(محی الدین غازی/حافظ عدیر احمد غازی ایڈیٹر)

اللہ نے جسم کو روح کی اقلیم بنایا ہے۔ اس اقلیم پر روح کی حکومت ہونی چاہیے۔ جسم کو محکوم اور روح کو حاکم ہونا چاہیے۔ ایسا نہ ہوکہ روح کم زور ہوکر جسم کی ماتحت ہوجائے۔ اور ایسا بھی نہ ہو کہ جسم بوجھل اور نکمّا ہوکر روح کے کسی کام کا نہیں رہ جائے۔

جسم کی ضرورت ہے کہ وہ لذیذ، صحت بخش اور غذائیت سے بھرپور کھانا کھائے، اس لیے اسے ضرور کھانا چاہیے۔ لیکن روح کی ضرورت ہے کہ رزق حلال اور پاک ہو، اس کی ضرورت یہ بھی ہے کہ وہ رازق کی شکر گزار اور انسانوں کی غم گسار رہے، اس کی ضرورت یہ بھی ہے کہ زیادہ کھانا کھانے سے جسم بوجھل اور اس کے مشاغل میں حائل نہ ہوجائے۔جسم اپنی ضرورت کی تکمیل کرے لیکن اس راستے میں روح کے احکامات کی تعمیل کرے، روح کے تقاضوں کو نظر انداز نہ ہونے دے۔

روح کی حکومت طاقت ور جسم پر ہو

روح جسم پر حکومت کرے اس کے لیے جسم کو کم زور کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ جسم و روح دونوں کو طاقت ور کرنے کی ضرورت ہے۔ روح کی حکومت کم زور جسم پر اتنی شان دار نہیں ہوسکتی، جتنی صحت مند اور طاقت ور جسم پر ہوتی ہے۔

روح کی حکومت کسی بھی جسمانی وجود پر ہو، بہرحال مطلوب و محمود ہے، تاہم روح کی پر شکوہ حکومت وہ ہوتی ہے جو دولت مند وجود پر، طاقت ور وجود پر، چست اور پھرتیلے وجود پر، صاحب اقتدار وجود پر اور صاحب علم ودانش وجود پر ہو۔ جسمانی وجود خواہ کتنی ہی زیادہ شوکت وسطوت والا ہو، روحانی وجود کو اس سے زیادہ طاقت ور ہونا چاہیے تاکہ حکومت روحانی وجود کی ہو نہ کہ جسمانی وجودکی۔

اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: المؤمنُ القوی خیرٌ وأحبُّ إلى اللهِ مِنَ المؤمنِ الضَّعیفِ وفی كلٍّ خیرٌ۔ (مسلم) “طاقت ور مومن اللہ کے نزدیک زیادہ بہتر اور محبوب ہے کم زور مومن سے، اور اچھائی سب میں ہے۔”

یہاں طاقت ور مومن سے مراد وہ شخص ہے جس کا جسم طاقت ور ہو اور اس طاقت ور جسم پر ایمان والی روح کی حکومت ہو۔ جب کہ کم زور مومن سے مراد وہ شخص ہے جس کا جسم کم زور ہو اور اس کم زور جسم پر ایمان والی روح کی حکومت ہو۔ ظاہر ہے کہ اچھائی دونوں میں ہے، کیوں کہ دونوں پر مومن روح کی حکم رانی ہے۔ لیکن طاقت ور مومن میں زیادہ اچھائی ہے، جس کی وجہ سے وہ اللہ کو زیادہ محبوب ہوتا ہے۔

امام نووی نے اس حدیث کی تشریح میں لکھا ہے: “یہاں قوت سے مراد آخرت کے معاملے میں دل وجان کی مضبوطی و پامردی ہے۔ جس کے اندر یہ صفت پائی جائے گی وہ جہاد کے موقع پر زیادہ جرأت و پیش قدمی والا ہوگا، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے کام میں زیادہ ہمت وعزیمت والا ہوگا، اس راستے میں ہونے والی تکلیفوں پر زیادہ استقامت دکھائے گا، اللہ کی خاطر مشقتیں برداشت کرنے میں پیش پیش رہے گا، نماز روزہ اور اذکار و عبادات کا زیادہ شوقین اور ان کے اہتمام میں زیادہ چاق چوبند ہوگا۔” (شرح مسلم)

روح کو غذا اور ریاضت کی ضرورت ہے

روح کی غذا کے تعلق سے ایک نکتہ یہ بیان کیا جاتاہے کہ جسم مٹی سے بنایا گیا ہے اور اس کی غذا کا انتظام بھی زمین میں رکھا گیا ہے۔ جب کہ روح آسمان سے آتی ہے اس لیے اس کی غذا کا انتظام بھی خصوصی طور پر اللہ کی طرف سے کیا جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں جسم کو زمین سے غذا اور طاقت ملتی ہے اور روح کو آسمان سے غذا اور طاقت ملتی ہے۔ یہ غذا وحی کی صورت میں نازل ہوتی ہے۔

روح کو طاقت پہنچانے کے دو طریقے ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ انسان کو روحانی غذا ملےاور دوسرے یہ کہ انسان روحانی ریاضت کرے۔ اسلام میں دونوں طریقے بہت اعلی توازن کے ساتھ موجود ہیں۔ جیسے ذکر روح کی غذا ہے اور روزہ روح کی ریاضت ہے۔ نماز میں غذا بھی ہے اور ریاضت بھی ہے،وغیرہ۔ خاص بات یہ ہے کہ انسان کی روح کے لیے یہاں غذا بھی میسر ہے اور ریاضت بھی مہیا ہے۔آگے کی تفصیل سے یہ حقیقت اور واضح ہوگی۔

ذکر روح کی غذا ہے

روحانیت کا اصل جوہر اللہ کا ذکر ہے۔ اللہ کے ذکر سے خالی روحانیت محض نفس کا فریب ہے۔ روحانیت جسم کو پسِ پشت ڈال دینے کا نام نہیں اور نہ ہی جسم کے آلام سے روح کو آزاد کرکےروح کومحض راحت دینے کا نام ہے۔ روحانیت تو اصل میں روح کا اپنے خالق ومالک سے وابستہ ہوجانا ہے۔ ذکر اس وابستگی کا عمدہ اظہار ہے۔ اسی لیے ذکر کو زندگی بتایا گیا ہے، رسول پاک ﷺ نے فرمایا: “جو اپنے رب کا ذکر کرتا ہے اور جو ذکر نہیں کرتا ہے، دونوں کی مثال زندہ اور مردہ کی ہے۔” (مَثَل الذی یذكر ربَّه والذی لا یذكر ربه مَثَل الحی والمیت) (صحیح بخاری)

