روشنی ذات اور کُل ذات کے درمیان پردہ ہے۔ اسی پردے کے ذریعے کُل ذات کے تصورات یک ذات کو منتقل ہوتے ہیں۔ جو تصورات کُل ذات سے یک ذات کو ملتے ہیں روشنی ان کو رنگ و روپ دے کر ذات تک پہنچاتی ہے۔

جس روشنی کے ذریعے ہماری آنکھیں دیکھتی ہیں اس روشنی کی بھی دو سطحیں ہیں۔ ایک سطح کے حواس میں ثقل اور ابعاد دونوں شامل ہیں لیکن دوسری سطح میں صرف اُبعاد ہیں اور اُبعاد میں روشنی کی گہرائی ہوتی ہے۔ روشنی یا کُل ذات کا درمیانی پردہ جو اطلاعات دیتا ہے حواس انہیں براہ راست دیکھتے اور سنتے ہیں لیکن جو اطلاعات ہمیں گہرائی سے پہنچتی ہیں ان کی وصولی کے راستے میں کوئی مزاحمت ضرور ہوتی ہے۔ اسی مزاحمت کی بنیاد پر حواس ان اطلاعات کو پوری طرح اپنی گرفت میں نہیں لا سکتے۔ اوپری سطح سے وصول ہونے والی اطلاع نچلی سطح سے وصول ہونے والی اطلاع کے راستے میں ایک دوسرے کے لئے مزاحم بن جاتی ہے۔ مزاحمت اتنی سخت ہوتی ہے کہ حواس کوشش کے باوجود اسے ختم نہیں کر سکتے۔

اوپری سطح کی اطلاعات دو قسم کی ہوتی ہیں۔

اطلاعات کی پہلی قسم اغراض پر مبنی ہے چونکہ اطلاعات اغراض پر مبنی ہیں اس لئے رویہ جانبدار ہوتا ہے۔

دوسری قسم وہ اطلاعات ہیں جو انفرادی مفاد سے وابستہ نہیں ہوتیں۔ ان کے حق میں رویہ غیر جانبدار ہوتا ہے۔ اگر اطلاعات کی دونوں طرزوں کو سامنے رکھ کر غور کیا جائے تو یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ انسان کے پاس ادراک کے دو زاویئے ہیں۔ ایک وہ زاویہ جو انفرادیت میں محدود ہے۔ دوسرا زاویہ انفرادیت سے باہر ہے۔ جب ہم انفرادیت کے اندر دیکھتے ہیں تو کائنات شریک نہیں ہوتی اور جب انفرادیت سے باہر دیکھتے ہیں تو کائنات شریک ہوتی ہے۔ جس زاویئے میں کائنات ہمارے ساتھ شریک ہے ہم اس میں کائنات کی اشیاء کے ساتھ اپنا ادراک کرتے ہیں۔ ایک طرف کائنات کو ہم اپنی انفرادیت میں دیکھنے کے عادی ہیں دوسری طرف اپنی انفرادیت کائنات میں دیکھنے کے عادی ہیں۔ ایک طرف انفرادیت کی ترجمانی کرتے ہیں اور دوسری طرف کائنات کی ترجمانی کرتے ہیں۔ جب یہ دونوں ترجمانیاں ایک دوسرے سے ٹکراتی ہیں تو ہم انفرادیت کی ترجمانی کو صحیح ثابت کرنے کے لئے تاویل کا سہارا لیتے ہیں۔ بعض اوقات تاویل کے حامی اپنے حریفوں سے دست و گریبان ہو جاتے ہیں۔ یہیں سے نظریات کی جنگ شروع ہو جاتی ہے۔ انفرادی سوچ، انفرادی عمل یا انفرادی طرزِفکر ایک شخص، ایک جماعت یا ایک قوم پر مشتمل ہو سکتی ہے۔ انفرادیت کے زاویئے کا ایک بڑا نقص یہ ہے کہ انسان کسی نہ کسی مرحلے میں کائنات کی اشیاء سے منحرف ہو جاتا ہے۔ اور نگاہ کا زاویہ غلط ہو جاتا ہے۔

کسی چیز کا سائز ہوا میں کچھ نظر آتا ہے اور پانی میں کچھ اور نظر آتا ہے لیکن دیکھنے والا زاویہ جب آزاد ہو جاتا ہے تو اختلاف نظر ختم ہو جاتا ہے۔ اس لئے کہ وہ شئے کی حقیقت کو جان لیتا ہے۔ روشنی سے ملنے والی اطلاعات کی جو سطح ہمارے سامنے ہے ہم اس کو مکان کے نام سے موسوم کرتے ہیں اور جو سطح نظر سے اوجھل ہے اس کو زماں کا نام دیتے ہیں۔ دنیا میں رہتے ہوئے جب ہم اشیاء کو دیکھتے ہیں یا اشیاء سے اپنا رشتہ قائم کرتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ ہم خود اور تمام اشیاء مکانیت کے ساتھ پابند ہیں اور جہاں یہ اشیاء قائم ہیں وہ مقام نظروں سے اوجھل ہے۔

