روح” ایک مفہومی اور فلسفی مسئلہ ہے جس پر مختلف مذاہب، فلسفیہ، اور علمی ترقی کے متعلقہ میدانوں میں مختلف نظریات موجود ہیں۔ اسلامی تصور میں، روح انسان کا ایک مہم جزو ہے جو اللہ کی طرف سے انسان میں دی گئی ہے۔ اس کا انسانی جسم سے مختلف ہوتا ہے اور اس کی زندگی اور فکرت کو اختیار کرتا ہے۔

علمی حوالے سے، روح کا تفسیر مختلف ہوتا ہے۔ کچھ لوگ روح کو غیر مادی اور غیر محسوس انجانے چیزوں کا مجموعہ تصور کرتے ہیں جو انسانی وجود کو زندہ رکھتا ہے۔ دوسرے علمی نظریات مانتی ہیں کہ روح کی وجودگی اور کارکردگی کا کوئی سائنٹیفک ثبوت نہیں ہے اور اسے محض دینی یا فلسفی بنیادوں پر ماننا چاہئے۔

فلسفیہ میں، روح کا مطالعہ جزوی طور پر انسانی ذہانت، احساسات، اور وجدان سے متعلق ہوتا ہے۔ ایسے فلاسفے جو معتقد ہوتے ہیں کہ روح کی وجودگی ثابت ہو سکتی ہے، اس کا تجزیہ کرتے ہیں اور اس کے مختلف نظریات پیش کرتے ہیں۔

کلمہ “روح” کا مطلب اور اس کی حقیقت کا جائزہ لینے کے لئے، علمی، دینی، اور فلسفی متون کی تعلیم اور مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔

کسی بات کو سمجھنے اور اس کی حقیقت کو تلاش کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اس بات کی  طرف اپنی تمام تر ذہنی صلاحیتوں کے ساتھ متوجہ ہوں اور اس بات سے متعلق جتنے عوامل ہیں جتنے محرکات ہیں ان سے آگاہی حاصل کی جائے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات سے متعارف ہونے اللہ کی ذات کو جاننے اور اللہ تعالیٰ کی صفات سے آگاہ ہونے کے لئے اللہ کی تخلیق کی ہوئی کائنات میں تفکر کرنا ضروری ہے۔

ایک بہت بڑا آرٹسٹ ہے بہت اچھی تصویر بنا سکتا ہے لیکن کاغذ اور کینوس پر کبھی تصویر نہیں بناتا۔ اس کا تعارف مصور کی حیثیت سے نہیں ہوتا۔ کسی مصور کو ہم اس وقت مصور کہتے ہیں جب اس کی تخلیقات ہمارے سامنے ہوں۔ خالق کو پہچاننے اور خالق کی صفات سے وقوف حاصل کرنے کے لئے مخلوق کا پہچاننا اور تخلیقی فارمولوں سے واقفیت حاصل کرنا ضروری ہے۔ ہم جب کائنات کے بارے میں تفکر کرتے ہیں تو ہمیں دو بنیادی باتوں کا سراغ ملتا ہے۔ ایک یہ کہ کائنات کے اندر زندگی رواں دواں ہے۔ ساتھ ہی یہ کہ زندگی کسی کے تابع ہے۔ افراد کائنات کو زندہ رکھنے والی شئے جب تک فرد کو زندگی منتقل کرتی رہتی ہے فرد متحرک رہتا ہے اور جب یہ شئے فرد سے اپنا رشتہ توڑ لیتی ہے تو فرد زندگی کھو دیتا ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو تمام افراد کائنات میں جاری و ساری ہے۔ اس شئے کا نام” رُوح” ہے۔

رُوح کیا ہے

اللہ تعالیٰ کے ذہن سے نکلا ہوا ایک لفظ ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ لا متناہی ہیں اور غیر متغیر ہیں، شکست و ریخت سے ماوراء ہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کا لفظ بھی لاتغیر ہے۔ مسلسل حرکت میں ہے۔ ازل تا ابد حرکت میں رہے گا۔ عقدہ یہ کھلا کہ   رُوح مسلسل حرکت ہے۔

کائنات کے اجزائے ترکیبی پر ہم غور کرتے ہیں تو ہمیں ایک چیز بھی ایسی نہیں ملتی جو اس قانون سے باہر ہو۔ انسان کی روحانی صلاحیتوں کا جب تذکرہ آتا ہے اور نوعِ انسانی کا کوئی فرد   رُوح کی ساخت کو سمجھنا چاہتا ہے تو اسے باور کرنا پڑتا ہے کہ   رُوح مسلسل حرکت چاہتی ہے اور جب تک حرکت قائم رہتی ہے۔ آدمی کے اندر عمل کا صدور ظاہر ہوتا رہتا ہے۔ کلیہ یہ بنا کہ ساری کائنات ایک حرکت ہے۔ کائنات میں موجود تمام افراد ایک نظام کے تحت ایک دوسرے کی وابستگی کے ساتھ مسلسل حرکت میں ہیں۔ ظاہر حالات میں ہمارے سامنے اپنی پیدائش ہے۔ ماں کے پیٹ میں پہلے دن سے پیدائش تک اور پیدا ہونے کے بعد سے موت تک کوئی لمحہ کوئی آن کوئی گھڑی کوئی دن کوئی گھنٹہ کوئی منٹ ایسا نہیں ہے۔ جس میں حرکت نہ ہو۔