علامہ ابن قیمؒ لکھتے ہیں: “ذکر سے دل کو زندگی ملتی ہے۔ میں نے شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ کو کہتے سنا: دل کے لیے ذکر ویسے ہی ہے جیسے مچھلی کے لیے پانی، اگر مچھلی پانی سے جدا ہوجائے تو اس کی کیسی کیفیت ہوتی ہے۔” (الوابل الصیب)

ذکر سے روح کو تری ملتی ہے جس طرح پانی سے زبان تر ہوتی ہے، ایک شخص کو اللہ کے رسول ﷺ نے مشورہ دیا: “تمھاری زبان اللہ تعالی کے ذکر سے ہمیشہ تر رہے”(لا یزال لسانُك رَطْبًا مِن ذكر الله تعالى) (ترمذی)

ذکر سے روح کو وہ قوت ملتی ہے جو اس کی حفاظت کرتی ہے۔حدیث پاک میں اللہ کے ذکر کی تمثیل اس طرح بیان کی گئی ہے کہ کوئی شخص ہو، دشمن اس کا تیز رفتاری سے پیچھا کر رہا ہو، اتنے میں اسے محفوظ قلعہ میسر آجائے اور وہ اس میں خود کو محفوظ کرلے۔ اسی طرح بندے کو شیطان سے بچانے والی چیز صرف اللہ کا ذکر ہے۔ (ترمذی) یہ بلیغ تمثیل بتاتی ہے کہ اللہ کا ذکر روح کو طاقت ور بنادیتا ہے۔ پھر شیطان اس کا کچھ بگاڑ نہیں پاتا۔

روح کی صحت کے لیے فکرمند رہنےوالے ذکر کی قدر و قیمت کو اچھی طرح سمجھتے ہیں، علامہ ابن قیمؒ اپنے استاذ کے بارے میں بیان کرتے ہیں : “ایک بار میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒ کی خدمت میں حاضر ہوا، انھوں نے فجر کی نماز پڑھی پھر بیٹھ کر اللہ کے ذکر میں مصروف رہے یہاں تک کہ قریب آدھا دن بیت گیا، پھر میری طرف متوجہ ہوئے اور کہا: یہ میری دن کی غذا ہے،اگر میں دن کا کھانا نہیں کھاؤں تو اپنی طاقت کھو دوں گا۔(الوابل الصیب)

ذکر روح کی اتنی بڑی ضرورت ہے کہ اس کا ہر وقت ہونا ضروری ہے۔اسی صورت میں روح توانا رہتی ہے۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ جسم پر روح کی حکومت بلا انقطاع جاری رہے۔ اللہ کے رسولﷺ کے بارے میں حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ آپ ہر وقت اللہ کا ذکر کرتے تھے۔ یذْكُرُ الله عَلَى كُلِّ أَحْیانِهِ (مسلم)

اسلام میں ذکر کا یہ تصور نہیں ہے کہ دنیا کے تمام مشاغل چھوڑ کر اللہ کا ذکر کیا جائے۔اسلام کا تصور یہ ہے کہ تمام جائز مشاغل کے ساتھ اللہ کا ذکر کیا جائے۔ غرض یہ کہ انسان کاروبار ِزندگی میں ذکر کے ساتھ مصروف رہے۔ جسم کے ضروری تقاضے پورے ہوتے رہیں اور روح کو اس کی غذا ملتی رہے۔

روزہ روح کو طاقت ور بناتا ہے

روزہ ایک ریاضت ہے۔ متعینہ وقت میں جسم کو روح کا مطیع و فرماں بردار بننے کی مشق کرائی جاتی ہے۔ اس ریاضت کی بدولت روزے کے باہر بھی جسم روح کے احکام کا پابند رہتا ہے۔

انسانی شخصیت پر روزے کی گہری تاثیر ہوتی ہے۔ روزے کی حالت میں جسم پر روح کی فرماں روائی کا کھلا اعلان ہوتا ہے۔ جسم اپنے تمام تقاضوں کے ساتھ روح کے سامنے سرِ تسلیم خم کردیتا ہے۔بھوک،پیاس اور جنس جیسی بالکل جائز اور فطری خواہشات پر متعین وقت کے لیے پابندی لگ جاتی ہے۔ ناجائز خواہشات کے سر اٹھانے کا تو سرے سے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔انسانی وجود میں ایک کرفیو کا سا ماحول ہوتا ہے جس میں جسم قید اور روح مکمل آزاد ہوتی ہے۔ یہ صورت حال مادّہ پرستی کے بالکل برعکس ہوتی ہے جب روح گھٹن میں رہتی ہے اور جسم آوارہ پھرتا ہے۔

انسانوں کے درمیان روزے کے بہت سے ماڈل پائے جاتے ہیں۔ روزے کی اسلامی صورت اپنے اندر خاص خوبیاں رکھتی ہے، ہم یہاں چند کا ذکر کریں گے:

روزے کے دوران صرف کھانے پینےسے رکنا ہی نہیں ہوتا ہے بلکہ اللہ کے ذکر میں مصروف رہنا بھی ہوتا ہے۔ اس طرح روزے کے اعلی مقاصد کا حصول ممکن ہوپا تا ہے۔ صرف بھوکے پیاسے رہنے سے جسمانی تقاضوں کا زور تو ٹوٹ سکتا ہے، لیکن روح کو طاقت ور ہونے کا موقع نہیں ملتا ہے۔ جب کہ روزے کا اصل مقصد تو روح کو طاقت ور بنانا ہے اور یہ اسی وقت ہوگا جب جسم پر پابندیوں کے ساتھ ساتھ روح کی کارفرمائی بھی رہے۔