جب ہم شعور کی اوپری سطح کا تذکرہ کرتے ہیں تو ہمیں کہنا پڑتا ہے کہ شعور کی اوپری سطح میں یہ صلاحیت نہیں ہے کہ وہ بیک وقت لاشمار چیزوں کو دیکھ سکے، سن سکے اور سمجھ سکے۔ کیونکہ نظر یکے بعد دیگرے ایک ایک چیز کو دیکھتی، سنتی اور سمجھتی ہے۔ اگرچہ سمجھنے اور دیکھنے کا وقفہ اتنا کم ہو کہ ہم اسے لمحے کا کروڑواں حصہ شمار کریں۔

لوح محفوظ کے قانون کے مطابق دیکھنے کی طرز یہ ہے کہ نظر ہر چیز کو ایک ایک کر کے دیکھتی، سنتی اور سمجھتی ہے۔ یکے بعد دیگرے چیزوں کو دیکھنے سمجھنے میں جو مرحلے پڑتے ہیں انہیں وقفہ آن یا لمحہ وغیرہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ وقفہ لمحہ یا آن ہی دراصل حواس کی ترتیب ہے۔ کائنات کی بناوٹ بہت زیادہ پیچیدہ نہیں ہے مگر انسانی فہم نامانوس ہونے کی وجہ سے اس کو پیچیدہ سمجھتی ہے۔

ادراک۔زمان و مکان کا مجموعہ ہے

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔

ترجمہ:  کبھی ہوا ہے انسان پر ایک وقفہ زمانے میں جو نہ تھا کچھ چیز قابل ذکر کیا ہوا۔ (سورہ دہر آیت ۹)

اللہ نے انسان کو ایک ’’وقفہ‘‘ سے بیان کیا ہے ایسا وقفہ جس میں انسان ناقابل تذکرہ تھا۔ یعنی جس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ انسان ہمارے سامنے موجود ہے۔ پہلے انسان ان خدوخال میں موجود نہیں تھا۔ خدوخال میں آنے سے پہلے ادراک الٰہیہ میں تھا۔ وقت کائنات کا وقفہ ہے اور یہی وقفہ کائنات کو محیط ہے۔ ازل تا ابد سب وقفہ ہے۔

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے:

وقت میں میرا اور اللہ کا ساتھ ہے۔

یہ وقت وہ وقفہ ہے جو مخلوق اور خالق کے درمیان تعین ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

ترجمہ: بنایا آدمی کھنکھناتی مٹی سے جیسے ٹھیکرا۔

(سورہ رحمٰن آیت ۱۴)

دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

ترجمہ: کیا نہیں پہنچا انسان پر ایک وقت جو تھا شئے(تصور) بغیر تکرار کیا ہوا۔ (سورہ دہر آیت۱)

تیسری آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

ترجمہ: بنایا تجھ کو مٹی سے پھر بوند سے (سورہ کہف آیت ۳۷)

بنایا آدمی کو بوند سے پھر پلٹتے رہے پھر کر دیا اس کو سنتا دیکھتا۔ ان آیات کی روشنی میں جب ہم آدمی کا تذکرہ کرتے ہیں تو آدمی کی یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ آدمی خلاء ہے اور جس مٹی سے آدمی بنایا گیا ہے یا جس مٹی میں اس کو مل جانا ہے یا جس مٹی کے اوپر زندگی گزار رہا ہے اس کی نیچر خلا ہے۔ قرآن پاک میں اس خلاء کو حین کہا گیا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

ہم نے انسان کو پھر دیکھتا سنتا بنا دیا۔ یعنی خلاء میں حواس پیدا کر دیئے۔ یہ حواس وہ بوند ہے جس کا تذکرہ نطفے کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ جب بوند ڈالی گئی اور اس بوند کو الٹ پلٹ کیا گیا تو الٹ پلٹ ہونے کی وجہ سے بوند میں حواس پیدا ہو گئے۔ جب تک خلاء میں بوند نہیں پڑی اور بوند کو الٹ پلٹ نہیں کیا گیا حواس تخلیق نہیں ہوئے۔ یہ بوند وہ بوند ہے جسے سائنس دان Geneکے نام سے پہچانتے ہیں۔ سائنس نے بوند میں جین کو تلاش کر لیا ہے۔ سائنسی تحقیقات کے نتیجے میں یہ معلومات حاصل ہوئی ہیں کہ ہر جین کے اندر پورے خدوخال ہیں۔ نہ صرف خدوخال ہیں بلکہ نظر نہ آنے والے جرثومے میں (جو ظاہر آنکھ سے نظر نہیں آتا) بالوں کا رنگ پتلیوں کا رنگ اور قدو قامت بھی موجود ہیں۔

