عالم جُو

اللہ تعالیٰ نے کائنات کو بنانے کا ارادہ اس لئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور بھی ایسی صورتیں ہوں جو اللہ تعالیٰ کو پہچانیں یعنی خالق کائنات نے چاہا کہ میں پہچانا جاؤں جیسے ہی یہ تقاضہ پیدا ہوا۔ اللہ تعالیٰ کے ذہن نے حرکت کی اور کائنات وجود میں آ گئی۔ پہچاننے کے لئے ضروری تھا کہ خالق کے علاوہ بھی کوئی ہو اور مخلوق کے اندر پہچاننے کی قدریں بھی موجود ہوں۔ پہچاننے کی قدروں کا مطلب یہ ہے کہ مخلوق پہچاننے جاننے سمجھنے سننے دیکھنے اور محسوس کرنے کا ادراک رکھتی ہو۔ اللہ تعالیٰ چونکہ مجموعہ اوصاف ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ کے ارادے نے حرکت کی تو جس ترتیب جن قاعدوں اور جن ضابطوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے ذہن میں کائنات کی تشکیل کا پروگرام تھا وجود میں آ گیا۔

کائنات کی تشکیل کے پروگرام کا پہلا مظاہرہ لوح محفوظ پر ہوا۔ تصوف میں لوح محفوظ کو لوح اول کہا جاتا ہے۔

کائنات کی تخلیق کا پہلا مرحلہ لوح محفوظ ہے۔ کائنات میں جو بھی حرکت واقع ہونے والی ہے یا کائنات میں جس قسم کا تغیر و تبدل ہونے والا ہے یا ہو چکا ہے یا ہو رہا ہے اس کے تمام نقوش لوح اول پر محفوظ ہیں۔ یہ ایک اجتماعی پروگرام ہے یعنی کائنات کا ہر فرد اجتماعی حیثیت میں تصویری خدوخال کے ساتھ موجود ہے۔

مثال: ایک فلم ہے جس میں ایک ساتھ مختلف النوع شکلیں اور صورتیں ہیں لیکن ابھی فلم کے اندر ہی ہیں۔ وہ تصویریں حرکت میں نہیں آئیں۔ فلم کو اگر ہم اسکرین مان لیں تو فلم کا مظاہرہ جس جگہ ہو گا یعنی متحرک تصویریں ہمیں نظر آئیں گی اس کا نام بھی ہم (Screen) اسکرین ہی رکھ سکتے ہیں۔ اب ہم یوں کہیں گے کہ دو اسکرینیں ہیں یا دو پردے ہیں۔ ایک پردے پر تصویریں بنی ہوئی ہیں لیکن متحرک نہیں ہیں اور دوسرے پردے پر تصویریں متحرک ہیں۔ یہ تصویریں بولتی ہیں ناچتی ہیں، ہنستی کھیلتی ہیں جس اسکرین پر تصویریں موجود ہیں مگر متحرک نہیں ہیں، لوح اول ہے اور جس اسکرین پر تصویریں متحرک ہیں وہ ’’عالم جُو’’ ہے۔ یعنی تمثال کا دوسرا عالم بھی ایک فلم کی صورت میں متحرک ہے۔ لیکن حرکت کا تعلق اجتماعی ہے۔ حرکت میں ارادہ بھی شامل ہے چونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بااختیار قرار دیا ہے اس لئے لوح محفوظ کا جو نقش عالم جُو یا لوح دوئم پر نازل ہوتا ہے اس کے اندر انفرادی نوعی اختیارات شامل ہو کر دوبارہ لوح محفوظ پر منتقل ہوتے ہیں۔ اس تعریف کی روشنی میں لوح محفوظ پہلا عالم تمثال ہے اور لوح دوئم دوسرا عالم تمثال ہے جس میں انسانی ارادے بھی شامل ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے اپنی تعریف میں پانچ بنیادی باتوں کا تذکرہ کیا ہے اور ان باتوں سے خالق اور مخلوق کے رشتے کی وضاحت فرمائی ہے جس پر غور و فکر کر کے مخلوق خالق کے ساتھ اپنا تعلق تلاش کر سکتی ہے۔ عالم تمثال اول یعنی لوح محفوظ بھی اللہ تعالیٰ کے ذہن میں موجود تھی اور موجود ہے، لوح دوئم (دوسرا عالم تمثال) لوح اول کا عکس ہے۔ اس لئے اس کا تعلق بھی براہ راست اللہ تعالیٰ کی ذات سے ہے۔

