یہ بات ذہن نشین ہونا ضروری ہے کہ ہم جس علم کو سیکھ رہے ہیں اس کی نوعیت علمِ حضوری کی ہے۔ علمِ حضوری وہ علم ہے جو ہمیں غیب کی دنیا میں داخل کر کے غیب سے متعارف کراتا ہے۔ علمِ حضوری وہ علم ہے جس کی حیثیت براہ راست ایک اطلاع کی ہے۔ یعنی علمِ حضوری سیکھنے والے بندے کے اندر لاشعوری تحریکات عمل میں آجاتی ہیں۔ لاشعوری تحریکات عمل میں آ جانے سے مراد یہ ہے کہ حافظہ کے اوپر ان باتوں کا جو بیان کی جا رہی ہیں ایک نقش ابھرتا ہے۔ مثلاً اگر علمِ حضوری سکھانے والا کوئی استاد کبوتر کہتا ہے تو حافظہ کی سطح پر یا ذہن کی اسکرین پر کبوتر کا ایک خاکہ بنتا ہے اور جب الفاظ کے اندر گہرائی پیدا ہوتی ہے تو دماغ کے اندر فی الواقع کبوتر اپنے پورے خدوخال کے ساتھ بیٹھا ہوا نظر آتا ہے۔ اسی طرح جب استاد کسی سیارے یا ستارے کا تذکرہ کرتا ہے تو حافظے کی اسکرین پر روشن اور دمکتا ہوا ستارہ محسوس ہوتا ہے۔ اسی طرح روحانی استاد جب جنت کا تذکرہ کرتا ہے تو جنت سے متعلق جو اطلاعات ہمیں مل چکی ہیں ان اطلاعات کی ایک فلم دماغ کے اندر ڈسپلے (Display) ہوتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ ذہن کے اندر یہ بات ہمیں نقش نظر آتی ہے کہ جنت ایک باغ ہے جس میں رنگ رنگ خوبصورت پھول ہیں۔ آبشاریں ہیں۔ دودھ کی طرح سفید اور شہد کی طرح میٹھے پانی کی نہریں ہیں اور وہاں ایسے خوبصورت مناظر ہیں جن کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی۔

یہ علمِ حضوری کی مختصر تعریف ہے۔

علمِ حضوری اور علمِ حصولی میں فرق یہ ہے کہ جب کوئی استاد اپنے کسی شاگرد کو تصویر بنانا سکھاتا ہے تو گراف کے اوپر تصویر بنا دیتا ہے اور بتا دیتا ہے کہ اتنے خانوں کو اس طرح کاٹ دیا جائے تو آنکھ بن جاتی ہے اور اتنی تعداد میں خانوں کے اوپر پینسل پھیر دی جائے تو ناک بن جاتی ہے اور گراف کے اندر چھوٹے چھوٹے خانوں کو اس طرح ترتیب سے کاٹا جائے تو کان بن جاتا ہے۔ شاگرد جتنے ذوق و شوق سے استاد کی رہنمائی میں ان خانوں کے اندر تصویر کشی کرتا ہے اسی مناسبت سے وہ فنکار بن جاتا ہے۔

اس کے برعکس علمِ حضوری ہمیں بتاتا ہے کہ ہر انسان کے اندر تصویر بنانے کی صلاحیت موجود ہے۔ ہر انسان کے اندر کرسی بنانے کی صلاحیت موجود ہے۔ ہر انسان کے اندر کرتا قمیض سینے کی صلاحیت موجود ہے۔ استاد کا کام صرف اتنا ہے کہ وہ شاگرد کے اندر موجود لوہار، درزی، بڑھئی، مصور بننے کی صلاحیت کو متحرک کر دیتا ہے اور جیسے جیسے شاگرد اس صلاحیت سے استفادہ کرتا ہے اپنے فن میں مہارت حاصل کر لیتا ہے۔

اب ہم اس بات کو ذرا اور وضاحت سے بیان کرتے ہیں۔

دنیا میں جو کچھ موجود ہے یا آئندہ ہونے والا ہے یا گزر چکا ہے۔ وہ سب خیالات کے اوپر رواں دواں ہے۔ اگر ہمیں کسی چیز کے بارے میں کوئی اطلاع ملتی ہے باالفاظ دیگر اس چیز کا خیال آتا ہے تو وہ چیز ہمارے لئے موجود ہے اور اگر ہمیں اپنے اندر سے کسی چیز کے بارے میں اطلاع نہیں ملتی یا کسی چیز کے بارے میں خیال نہیں آتا تو وہ چیز ہمارے لئے موجود نہیں ہے۔ جب کوئی آدمی مصور بننا چاہتا ہے تو پہلے اس کے ذہن میں خیال آتا ہے کہ مجھے تصویر بنانی ہے۔ کوئی آدمی بڑھئی بننا چاہتا ہے تو اس کے ذہن میں خیال آتا ہے کہ مجھے بڑھئی کا کام کرنا ہے۔

 

علیٰ ہذالقیاس دنیا کے ہر علم کی یہی نوعیت ہے۔ پہلے اس علم کے بارے میں ہمارے اندر خیال پیدا ہوتا ہے اور ہم اس خیال کے آنے کے بعد اس مخصوص فن یا مخصوص علم کو سیکھنے کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں اور ہمیں ایک استاد کی تلاش ہوتی ہے۔ استاد صرف اتنا کام کرتا ہے کہ ہمارے ذوق و شوق کے پیش نظر ہمارے اندر کام کرنے والی مخصوص صلاحیت کو متحرک کر دیتا ہے۔

حضور قلندر بابا اولیاءؒ “لوح و قلم” میں فرماتے ہیں کہ استاد کا کام صرف اتنا ہے کہ وہ آدمی کے اندر موجود صلاحیت کو بیدار کرنے میں معاون بن جاتا ہے۔ جس طرح تمام علوم تمام فنون کی صلاحیتیں انسان کے اندر موجود ہیں اسی طرح”روحانی علوم’’ حاصل کرنے کی صلاحیتیں بھی انسان کے اندر موجود ہیں۔ جب آدمی تصویر بنانا سیکھ لیتا ہے تو اس کا نام مصور ہو جاتا ہے اور جب آدمی فرنیچر بنانے میں ماہر ہو جاتا ہے تو اس کا نام بڑھئی رکھ دیا جاتا ہے۔ اگر کوئی آدمی سائنسی اعتبار سے کوئی چیز ایجاد کر لیتا ہے تو سائنس دان کہلاتا ہے۔ اگر شاگرد استاد کی مدد سے اپنے اندر روحانی صلاحیتیں بیدار کر لیتا ہے تو اس کا نام روحانی انسان ہو جاتا ہے۔

“لوح و قلم”  میں اسی روحانی انسان کی صلاحیتوں کو متحرک اور بیدار کرنے کے طریقے بیان کئے گئے ہیں۔facebook sharing button
whatsapp sharing button
twitter sharing button
messenger sharing button
email sharing button
sharethis sharing button
Share.