روزے کا مقصد جسم کو کم زور کرنا نہیں بلکہ جسم پر پابندیاں عائد کرکے روح کو طاقت ور بنانا ہے، اس لیے دن کا روزہ کھانے پینے کی ہر چیز سےباز رہنے یعنی مکمل بھوک اور پیاس اختیار کرنے کا رکھا گیا، نہ کہ کھانے پینے کی مخصوص چیزوں کااور رات کو یہ پابندی ہٹالی گئی۔ تاکہ دن میں جسم کو جو کم زور ی لاحق ہوئی ہے وہ رات کو دور ہوجائے۔

اسلام میں روزہ دن کا ہوتا ہے، اس کے بعد رات میں روزے کی پابندی سے باہر نکل کر انسان حلال اور پاکیزہ چیزیں تناول کرکے اللہ کی عبادت میں مصروف ہوتا ہے۔ اس طرح روزے کا عمل ایک بہت عظیم روحانی کیفیت تک پہنچادیتا ہے۔ اس کیفیت کی تکرار رمضان کے پورے مہینے ہوتی ہے۔

رمضان کے ایک مہینے کے روزوں کا اختتام اباحیت والی زندگی پر نہیں بلکہ پرہیزگاری والی زندگی پر ہوتا ہے۔ ایسا نہیں ہوتا ہے کہ روزوں کے ختم پر شراب ورقص کا دور چلے اور روزوں کا اثر پوری طرح زائل ہوجائے۔ ماہ رمضان کے اختتام پر عید کی خوشی منائی جاتی ہے جس میں روح کی پاکیزگی کا پورا خیال رکھنا ہوتا ہے۔روح کی اس پاکیزگی کا اظہار اللہ کی تکبیر کرتے ہوئے اور غریبوں کی مدد کرتے ہوئے ہوتا ہے۔

روزہ روح کی ریاضت ہے اور روزے میں اللہ کا ذکر (حمد وتسبیح، نماز و تلاوت) روح کی بہترین غذا ہے۔جب ریاضت اور غذا دونوں حاصل ہوں تو روح کو زبردست طاقت ملتی ہے۔

بہترین صدقہ زبردست قوت دیتا ہے

صدقہ بھی روح کی بہترین ریاضت ہے۔ صدقہ دینے سے نفس پرستی کے جذبات کو شکست اور روح کو غلبہ حاصل ہوتاہے۔ صدقہ جس قدر بہترین طریقے سے دیا جائے روح کو اتنی ہی زیادہ قوت حاصل ہوتی ہے۔ اپنی بہت پسندیدہ چیز صدقہ کردینے سے روح طاقت ور ہوتی ہے۔اسی طرح خفیہ طور پر صدقہ کرنے سے روح کو قوت ملتی ہے۔اس لیے کہ ایسی صورتوں میں مادی تقاضوں کی شدید حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور جسم پر روح کی بھرپور قدرت کا اظہار ہوتا ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

إِن تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا هِی وَإِن تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَیرٌ لَّكُمْ وَیكَفِّرُ عَنكُم مِّن سَیئَاتِكُمْ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِیرٌ (البقرة: ۲۷۱)

“اگر اپنے صدقات علانیہ دو، تو یہ بھی اچھا ہے، لیکن اگر چھپا کر حاجت مندوں کو دو، تو یہ تمھارے حق میں زیادہ بہتر ہے، اور (اس طرح کا دینا) تمھارے گناہوں کو بھی دور کردے گااور جو کچھ تم کرتے ہوئے اللہ کو بہر حال اُس کی خبر ہے”

صدقہ دینے والے کی روح اتنی طاقت ور ہوتی ہے کہ وہ مفلس ہوجانے کے اندیشے کی پروا نہیں کرتا، اللہ پاک نے فرمایا:

الشَّیطَانُ یعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَیأْمُرُكُم بِالْفَحْشَاءِ وَاللَّهُ یعِدُكُم مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَفَضْلًا وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِیمٌ(البقرة: ۲۶۸)

“شیطان تمھیں مفلسی سے ڈراتا ہے اور شرمناک طرز عمل اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے، مگر اللہ تمھیں اپنی بخشش اور فضل کی امید دلاتا ہے اللہ بڑا فراخ دست اور دانا ہے”

اس آیت میں روح اور مادے کی کشمکش دیکھی جاسکتی ہے۔ مادہ پرستی صدقہ کرنے نہیں دیتی اور مفلسی کے اندیشے ابھار کر صدقے کے جذبے کو کم زور کرتی ہے۔ جب کہ پاکیزہ روح صدقے کے ذریعے اللہ کے فضل اور اس کی مغفرت کے مقام کو حاصل کرنا چاہتی ہے۔ صدقہ کرنے کو اپنا شیوہ بنالینے والا انسان اپنی روح کے تقاضوں کو جسم کے تقاضوں پر غالب کردیتا ہے۔ صدقہ دیتے ہوئے انسان کو کتنی جدوجہد کرنی ہوتی ہے اسے اللہ کے رسول ﷺ نے بڑے بلیغ انداز میں بیان کیا ہے، فرمایا:

“آدمی کو کوئی چیز صدقہ کرنے کے لیے اسے ستر شیطانوں کے جبڑوں سے آزاد کرانا ہوتا ہے۔ “ (حاكم)اس بلیغ تمثیل سے معلوم ہوتا ہے کہ صدقہ دینے والا کتنی زبردست روحانی ریاضت سے گزرتا ہے۔

نماز سے قوت ملتی ہے

نماز روحانی غذا اور ریاضت کا شان دار مرکب ہے۔ اس لیے وہ روحانی قوت کا زبردست سرچشمہ ہے۔ اللہ پاک نے فرمایا:

وَاسْتَعِینُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ وَإِنَّهَا لَكَبِیرَةٌ إِلَّا عَلَى الْخَاشِعِینَ (البقرة: ۴۵)

“صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو، یہ چیز مشکل ہے سوائے ان لوگوں کے لیے جو جھکنے والے ہیں”

نماز کے افعال واقوال روح کے لیے غذا کا بھرپور سامان رکھتے ہیں۔ اسی طرح نماز کے اوقات روح کو بھرپور ریاضت کا موقع دیتے ہیں۔ نماز کا پورا پورا خیال رکھنے اور اس پر مسلسل کار بند رہنے کے نتیجے میں انسان کی روح کو زبردست قوت حاصل ہوجاتی ہے۔ قرآن مجید میں نماز کی حفاظت اور اس پر مداومت کی تلقین کی گئی ہے۔

