبروں کو مذہب اور قوم کی علمی خدمت کے لئے ہر وقت نورانی توفیق اور اعلیٰ ہمت عنایت فرمائے! ان کو دنیا و عقبیٰ کی کامیابی اور سرفرازی عطا کرے! خداوندِ برحق جملہ جماعت کو روحانی علم اور نورانی معرفت کی لازوال دولت سے مالامال فرمائے! آمین

 

 

 

 

 

روحِ نباتی

سوال نمبر ۱: درخت، جھاڑ، گھاس اور ہر قسم کی اُگنے والی چیز (نبات) میں جو روح موجود ہوتی ہے، اس کا کیا نام ہے؟ کیا نباتات میں صرف ایک ہی روح ہوا کرتی ہے؟

جواب: ہر اُگنے والی چیز جو نبات کہلاتی ہے، اس میں روحِ نباتی ہوتی ہے، جس کو روحِ نامیہ بھی کہتے ہیں، ہاں نباتات میں صرف ایک ہی روح ہوتی ہے۔

روحِ حیوانی:

سوال نمبر ۲: جانور جو حیوانِ صامت ہے، اس میں کتنی روحیں ہوتی ہیں؟ ان کے مرکز کہاں کہاں ہیں؟ ہر ایک کا نام اور کام بتائیے۔

جواب: جانوروں میں دو روحیں ہوتی ہیں، ایک کا مرکز جگر ہے، یہ روحِ نباتی ہے، جس کی بدولت جسم نشونما پاتا ہے، اور دوسری کا سنٹر دل ہے، جس سے روحِ حیوانی حِس و حرکت سے متعلق سارا کام کرتی ہے، روحِ حیوانی کا دوسرا نام روحِ حِسّی ہے۔

روحِ انسانی:

 

 

انسانی زندگی کا قیام تین روحوں پر ہے، وہ علی الترتیب روحِ نباتی، روحِ حیوانی اور روحِ انسانی ہیں، روحِ نباتی کا مسکن جگر، روحِ حیوانی کا مقام دل، اور روحِ ناطقہ کا مرکز دماغ کا اگلا حصہ ہے، پہلی روح سے جسم پروان چڑھتا ہے، دوسری روح حِس و حرکت کا سرچشمہ ہے، اور تیسری روح نطق و تمیز کا خزانہ۔

روحِ قدسی:روح کیا ہے

سوال نمبر ۴: ظاہر ہے کہ ایک عام انسان کیا بلکہ ہر درجے کا آدمی انسانِ کامل سے کمتر ہے، اس روحانی فرق کا کیا سبب ہے؟ آیا انسانِ کامل میں صرف روح کی پاکیزگی زیادہ ہے یا کوئی اعلیٰ اور خاص و پاک روح بھی ہے؟

جواب: عالمِ انسانیت میں جس طرح انسانِ کامل منفرد و ممتاز ہے۔ اس کی وجہ روحِ قدسی ہے، جو انسانِ کامل کو عطا ہوتی ہے، جس سے لازمی طور پر روح کی پاکیزگی قائم رہتی ہے، کیونکہ روحِ مقدس تو پاک ہونے اور پاک کر دینے کے تمام معنوں میں ہے، اس پاک روح کا قیام روحِ انسانی پر ہے، چنانچہ انسانی روح کے مرکز کے اوپر اس کا سنٹر ہے، یعنی پیشانی میں، جو انسان کی شخصیت میں سب سے اعلیٰ مقام اور روحانی معجزات کی ظہور گاہ ہے۔

Share.