انسانی زندگی کا تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ ہر انسان دو دماغوں میں بند ہے یا انسانی زندگی دو دماغوں میں تقسیم ہے۔ ان دو رخوں کا تذکرہ شعور اور لاشعور کے نام سے ہوچکا ہے۔ جب انسان شعور میں ہوتا ہے تو اس کی کیفیات الگ ہوتی ہیں اور جب انسان لاشعور میں زندگی بسر کرتا ہے تو کیفیات مختلف ہوتی ہیں۔ لیکن حرکت کسی وقت ساقط نہیں ہوتی۔ اس لئے آدم زاد شعوری کیفیات میں ہو یا لاشعوری کیفیات میں ہو مسلسل حرکت میں رہتا ہے۔ جب کوئی انسان شعوری زندگی میں حرکت کرتا ہے اس کے اوپر زمان و مکان کی پابندی عائد ہوتی ہے۔ زندگی کے اس آدھے رُخ کو بیداری کہا جاتا ہے اور جب کوئی بندہ لاشعوری زندگی میں سفر کرتا ہے اس کے اوپر سے زمان و مکان کی گرفت ٹوٹ جاتی ہے۔ اس رُخ کو خواب کہا جاتا ہے۔ دیکھنے اور سمجھنے کی طرزوں کا تجزیہ کرنے سے ہمارے اوپر اس قانون کا انکشاف ہوتا ہے کہ اگر ہم اپنے ارادے اور اختیار سے کسی عمل کی طرف متوجہ رہتے ہیں تو وہ عمل ہمیں یاد رہتا ہے اور اگر ہم عمل کرنے کے باوجود ذہنی طور پر اس طرف متوجہ نہیں ہوتے تو وہ عمل بھول کے خانے میں جا پڑتا ہے۔ بیداری اور خواب دونوں حالت میں یہ صورت موجود رہتی ہے۔ جس طرح کوئی آدمی بیداری میں کئے ہوئے اعمال و حرکات کی طرف متوجہ ہو کر اسے یاد رکھنا چاہتا ہے تو وہ یاد رہتے ہیں۔ اسی طرح اگر خواب کی زندگی میں کئے ہوئے اعمال و حرکات کی طرف متوجہ رہے تو وہ بھی یاد رہتے ہیں۔

عام مشاہدہ ہے کہ زندگی کی دو طرزوں میں ایک طرز یہ ہے کہ طبیعت آدمی کو اس بات پر مجبور کرتی ہے کہ وہ سو جائے۔ پھر مجبور کرتی ہے کہ وہ بیدار ہو جائے یعنی طبیعت اس بات کی عادی ہے کہ آدمی کو سلا کر لاشعور کو بیدار کر دے اور آدمی کو جگا کر لاشعور کو سلا دے۔ لاشعور کو بیدار کرنے اور شعور کی Activitiesسے واقفیت حاصل کرنے کے لئے ہمیں طبیعت کی اس عادت کو سمجھنا پڑے گا۔ ہم اس بات کی عادت ڈال سکتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ بیدار رہ کر لاشعور کی حرکات کو بیداری میں مشاہدہ کر لیں۔ شروع شروع میں اس عادت کی خلاف ورزی کرنا طبیعت کے لئے بار بنتا ہے۔ اگر آدمی مشق جاری رکھے یعنی نیند کو قریب نہ آنے دے تو دو دن اور دو رات گزرنے کے بعد طبیعت میں ایسا ٹھہراؤ آ جاتا ہے کہ لاشعوری حرکات بند آنکھوں کے سامنے آنے لگتے ہیں۔ اسی طرح کئی ہفتے یا کئی ماہ اگر جاگنے کا اہتمام کیا جائے تو کھلی آنکھوں کے سامنے بھی لاشعوری حرکات آنے لگتی ہیں اور درجہ بدرجہ آدمی غیب کی دنیا سے متعارف ہو جاتا ہے۔ بند آنکھوں سے لاشعوری زندگی کو دیکھنا یا غیب کی دنیا میں داخل ہو کر غیب کی دنیا سے متعارف ہونا تصوف کی اصطلاح میں”ورُود” کہلاتا ہے۔ مشق کرتے کرتے نگاہ کے اندر اتنی سکت پیدا ہو جاتی ہے کہ آدمی بیداری کی حالت میں کھلی آنکھوں سے باطنی دنیا کا بھی مشاہدہ کر لیتا ہے اس حالت کا نام شہود ہے۔

ضروری ہے کہ یہ مشق مرشد کریم کی نگرانی میں کی جائے۔ بصورت دیگر دماغی خلل واقع ہو جاتا ہے۔ روحانی استاد یا مرشد سالک کو اس وقت مشق کرائیں جب وہ خود ان مشقوں سے گزر کر ماورائی دنیا کا مطالعہ کر چکے ہوں۔

Share.