نماز کس طرح روح کو طاقت ور بناتی ہے، اس کا ذکر ہمیں ایک حدیث میں ملتا ہے، رسول پاک ﷺ نے فرمایا:

“جب تم سوتے ہو تو شیطان تمھارے سر کی گدی پر تین گرہیں لگادیتا ہے، اور ہر گرہ پر یہ کہتا ہے کہ ابھی رات لمبی ہے سوتے رہو۔ تو جب وہ اٹھتا ہے اور اللہ کو یاد کرتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، جب وہ وضو کرتا ہے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے اور جب وہ نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو تینوں گرہیں کھل جاتی ہیں اور وہ پھر چستی اور طبیعت کی پاکیزگی کے ساتھ دن کا آغاز کرتا ہے۔ اور اگر وہ ایسا نہیں کرتا ہے تو اس کی طبیعت پر گندگی اور سستی سوار رہتی ہے۔”(متفق علیہ)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نیند اور آرام کو تج دے کر نماز کے لیے اٹھ کھڑے ہونے کی صورت میں روح کو طاقت ملتی ہے اور انسان شیطان کی کھڑی کی ہوئی رکاوٹوں کو توڑنے والا بن جاتا ہے۔شیطانی بندشوں کو توڑ دینے کے نتیجے میں اس کے اندر پاکیزگی اور چستی آجاتی ہے۔

یہ بات سمجھنا ذرا مشکل نہیں ہے کہ جو شخص اللہ کو راضی کرنے کی نیت سے دن میں پانچ مرتبہ اپنی نیند، آرام اور مادی مصروفیات چھوڑ کر نماز کے لیے اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوجائے۔ پھر یہ کام وہ بلا ناغہ ہر روز کرے اور سستی و کاہلی کے ساتھ نہیں بلکہ چستی اور نشاط کے ساتھ کرے، نیز رات کے کسی پہر میں تہجد کی نماز بھی اس کا معمول ہو جسے وہ پورے شوق کے ساتھ ادا کرے، تو اس مسلسل خالص روحانی سرگرمی سے اس کی روح بہت طاقت ور ہوجائے گی اور اس کی روحانی طلب اس کے مادی تقاضوں پر یقینًا غالب آجائے گی۔

روح کو طاقت ور بنانے کا مطلب جسم کو کم زور کرنا نہیں ہے، یہ اصول ہمیں نماز کے معاملے میں بھی بہت واضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔ نہ تو یہ ہدایت دی گئی کہ انسان دنیا سے پورے طور پر کٹ کر عبادت وریاضت میں مصروف ہورہےاور نہ ہی عبادت اتنی کم اور مختصر رکھی گئی کہ اس میں روح کو طاقت ور ہونے کا موقع ہی نہ مل سکے۔ بلکہ دن میں پانچ مرتبہ عبادت کے بھرپور تجربے سے گزرنا ہوتا ہے اور ہر تجربے کے بعد دنیا کے فرائض وواجبات کی طرف واپسی کرنی ہوتی ہے۔اس طرح جسم کے تقاضوں کی تکمیل بھی ہوتی ہے اور روح کو مسلسل بھر پور غذا اور توانائی بھی ملتی رہتی ہے۔جسم توانا رہتا ہے اور روح اس سے زیادہ طاقت ور رہتی ہے۔

کوتاہ نظر لوگ نماز کو جسم کی ریاضت سمجھتے ہیں، حقیقت میں قیام وقعود، رکوع وسجود اور تکبیر و تسبیح روح کو بے پناہ طاقت دینے والی ادائیں ہیں۔

تقوی سے تقویت ملتی ہے

روح کی مسلسل ریاضت سے حاصل سےہونے والی قوت کا نام تقوی ہے۔تقوی کا مطلب ہے اللہ کی نگرانی کا گہرااحساس اور اس کی ناراضی سے بچنے کی شدید فکر۔ یہ فکر و احساس مادی تقاضوں کو اعتدال کی حد میں رکھتا اور شیطان کے حملوں سے حفاظت کرتا ہے۔تقوی سے روح کو بڑی تقویت ملتی ہے۔ اس کے لیے مادیت کے عفریت کو شکست دینا اور در پیش مادّی رکاوٹیں دور کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ تقوی کی قوت کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالی فرماتا ہے:

یا أَیهَا الَّذِینَ آمَنُوا إِن تَتَّقُوا اللَّهَ یجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانًا وَیكَفِّرْ عَنكُمْ سَیئَاتِكُمْ وَیغْفِرْ لَكُمْ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیمِ (الأنفال: ۲۹)

“اے ایمان والو! اگر اللہ کا تقوی اختیار کرو گے تو وہ تمھیں وہ چیز دے گا جس سے حق کو باطل سے الگ کردو اور تمھاری برائیاں تم سے دور کر دے گا اور تمھیں بخش دے گا اور اللہ بڑے فضل والا ہے”

تقوی نفس کو خدا ترسی کی لگام دینا ہے۔ تقوی نہیں ہو تو نفس بے لگام ہوجاتا ہے اور آوارہ گھومتا ہے۔ تقوی کے بغیر روح میں اتنی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ نفس کو آوارگی سے رو ک سکے، وہ کم زور پڑ کر خود نفس کی شرارتوں سے آلودہ ہوجاتی ہے۔

تقوی کی کوئی حد نہیں ہے۔ تقوی جتنا زیادہ ہوگا روح اتنی ہی مضبوط اور توانا ہوگی۔

یا أَیهَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ (آل عمران: ۱۰۲)

“اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ کا تقوی اختیار کرو جیسا کہ اسے اختیار کرنا چاہیے”

فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَاسْمَعُوا (التغابن: ۱۶)

“ جہاں تک تمھارے بس میں ہو اللہ کی ناراضی سے بچنے کی کوشش کرتے رہو”

تقوی کا اسلامی تصور روح کو مضبوط کرتا ہے مگر جسم کو کم زور نہیں ہونے دیتا۔ وہ جسم کے مادی تقاضوں کی تکمیل سے روکتا نہیں ہے بلکہ تقوی کے سائے میں ان کی تکمیل کا حکم دیتا ہے۔ اسے اس طرح سمجھیں کہ تقوی نکاح سے روکتا نہیں ہے، بلکہ نکاح کی تقریب تقوی کی آیتیں پڑھ کر انجام دی جاتی ہے۔