اس طرح سمجھئے کہ اللہ نے خلاء میں جین پیدا کر دیا اور جین دوسرے جین سے مل کر آپس میں رد و بدل ہوتے رہے۔ ان میں اضافہ ہوتا رہا۔ ایک سے دو  دو سے چار  چار سے سولہ  سولہ سے بتیس  بتیس سے چونسٹھ ضرب ہوتے رہے۔ حواس جین یا نطفہ کی ضرب ہیں۔ لیکن یہ جین جس سطح پر نشوونما پا رہی ہے وہ خلاء ہے یہی وہ خلاء ہے جسے رُوحانیت  زماں غیر مسلسل کہتی ہے۔ جس خلاء میں بوند ڈالی گئی وہ زمان مسلسل ہے۔

خلاء نور ہے اور بوند نسمہ ہے۔ بوند کے معنی کوئی جسمیت نہیں ہے بلکہ وہ ایک نقطۂ ماسکہ ہے اس ہی نقطہ میں تصورات جمع ہوتے ہیں۔

قرآن پاک میں کتاب المبین کا تذکرہ ہے۔ کتاب المبین ازل تا ابد کی مکمل تصویر ہے۔ ازل سے ابد تک جتنا بھی ریکارڈ ہے وہ سب کتاب المبین میں محفوظ ہے۔ جب ہم کوئی لفظ زبان سے ادا کرتے ہیں تو یہ لفظ ازل تا ابد کے تمام تصورات کا مجموعہ ہے۔ لفظ ظہور ہے اور لفظ کے اندر مخفی تصورات غیب ہیں۔ لفظ ذہن کی ایک حرکت ہے۔ ہم آدمی کا نام لیتے ہیں تو آدمی ظہور ہے اور جب ہم آدمی کے اندر اس کی صلاحیتوں کا تذکرہ کرتے ہیں تو یہ سب مخفی تصورات ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

ترجمہ: جب وہ کسی چیز کے کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو کہتا ہے”ہو’’  اور وہ ہو جاتی ہے۔ (سورہ یٰسین آیت ۸۲)

ان آیات پر تفکر کرنے سے جو رموز سامنے آتے ہیں وہ یہ ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے”ہوجا’’  کہا تو اللہ کی مخاطب کوئی شئے ہے جو ابھی تک ظہور میں نہیں آئی۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے ذہن کے اندر کائنات کے تصورات کو جب” کُن” فرمایا تو کائنات وجود میں آ گئی۔ کائنات میں کوئی ترتیب نہ تھی۔ ترتیب نہ ہونا لامتناہیت میں پھیلنا ہے۔ جب ارادہ الٰہیہ نے شئے کے تصور کو لامتناہیت سے الگ کرنا چاہا تو شئے کی ایک صورت بن گئی۔ جیسے ہی شئے کی صورت بنی شئے کو اپنے ہونے کا علم حاصل ہو گیا۔ یعنی شئے کی صورت ایک علم بن گئی۔ شئے کے مجموعی تصورات جب علم کا سانچہ بنے تو لفظ بن گئے۔ پھر شئے کی ہستی لفظ کی گرفت میں آ گئی اور لفظ اسے پردہ (کتاب المبین) سے باہر کھینچ لایا۔

لفظ کی تین قسمیں ہیں۔

دو قسمیں ایسی ہیں کہ ان کو برائے نام لفظ کہا جا سکتا ہے۔ یہ دو قسم کے لفظ ظہور کے بعد استعمال ہوتے ہیں۔ مثلاً اچھا یا برا۔ اچھا ایسا لفظ ہے جو تائید کرتا ہے۔ برا ایسا لفظ ہے جو تردید کرتا ہے۔ دونوں الفاظ میں تصورات کا ایسا مجموعہ پوشیدہ ہے جو ظہور میں آ چکا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

