نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ مبارک ہے: ’’مسجدِ قبا میں دو رکعت پڑھنے کا ثواب ایک عمرہ کے ثواب کے برابر ہے‘‘۔  ایک اور حدیث مبارک میں ہے  : جو شخص گھر میں وضو کرکے مسجدِ قبا آئے  اور دو رکعت نماز ادا کرے تو اس کو عمرہ جتنا ثواب ملے گا۔ اور   نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خصوصاً ہفتہ کے دن مسجدِ قبا تشریف لاکر نفل نماز پڑھتے تھے، یہ تشریف آوری کبھی پیدل ہوتی اور کبھی سواری پر ہوتی تھی؛ اس لیے زائرین کو مسجدِ قبا میں حاضر ہوکر نماز پڑھنے کا  اہتمام کرنا چاہیے، اور بہتر یہی ہے کہ مدینہ میں جہاں قیام ہو وہیں سے باوضو ہوکر مسجدِ قبا جائیں اور وہاں جاکر  نماز پڑھنے کا اہتمام کریں ۔

صحيح البخاري (2/ 61)
” عن ابن عمر رضي الله عنهما، قال: «كان النبي صلى الله عليه وسلم يأتي مسجد قباء كل سبت، ماشياً وراكباً»۔ وكان عبد الله بن عمر رضي الله عنهما «يفعله»”۔
سنن الترمذي(2/ 145)
” قال: حدثنا أبو الأبرد، مولى بني خطمة، أنه سمع أسيد بن ظهير الأنصاري، وكان من أصحاب قباء كعمرة»”۔النبي صلى الله عليه وسلم يحدث، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «الصلاة في مسجد

سنن ابن ماجه (1/ 453)
”حدثنا محمد بن سليمان الكرماني، قال: سمعت أبا أمامة بن سهل بن حنيف، يقول: قال سهل بن حنيف: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من تطهر في بيته ثم أتى مسجد قباء، فصلى فيه صلاة، كان له كأجر عمرة»”۔
فقط واللہ اعلمNo photo description available.

´مسجد قباء اور اس میں نماز کی فضیلت کا بیان۔`
سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص (اپنے گھر سے) نکلے یہاں تک کہ وہ اس مسجد یعنی مسجد قباء میں آ کر اس میں نماز پڑھے تو اس کے لیے عمرہ کے برابر ثواب ہے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 700]
(مرفوع) حدثنا هشام بن عمار ، حدثنا حاتم بن إسماعيل ، وعيسى بن يونس ، قالا: حدثنا محمد بن سليمان الكرماني ، قال: سمعت ابا امامة بن سهل بن حنيف ، يقول: قال سهل بن حنيف : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:” من تطهر في بيته، ثم اتى مسجد قباء، فصلى فيه صلاة كان له كاجر عمرة”.
سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے گھر میں وضو کرے، پھر مسجد قباء آئے اور اس میں نماز پڑھے، تو اسے ایک عمرہ کا ثواب ملے گا۔

مسجد قباء کی فضیلت
No photo description available.
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قباء میں تشریف لاتے تھے ، سوار ہو کر بھی اور پیدل بھی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں پہ دو رکعت نماز پڑھتے تھے ۔
(صحیح بخاری)
مسجد قباء مدینہ منورہ میں مسجد نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم ) سے تھوڑے سے فاصلے پر واقع ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم جب ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو سب سے پہلے اسی مسجد کی بنیاد رکھی اور مسلسل چار دن تک مسجد قباء میں ہی نماز پڑھتے رہے اور مسجد نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم ) بننے کے بعد بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قباء میں تشریف لے جاتے اور نماز پڑھتے تھے ۔ قرآن کریم میں مسجد قباء کی حرمت میں اللہ تعالی اس طرح فرماتے ہیں ۔

“لمسجد اسس على التقوى من أول يوم أحق ان تقوم فيه ، فيه رجال يحبون أن يتطهروا ، والله يحب المطهرين ”
جس مسجد کی بنیاد اول دن سے تقوی پر رکھی گئی ہے وہ اس لائق ہے آپ اس میں کھڑے ھوں ، اس میں ایسے آدمی ہیں کہ وہ خوب پاک ھونے کو پسند کرتے ہیں اور اللہ تعالی خوب پاک ھونے والوں پسند کرتا ہے ۔
(سورہ التوبہ )

اس حدیث شریف سے مسجد قباء کی فضیلت اور زیارت کی مشروعیت ثابت ھوتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قباء میں ہر ہفتے تشریف لے جایا کرتے تھے جیسا کہ صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1399 میں وارد ہوا ہے ۔

مسجد قباء کی فضیلت میں متعدد احادیث موجود ہیں جن میں سے دو کا ذکر یہاں پہ کیا جاتا ہے ۔
1 ۔صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسید بن ظہیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ھے کہ مسجد قباء میں نماز پڑھنےکا ثواب ایک عمرے کے برابر ہے ۔
(جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ )
2 ۔ حضرت سہیل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ھے کہ جو شخص اپنے گھر میں وضو کرے اور پھر مسجد قباء آئے اور اس میں نماز پڑھے تو اسے ایک عمرے کا ثواب ملے گا ۔
(سنن ابن ماجہ، سنن نسائئ )

اللہ تعالی ہم سب کو مسجد قباء میں نماز پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔۔۔۔۔۔۔آمین

اللهم صل على محمد وعلى آل محمد

Share.