اللہ تعالی پرہیزگاری کا یہ طریقہ نہیں بتاتا ہے کہ جسمانی تقاضوں کو نظر انداز کرکےدنیا سے ناطہ توڑ لیا جائے۔ جسم کو محروم کرکے روح کو بہرہ مند کرنے کا تصور اسلام میں نہیں ہے۔ مثال کے طور پر درج ذیل دونوں آیتوں میں جسمانی تقاضوں کی تکمیل کرتے ہوئے تقوی اختیار کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ پہلی آیت میں جنسی تقاضے اور دوسری آیت میں شکم کے تقاضے۔

نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ وَقَدِّمُوا لِأَنفُسِكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُم مُّلَاقُوهُ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِینَ (البقرة: ۲۲۳)

“تمھاری بیویاں تمھاری کھیتیاں ہیں، اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو آؤ اور اپنے لیے آگے بھیجو اور اللہ تعالیٰ کا تقوی اختیار کرو اور جان رکھو کہ تم اس سے ملنے والے ہو اور ایمان والوں کو خوش خبری سنا دیجیے”

وَكُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ حَلَالًا طَیبًا وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِی أَنتُم بِهِ مُؤْمِنُونَ (المائدة: ۸۸)

“جو کچھ حلال و طیب رزق اللہ نے تم کو دیا ہے اُسے کھا ؤ پیو اور اللہ کا تقوی اختیار کرو جس پر تم ایمان لائے ہو”

تقوی کی مطلوب کیفیت یہ ہے کہ جسم نہ محرومی سے دوچار ہو نہ کم زوری میں مبتلا ہواور دوسری طرف روح کی طاقت ومسرت کا سامان ہوتا رہے۔ اور جسم پرروح کی حکومت قائم رہے۔ یہ روحانی قوت کا نہایت متوازن اور فطرت سے ہم آہنگ تصور ہے۔

احسان روح کی بہترین غذا ہے

اگر تقوی روح کی ریاضت ہے تو احسان روح کی غذا ہے۔ تقوی میں انسان برے کاموں سے بچنے کی ریاضت میں مشغول رہتا ہے۔ اور احسان میں انسان اچھے کام کرکے روح کو غذا فراہم کرتا ہے۔روح کو غذا پہنچانے والے اچھے کاموں کی فہرست بہت طویل ہے۔حمد وتسبیح کے چھوٹے مگر نہایت روح پرور کلمات سے لے کر یتیموں کی کفالت، غریبوں کی مدد اور مظلوموں کی نصرت سے ہوتے ہوئے شہادت حق کے مشکل ترین مراحل تک خیر کے تمام کاموں سے روح کو غذا ملتی ہے۔احسان ایک خوب صورت رویے کا نام ہے، جس میں انسانی روح کو اچھے سے اچھے کاموں کی تلاش ہوتی ہے، جس طرح شہد کی مکھی پاکیزہ رس کی تلاش میں سرگرداں رہتی ہے۔

احسان کے جذبے سے سرشار انسانوں کی روحانی کیفیت کیا ہوتی ہے، اس کا خوب صورت منظر درج ذیل آیتوں میں دیکھا جاسکتا ہے:

إِنَّهُمْ كَانُوا قَبْلَ ذَٰلِكَ مُحْسِنِینَ۔ كَانُوا قَلِیلًا مِّنَ اللَّیلِ مَا یهْجَعُونَ۔‏ وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ یسْتَغْفِرُونَ۔‏ وَفِی أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ (الذاریات: ۱۶-۱۹)

“وہ اُس دن کے آنے سے پہلے نیکو کار تھے۔ راتوں کو کم ہی سوتے تھے۔پھر وہی رات کے پچھلے پہروں میں معافی مانگتے تھے۔اور اُن کے مالوں میں حق تھا سائل اور محروم کے لیے”

روح معرفت کی پیاسی ہوتی ہے

انسان اس دنیا میں بہت سے انکشافات کرتا ہے، بہت سے علوم دریافت کرتا ہے، دور و نزدیک کی چیزوں کے خواص جانتا ہے، لیکن اس کے زیادہ تر علوم کسی نہ کسی طرح جسم کی ضرورتیں پوری کرنے والے ہوتے ہیں۔ ان کے ثمرات سے جسم کو غذا اور قوت حاصل ہوتی ہے۔ غرض علم و آگہی کی وہ ساری فتوحات جسم کی تشنگی بجھاتی ہیں۔ روح پیاسی رہ جاتی ہے۔

روح کو اس علم کی پیاس ہوتی ہے جو اسے ما ورائے مادّہ حقائق کے بارے میں بتائے۔ غیب میں رہتے ہوئے اسے پردہ غیب سے وہ آگہی ملتی رہے، جس سے اس کا رشتہ عالم غیب سے استوار رہے۔ اللہ کی طرف سے آنے والی وحی سے روح کی تسلی ہوتی ہے۔ وحی پر تدبرکرنے اور کائنات کی نشانیوں پر غور و فکر کرنے سے اسے سیری حاصل ہوتی ہے۔جس طرح اس دنیا میں جسم کے لیے علم وحکمت کے خزانے رکھے گئے ہیں، اسی طرح روح کے لیے بھی رکھے گئے ہیں۔ بلکہ اصل حکمت ومعرفت تو وہی ہے جس کی طلب روح کو ہوتی ہے۔ جسم کا علم جسم کے ساتھ اسی دنیا میں رہ جانے والا ہے، جب کہ روح کا علم روح کے ساتھ ساتھ جانے والا ہے۔

یہ انسان کی ستم ظریفی ہے کہ وہ جسم کو علم سے آراستہ کرنے پر تو خوب توجہ دیتا ہے، لیکن روح کو اس کے علم سے محروم چھوڑ دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں جسم تو خوب طاقت ور ہوجاتا ہے لیکن روح کم زور رہ جاتی ہے۔