وہی اول ہے وہی آخر ہے وہی ظاہر ہے وہی باطن ہے۔ اول آخر، ظاہر باطن پر تفکر کیا جائے تو اس کے علاوہ کوئی معنی نہیں نکلتے کہ اللہ محیط کُل ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہم ظاہر کو دیکھتے ہیں اور باطن کو نہیں دیکھتے۔ ہم جو دیکھ رہے ہیں دراصل وہ نہیں دیکھ رہے کیونکہ نہیں جانتے کہ کس سے دیکھ رہے ہیں۔ ادراک کر رہے ہیں لیکن ادراک نہیں کر رہے۔ اس لئے کہ نہیں معلوم کس سے ادراک کر رہے ہیں۔ لوح و قلم کے ابتدائی صفحات میں حضور قلندر بابا اولیاءؒ نے انسانی جسم اور   رُوح کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ انسانی جسم دراصل   رُوح کا لباس ہے۔

جب تک لباس کے ساتھ   رُوح کی وابستگی قائم رہتی ہے لباس اپنی حرکات کے ساتھ موجود رہتا ہے اور جب   رُوح کی دلچسپی جسم کے ساتھ نہیں رہتی تو لباس کی تمام حرکات و سکنات ساکت ہو جاتی ہیں۔ ہم اس طرف متوجہ نہیں ہوتے کہ ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں اس کی کنہ سے واقف نہیں ہیں۔ اگر ہمارا دیکھنا دیکھنا ہوتا تو ہم اس وقت بھی دیکھ سکتے جب   رُوح لباس کو چھوڑ دیتی ہے۔ اگر سمجھنا فی الواقع سمجھنا ہوتا تو ہمارے اندر فہم اس وقت بھی کام کرتی جب   رُوح لباس چھوڑ جاتی ہے۔ تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں ہے کہ   رُوح کا جسم سے رشتہ منقطع ہونے کے بعد جسم میں حرکت پیدا ہوئی ہو۔ جب ہم اپنی ذات کا تذکرہ کرتے ہیں تو اس تذکرے میں ذہنی رابطہ صرف جسمانی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری فہم امر تک رسائی نہیں کرتی۔

ہم الفاظ کو کسی چیز کے رد کرنے یا قبول کرنے میں استعمال کرتے ہیں جس لفظ کو رد میں استعمال کیا جاتا ہے اس لفظ میں رد ہونے کے تصورات کام کرتے ہیں اور جن الفاظ کو قبولیت کے معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے اس میں قبولیت کے تصورات کام کرتے ہیں۔ لفظ رد میں استعمال کیا جائے یا قبول میں، دونوں صورتوں میں الفاظ خلق ہیں کیونکہ یہ خلاء نہیں ہے۔ تصورات سے لبریز ہونے کے بعد وجود میں آتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

تمام امور اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں۔

ہم روزانہ دیکھتے ہیں کہ پانی ایسے تصورات کا خول ہے جس شئے میں داخل ہو جاتا ہے وہی شئے بن جاتا ہے۔ پانی پھول میں جا کر پھول کانٹے میں کانٹا، پتھر میں پتھر، سونے میں سونا، ہیرے میں ہیرا بن جاتا ہے۔ یہ پتھر سونا ہیرا پھول کانٹا سب تصورات کا مجموعہ ہے۔ ہمارے ذہن میں تصورات کا ایک مجموعہ ہے جس کو ہم سونا کہہ کر پکارتے ہیں اور تصورات کا ایک دوسرا مجموعہ ہے جس کو ہیرا کہتے ہیں۔ سونا اور ہیرا دو لفظ ہیں یا دو خول ہیں، جن میں تصورات کے الگ الگ مجموعے مقید ہیں۔ ان میں ہر مجموعہ ادراک کو آواز میں قید کیا جائے تو لفظ بن جاتا ہے۔

ہم کوئی بات سوچتے ہیں وہ بات ہمارے ادراک میں ہے لیکن ابھی یہ لفظ ادراک کے اندر داخل ہو کر آواز کی شکل میں نہیں آیا تو جب تک ادراک آواز میں قید نہ ہو لفظ نہیں بنتا اور جب ادراک آواز کے روپ میں سامنے آتا ہے تو لفظ بن جاتا ہے۔

انسان کے اندر ادراک ذہن ہے۔ ذہن کی وسعت کائنات کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک ہے۔ انسان کے ادراک میں لامتناہی وسعت ہے۔ یہ لامتناہی وسعت پوری کائنات کو محیط ہے۔ مثلاً جب ہم تصور کرتے ہیں تو ہمارا تصور زمین سے نکل کر عرش پر ،عرش سے پروازکر کے باری تعالیٰ کی ہستی تک پہنچ جاتا ہے۔ ہم تشریح اس طرح کریں گے کہ ادراک کا ایک رُخ گہرائی ہے جو زمان ہے۔ دوسرا رُخ پہنائی ہے جس کو مکان کہا جاتا ہے۔ ہر انسان ادراک کے اعتبار سے زمان و مکان کا مجموعہ ہے۔

Share.