سوال یہ ہے کہ لوح دوئم یا لوح اول تک رسائی کا ذریعہ کیا ہے؟

لوح دوئم یا لوح اول تک رسائی حاصل کرنے کے بعد براہ راست اللہ تعالیٰ کے ساتھ رشتہ قائم ہو جاتا ہے۔ اس رشتہ کو قائم کرنے کا واحد ذریعہ جو اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا ہے۔ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کا محتاج نہیں ہے اور بندے کی تعریف ہی یہ ہے کہ وہ زندگی کے ہر مرحلے پر اللہ کا محتاج ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ اخلاص میں پانچ ایجنسیوں (Agencies) کا تذکرہ کیا ہے۔ پہلی صفت وحدت ہے۔ اللہ تعالیٰ مخلوق کی طرح کثرت نہیں ہے۔ دوسری صفت بے نیازی ہے۔ اللہ تعالیٰ مخلوق کی طرح کسی کا محتاج نہیں ہے۔ تیسری صفت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کا باپ نہیں ہے۔ چوتھی صفت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کا بیٹا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی پانچویں تعریف یہ ہے کہ اس کا کوئی خاندان نہیں۔ یہ بات ہر ذی فہم آدمی سمجھ سکتا ہے کہ خالق اور مخلوق کی تعریفی حدیں ایک دوسرے کے برعکس ہوں گی۔ یعنی جو تعریف اللہ کی ہو گی۔ وہ مخلوق کی نہیں ہو گی۔ اور جو تعریف مخلوق کی ہو گی وہ تعریف اللہ کی نہیں ہو گی۔ اب ان پانچ ایجنسیوں پر غور کرنے سے مشاہدہ ہوتا ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ایسی ہے جس صفت سے بندہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ رشتہ اور تعلق قائم کر سکتا ہے اور وہ رشتہ”بے نیازی’’ ہے۔ جب کوئی بندہ مخلوق سے اپنی احتیاج منقطع کر لیتا ہے تو لاشعوری طور پر اس کی آنکھ اس بات کا مشاہدہ کر لیتی ہے کہ تمام ضروریات کا واحد کفیل اللہ ہے۔ خالق وحدت ہے۔ لیکن مخلوق وحدت نہیں ہو سکتی۔ مخلوق کا کثرت میں ہونا ضروری ہے۔ خالق مخلوق سے بے نیاز ہے اور مخلوق خالق کی محتاج ہے۔ خالق باپ نہیں رکھتا تو مخلوق باپ رکھتی ہے۔ خالق کا کوئی بیٹا نہیں مخلوق کا بیٹا ہوتا ہے۔ خالق کا کوئی خاندان نہیں۔ مخلوق کا خاندان ہوتا ہے۔

ان پانچ صفات میں سے چار صفات میں مخلوق خالق کے ساتھ رابطہ قائم نہیں کر سکتی۔ صرف ایک صفت ایسی ہے جس میں مخلوق اپنی تمام احتیاج کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ وابستہ کر کے اپنا رشتہ مستحکم کر سکتی ہے۔ اس طرزِفکر کو استغناء کہا جاتا ہے۔ یہ بات بتائی جا چکی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے ذہن نے حرکت کی تو صفات الٰہیہ کائنات کی شکل و صورت میں موجود ہو گئی اور اللہ تعالیٰ کی صٖفات کے اجزاء یعنی اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی مختلف النوع صورتیں بن گئیں۔ یہ صورتیں وہ صورتیں ہیں جو مخلوق کی شکل و صورت میں     رُوح کی حیثیت سے لوح محفوظ پر موجود ہیں۔ انہی روحوں کو یا موجودات کو قرآن نے”امر ربی’’ کہا ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ کائنات کا ہر فرد اللہ تعالیٰ کے حکم کی ایک تصویر ہے۔ یہی حکم زندگی موت اور نزول صعود میں ہر جگہ متحرک ہے۔

Share.