اصل مطلوب یہ ہے کہ علم کے پہلو سے جسم بالکل کم زور نہ رہے، اس کی ضرورت بہرحال پوری کی جائے، انسانی دماغ کو دریافت، انکشاف، ایجاد اور ترقی کا خوب موقع ملے۔تاہم روح کی علمی ضرورت پر زیادہ توجہ کی جائے تاکہ اسے علم سے آراستہ جسم پر علمی برتری حاصل رہے۔یہ جسم پر روح کی حکومت کے لیے ضروری ہے۔

آخرت کےخیال میں بڑی قوت ہے

آخرت میں روحوں کو جمع کیا جائے گا۔ دنیا کا یہ جسم اپنی تمام خواہشات کے ساتھ پیچھے دنیا میں چھوٹ چکا ہوگا۔ اس وقت روحوں کا حساب ہوگا۔ کچھ روحیں تہی دست ہوں گی۔ زندگی کی مہلتِ عمل کا تمام حصہ ان کے جسموں کی نذر ہوچکا ہوگااور ان کے حصے میں کچھ نہ آیا ہوگا سوائے ان برائیوں کے جن کا ارتکاب ان کے جسم کرتے رہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:

وَیوْمَ یعْرَضُ الَّذِینَ كَفَرُوا عَلَى النَّارِ أَذْهَبْتُمْ طَیبَاتِكُمْ فِی حَیاتِكُمُ الدُّنْیا وَاسْتَمْتَعْتُم بِهَا فَالْیوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنتُمْ تَسْتَكْبِرُونَ فِی الْأَرْضِ بِغَیرِ الْحَقِّ وَبِمَا كُنتُمْ تَفْسُقُونَ (الأحقاف: ۲۰)

“پھر جب یہ کافر آگ کے سامنے لا کھڑے کیے جائیں گے تو ان سے کہا جائے گا: تم اپنے حصے کی نعمتیں اپنی دنیا کی زندگی میں ختم کر چکے اور ان کا لطف تم نے اٹھا لیا، اب جو تکبر تم زمین میں کسی حق کے بغیر کرتے رہے اور جو نافرمانیاں تم نے کیں اُن کی پاداش میں آج تم کو ذلت کا عذاب دیا جائے گا۔”

جب کہ کچھ روحیں مالا مال ہوں گی۔ زندگی کی مہلتِ عمل کا بڑا حصہ ان کےنصیب میں آیا ہوگااور ان کے جسموں کے نیک اعمال ان کے لیے بہترین سرمایہ قرار پائیں گے۔

غرض آخرت اپنی تمام تفصیلات اور مناظر کے ساتھ روحوں کا اچھا اور برا انجام بتاتی ہے۔ اسی لیے دنیا میں آخرت کا تذکرہ روح کے اندر فکر مندی اور بے چینی پیدا کرتا ہے۔ یہ بے چینی اور فکرمندی روح کو جسم کے مقابلے میں طاقت ور بناتی ہے۔ جسم دنیا کی لذتوں کے حوالے ہونا چاہتا ہے تو روح آخرت کی لذتوں کے لیے دیوانی ہوتی ہے۔ جسم دنیا کی پریشانیوں سے فرار اختیار کرنا چاہتا ہے تو روح آخرت کی پریشانیوں سے نجات پانے کے لیے کوشاں ہوتی ہے۔ جسم و روح کی اس کشمکش میں انسان کے سامنے آخرت کا تصور جتنا واضح ہوگا روح کو اتنی ہی زیادہ تقویت ملے گی۔

درج ذیل دونوں آیتوں میں دونوں طرح کی کیفیتوں کو دکھایا گیا ہے، نیک روحوں کے بارے میں کہا گیا:

قَالُوا إِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِی أَهْلِنَا مُشْفِقِینَ (الطور: ۲۶)

“یہ کہیں گے کہ ہم پہلے اپنے گھر والوں میں ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرتے تھے”

گناہ گار روحوں کے بارے میں بتایا گیا:

إِنَّهُ كَانَ فِی أَهْلِهِ مَسْرُورًا ‎.‏ إِنَّهُ ظَنَّ أَن لَّن یحُورَ ‎(الانشقاق: ۱۳،۱۴)

“وہ اپنے گھر والوں میں خوشی سے مست تھا، اُس نے سمجھا تھا کہ اسے کبھی پلٹنا نہیں ہے”

دونوں طرح کے لوگ اپنے گھر والوں کے ساتھ ہی زندگی گزار رہے ہیں، لیکن ایک گروہ پر آخرت سے لاپروائی اور دنیا کی لطف اندوزی سوار ہے اور دوسرے گروہ پر آخرت کی فکرمندی غالب ہے۔

غرض آخرت کا ذکر روح کو قوت دیتا اور مہمیز لگاتا ہے، اس لیے اس کا ذکر بار بار ہونا چاہیے۔قرآن مجید میں آخرت کا ذکر بار بار کیا گیا ہے۔

یہاں ایک پہلو خاص توجہ کا طالب ہے۔وہ یہ کہ قرآن مجید میں آخرت کا ذکر اس پیرایے میں کیا گیا ہے کہ روح کے ساتھ خود جسم بھی جہنم سے خوف زدہ اور جنت کے لیے مشتاق ہوجائے۔ آخرت میں جہنم کی تکلیفیں ہو یا جنت کی نعمتیں، ان میں سے بیشتر کو جسمانی حوالے سے پیش کیا گیا ہے۔ جنت کی لذتوں کے لیے جسم اپنے اندر شوق کی بے تابی پاتا ہےاورجہنم کا خوف جسم کے رونگٹے کھڑے کردیتا ہے۔ اس طرح قرآن کا تصورِ آخرت روح کو جسم سے الگ نہیں کرتا بلکہ جسم کو روح کا شریکِ شوق اور رفیقِ سفر بنادیتا ہے۔آخرت کی تیاری کے لیے جسم روح کا معاون ومددگار بن جاتا ہے۔

یاد رکھنے کی بات ہے کہ قرآن مجید میں انسان سے یہ مطالبہ نہیں کیا گیا ہے کہ وہ خود کو دنیا سے بالکل کاٹ کر کے آخرت کی تیاری کرے۔ انسان سے مطالبہ یہ ہے کہ وہ دنیا میں موجود سامانِ زندگی کے ذریعے آخرت کی تیاری کرے۔ دنیا و آخرت کے بارے میں یہ تصور روح کو مادّے سے علیحدہ ہونے کے بجائے مادّے پر حکومت کرنے کی راہ دکھاتا ہے۔

پاکیزہ روحوں کی رفاقت

اس دنیا میں پاکیزہ روحیں جب ایک دوسرے سے قریب ہوتی ہیں تو انھیں ایک دوسرے سے قوت ملتی ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے ایسی پاک روحوں کی رفاقت اختیار کرنے کی ترغیب دی۔ آپ سے پوچھا گیا کس طرح کے لوگوں کے ساتھ بیٹھنا اچھا ہے؟ آپ نے فرمایا: “جن کو دیکھنے سے اللہ کی یاد آئے، جن کی گفتگو سے علم میں اضافہ ہو اور جن کا عمل آخرت کی یاد تازہ کردے۔” (ابویعلی)

نفسانی اور مادّی بنیادوں سے اوپر اٹھ کر روحانی بنیادوں پر ایک دوسرے سے محبت کرنے والوں کا رتبہ بہت اونچا ہوتا ہے۔ رسول پاک ﷺ نے فرمایا:

“اللہ کے بندوں میں کچھ ایسے لوگ ہیں جو نہ نبیوں میں ہیں اور نہ شہید وں میں، تاہم قیامت کے دن اللہ کے یہاں ان کے مقام کو دیکھ کر انبیا اور شہدا ان پر رشک کریں گے۔ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول، ہمیں بتائیے وہ کون ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: وہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ کی روح کے ساتھ ایک دوسرے سے محبت کی،اس محبت کی بنا ان کے درمیان کوئی خونی رشتہ تھا نہ ہی مال و دولت کا تبادلہ تھا۔ اللہ کی قسم ان کے چہروں نور کا پیکر ہوں گے، وہ نور سے آراستہ ہوں گے۔ جب لوگ خوف زدہ ہوجائیں گے تو انھیں خوف نہیں ہوگا، اور جب لوگ غم زدہ ہوجائیں گے تو انھیں غم نہیں ہوگا۔ “(ابوداود)

روحانی محفوں کی تاثیر

روح کی طاقت بڑھانے کا ایک اہم ذریعہ روحانی محفلیں ہیں۔ایسی محفلیں آراستہ کرنا پاکیزہ نفوس کا معمول رہا ہے۔ روحانی محفل میں شریک لوگ ایک دوسرے کے اندر روحانیت کی جوت جگاتے ہیں۔ حضرت معاذ بن جبلؓ نے اپنے ساتھی حضرت اسود بن ہلالؒ سے کہا: چلو کچھ دیر بیٹھ کر ایمان کا کیف اٹھاتے ہیں۔ اجْلِسْ بِنَا نُؤْمِنُ سَاعَةً۔ حضرت عبداللہ بن رواحہؓ سے منقول ہے کہ وہ اپنے کچھ ساتھیوں کا ہاتھ تھامتے اور کہتے: آؤ، کچھ دیر ایمان کی کیفیت سے گزرتے ہیں، آؤ اللہ کا ذکر کریں اور اپنا ایمان بڑھائیں۔ اسی طرح حضرت عمر بن خطابؓ اپنے ساتھیو ں سے کہتے: چلو، ایمان بڑھایا جائے، پھر وہ اللہ کا ذکر کرتے۔ یہ روحانی مجلسیں ہوتیں، جن میں اللہ کا ذکر ہوتا، اس سے روح کو تازگی اور توانائی ملتی۔ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ ہر رات اہل علم کو جمع کرتے، وہ مل کر موت، قیامت اور آخرت کو یاد کرتے اور رویا کرتے۔

روحانی طاقت کے کرشمے

علامہ ابن قیمؒ نے لکھا ہے کہ اللہ کا ذکر ذاکر کو غیر معمولی قوت عطا کرتا ہے۔ وہ ذکر کے ساتھ وہ کچھ کرلیتا ہے کہ ذکر کے بغیر اسے کرنے کا وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ یہ روحانی طاقت کے نتیجے میں جسم کی قوتِ کار بڑھ جانے کا بیان ہے۔

قوتِ کار سے زیادہ اہمیت قوتِ مدافعت کی ہے۔جسم جب جھٹکوں کو برداشت کرنے کی قوت رکھتا ہے، تبھی کچھ اقدام کرسکتا ہے۔ طاقت ور روح جسم کو غیر معمولی قوت مدافعت دیتی ہے۔ روح جب طاقت ور ہوجاتی ہے تو وہ انسان کو جسمانی تکلیفوں اور مادّی نقصانات کے مقابلے میں بہت مضبوط بنادیتی ہے۔انسان دوسرے انسانوں کے مقابلے میں کم زور اپنے جسم اور جسم سے وابستہ مادّی تقاضوں کی بنا پر ہوتا ہے۔جان کا خوف، مال کا خوف، شان و شوکت کا خوف، شہرت و منصب کا خوف، جاگیر وریاست کا خوف، ایسے بے شمار خوف انسان کو عدم تحفظ کا شکار رکھتے ہیں اور اس کی استقامت سلب کرلیتے ہیں۔ ماضی میں ہونے والے مادّی نقصانات کا غم اور مستقبل کے بے شمار اندیشے، زمانہ حال کی بے چینی اور زمانہ مستقبل کے بارے میں مایوسی اور اس سب کے ساتھ مجبوری اور بے بسی کا احساس، یہ سب انسان کو جتنی جسمانی، نفسیاتی اور اخلاقی بیماریوں کا شکار نہ بنادیں، کم ہے۔ لیکن جب روح طاقت ور ہوتی ہے تو انسان کی نظر میں وہی اس کی اصل متاع ہوتی ہے۔ اور پھر وہ ہر قسم کے نقصان اور ہر طرح کے اندیشے سے بے نیاز ہوجاتا ہے۔ پھر بڑے سے بڑے خطرے کو انسان خاطر میں نہیں لاتا اور نہایت اطمینان سے بامقصد زندگی گزارتا ہے۔

حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی آنکھوں کی بینائی چلی گئی، انھوں نے شعر کے پیرایے میں کہا: اگر اللہ نے میری آنکھوں کی روشنی لے لی تو کیاغم! میرے قلب و روح میں تو روشنی موجود ہے۔

حضرت عروہ بن زبیرؓ کے ایک بیٹے کا انتقال ہوا اور اسی دن ان کا ایک پیر بھی کاٹنا پڑا، انھوں نے کہا: اے اللہ! حمد تیرے ہی لیے ہے۔ تو نے مجھ سے کچھ لیا تو دیا بھی تو سب کچھ تو نے ہی تھا، اور اگرتو نے مجھے کچھ تکلیف میں مبتلا کیا تو تمام عافیت بھی تو تو نے ہی دی تھی، تو نے مجھے چار ہاتھ پاؤں عطا کیے پھران میں سے ایک ہی واپس لیا، اور چار بیٹے عنایت کیے اوران میں سے ایک ہی بیٹا واپس لیا۔

امام ابن تیمیہ ؒنے کہا: میرے دشمن میرا کیا بگاڑیں گے؟ میرا باغ و چمن تو میرے سینے میں ہے، میں کہیں بھی جاؤں یہ میرا ساتھ نہیں چھوڑتے، مجھے قید کردیں تو خلوت میسر آجائے گی، مجھے قتل کردیں تو شہادت سے سرفراز ہوجاؤں گا اور اگر مجھے شہر بدر کردیں تو سیاحت کا لطف اٹھاؤں گا۔

مولانا مودودیؒ کو پھانسی کی سزا سنائی گئی اور رحم کی اپیل کرنے کا موقع دیا گیا تو اس مردِ آہن نے کہا: زندگی اور موت کے فیصلے زمین پر نہیں آسمان پر ہوتے ہیں۔ اگر وہاں پر میری موت کا فیصلہ ہوچکا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت مجھے موت سے نہیں بچاسکتی اور اگر وہاں سے میری موت کا فیصلہ نہیں ہوا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت میرا بال بیکا نہیںکرسکتی۔

یہ کچھ مثالیں ہیں، جو بتاتی ہیں کہ روح کی قوت انسان کو جسمانی نقصانات سے بے نیاز کرکے کس قدر طاقت ور بنادیتی ہے۔

جسمانی اور مادّی نقصانات کے غم اور اندیشوں سے محفوظ رکھنے میں روحانی طاقت کا بہت بڑا کردار ہوتا ہے۔اور روح کو باہر سے کسی نقصان کے پہنچنے کا اندیشہ رہتا نہیں ہے اگر روح اپنے آپ میں طاقت ور ہو۔

روحانی طاقت کا بھرپور استعمال ہو

روحانیت کا کام صرف نفسانیت کو دبانا اور کچلنا نہیں ہے اور نہ ہی نفسانیت کی زنجیروں سے محض آزاد ہوجانا ہے۔ عالمِ ارواح سے ہر انسانی روح کو ایک مشن کے ساتھ دنیوی جسم میں بھیجا جاتا ہے۔ روح کو طاقت ور بنانے کے بعد اس طاقت کا بھرپور استعمال روحانیت کو نئی فتوحات سے ہم کنار کرتا ہے۔روح اگر محض اپنے جسم پر غلبہ حاصل کرنے پر اکتفا کرے تو وہ آخرکار منجمد ہوجاتی ہے۔روح کو تو رواں دواں رہنا چاہیے، یہی اس کی طبیعت ہے۔ اس لیے صحیح روحانی اپروچ یہ ہے کہ روح طاقت ور ہوکر جسم پر غلبہ حاصل کرے، اسے اپنا فرماں بردار بنائے اور پھر اس جسم کے ساتھ نئے میدانوں کو سر کرنے نکل پڑے۔حضرت لقمانؑ نے اپنے بیٹے کو بڑی معنی خیز نصیحت کی۔ فرمایا:

یا بُنَی أَقِمِ الصَّلَاةَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنكَرِ وَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا أَصَابَكَ إِنَّ ذَٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ (لقمان: ۱۷)

“اے میرے بیٹے! تو نماز کا اہتمام کر اور نیکی کا حکم دے اور برائی سے منع کر اور جو تکلیف تجھے پہنچے اس پر صبر کر، بےشک یہ بڑے اہم اور ضروری کام ہیں”

روحانی نقطہ نظر سے دیکھیں تو پہلے نماز کا اہتمام کرنے کی نصیحت کی، جو روحانی طاقت کا سرچشمہ ہے۔ پھر اس طاقت کے بھرپور استعمال کی نصیحت کی۔ بھلائی کا حکم دینا، برائی سے روکنا اور اس راہ میں پیش آنی والی مصیبتوں کا صبر واستقامت کے ساتھ سامنا کرنا روحانی طاقت کا بہترین استعمال ہے۔ اس کے بعد کی دو آیتوں میں طاقت کے غلط استعمال سے خبردار کیا۔انسانوں پر اپنی برتری جتانا طاقت کا نہایت غلط استعمال ہے۔

سورہ مزمل میں بھی اس حوالے سے بہترین رہ نمائی ملتی ہے۔ وہاں یہ تعلیم دی گئی کہ دن میں تمھیں بہت دوڑ دھوپ کرنی ہے، اس لیے رات میں خوب عبادت کرو، تاکہ دن کی جدوجہد کے لیے طاقت اور توانائی حاصل ہوتی رہے۔(سورہ مزمل: آیت ا تا ۸)

اوپر امام نوویؒ کی بات بھی گزری ہے جس میں انھوں نے طاقت ور مومن کے کرنے کے کاموں کا تذکرہ کیا ہے۔

اللہ کے دین کے حقیقی داعی و علم بردار وہی ہوتے ہیں جن کی روحیں صحت مند اور توانا ہوتی ہیں۔ اور اس کے ساتھ اگر ان کےجسم بھی طاقت ور اور گونا گوں صلاحیتوں سے مالا مال ہوں تو سونے پر سہاگہ ہوتا ہے۔

یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ روحانیت اور تحریکیت میں تضاد نہیں ہے کہ روحانیت کی طرف دھیان بڑھے تو تحریکیت سے منھ موڑ لیا جائے۔روحانیت اور تحریکیت میں گہرا رشتہ ہے۔ تحریکیت روحانیت کو مقصد عطا کرتی ہے اور روحانیت تحریکیت کو منزل سے قریب کرتی ہے۔

Share.