موت کی حقیقت
اللہ نے دو جہاں بنائے ہیں ایک عالمِ غیب ہے اور دوسرا عالمِ دنیا ہے۔ ان دونوں جہانوں کے درمیان ایک رکاوٹ ہے جسے برزخ کہا جاتاہے۔
جب اللہ کسی انسان کو پیدا کرنے کا فیصلہ فرماتے ہیں تو عالمِ دنیا میں جسم اور جان کے تعلق کو قائم فرماتے ہیں اور پھر عالمِ غیب سے ایک روح بھیجتے ہیں جو اس زندہ جسم میں شامل کردی جاتی ہے۔
پھر جب چاہتے ہیں انسان کے جسم سے روح نکال کر واپس برزخ کے اس پار عالمِ غیب میں لے جاتے ہیں اس طرح انسان کی موت واقع ہوجاتی ہے ، جس کی تین اقسام ہوتی ہیں ، جسمانی موت ، معمولی موت اور معجزاتی موت۔
(1) جسمانی موت
جب اللہ کسی انسان کو جسمانی موت دینے کا فیصلہ فرماتے ہیں تو اسکی روح کو عالمِ غیب میں لے جاتے ہیں اور قیامت تک جسم اور جان کے تعلق کو منقطع کر دیتے ہیں۔ اس طرح انسان کی جسمانی موت واقع ہوجاتی ہے۔
جسمانی موت کے بعد روح کے عالمِ غیب میں دو ٹھکانے ہو سکتے ہیں ، جنت یا قبر۔
جنت :
اگر انسان شہید ہے یا شہید سے اونچے درجے کا ہے تو اللہ اس کی پاک روح کو براہ راست جنت میں داخل فرماتے ہیں اور وہ جنت میں اللہ کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ یس
قبر :
اگر انسان شہید سے کم درجے کا ہے تو اس کی روح کو قیامت تک ایک عارضی قیام گاہ میں رکھا جاتا ہے جسے قبر کہتے ہیں۔
قبر میں فرشتے اس روح سے کچھ سوال کرتے ہیں ، صحیح جواب دینے پر اس کی قبر کو جنت کا نمونہ بنادیا جاتا ہے ، اورصحیح جواب نہ دینے پر اس کی قبر کو جہنم کا نمونہ بنا دیاجاتا ہے۔ تفسیر ابن کثیر
قبر کے حوالے سے کچھ لوگوں کو تحفظات ہیں کہ اگر کسی کے مردہ جسم کو جلا کر ندی میں بہا دیا گیا یا پرندوں کو کھلا دیا گیا تو اس کی قبر کا کیا ہوگا۔
قرآن میں درج ہے :
اللہ نے انسان کو موت دی اور قبر میں ڈالا۔ عبس
آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ ہی انسان کو موت دیتے ہیں اور قبر میں بھی اللہ ہی ڈالتے ہیں۔
لہذا کسی کے جسم کو اگر پرندے کھا کر اُڑ گئے یا اس کے جسم کو جلا کر ، راکھ دریا میں بہا بھی دی گئی ، تب بھی اللہ اس کی روح کے لئے اپنی قدرت سے قبر کا انتظام فرمائیں گے۔
(2) معمولی موت
جب اللہ کسی انسان کو معمولی موت دینے کا فیصلہ فرماتے ہیں تو جسم اور جان کے تعلق کوبرقرار رکھتے ہوئے اسکی روح کو عالمِ غیب میں لے جاتے ہیں۔
معمولی موت طاری ہونے پر انسان کے جسم پر وقت اثر انداز ہوتا رہتا ہے یعنی اس کی عمر بڑھتی رہتی ہے ۔ پھر جب اللہ چاہتے ہیں روح کو جسم میں لوٹا کر اس کی زندگی کو بحال فرما دیتے ہیں۔
جب بھی انسان سوتا ہے اس کی معمولی موت واقع ہوجاتی ہے ۔ الزمر
(3) معجزاتی موت
جب اللہ کسی انسان کو معجزاتی موت دینے کا فیصلہ فرماتے ہیں تو بھی جسم اور جان کے تعلق کوبرقرار رکھتے ہوئے اسکی روح کو عالمِ غیب میں لے جاتے ہیں۔
معجزاتی موت طاری ہونے پر انسان کے جسم پر وقت اثرانداز نہیں ہوتا ہے یعنی اس کی عمر معجزاتی موت کے وقت پر رُک جاتی ہے۔ پھر جب اللہ چاہتے ہیں روح کو جسم میں لوٹا کر اس کی زندگی کو بحال فرما دیتے ہیں۔
عزیر اور اصحاب الکھف کی معجزاتی اموات ہوئیں تھیں۔ البقرہ ، الکھف
عیسیٰ  پر بھی اس وقت معجزاتی موت طاری ہے۔
موت کے بعد عالمِ دنیا سے روح کی غیرحاضری
تینوں میں سے کسی بھی قسم کی موت واقع ہونے پر انسان کی روح عالمِ دنیا سے غیر حاضر ہوجاتی ہے ، وہ براہ راست عالمِ دنیا کا مشاہدہ نہیں کرسکتی۔
مثال کے طور پر جب انسان سوتا ہے تو اسکی روح عالمِ دنیا سے عالمِ غیب منتقل ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے انسان دنیا کا مشاہدہ نہیں کر سکتا۔
عیسیٰ  قیامت کے دن اللہ سے اپنی اُمّت کے بارے میں فرمائیں گے کہ :
میں ان پر گواہ رہا جب تک ان کے ساتھ تھا ، پھر جب آپ نے میری روح کو نکال لیا ، تو آپ ہی ان پر نظر رکھنے والے تھے۔ المائدہ
اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ جب اللہ نے عیسیٰ  کی روح کو عالمِ دنیا سے عالمِ غیب منتقل کردیا تھا تو عیسیٰ  دنیا میں موجود اپنی اُمّت کا مشاہدہ کرنے سے قاصر تھے۔
لہذا جو روح عالمِ غیب منتقل ہوگئی اسے عالمِ دنیا میں حاضر یا عالمِ دنیا کا ناظر ماننا غیر اسلامی عقیدہ ہے۔
عالمِ دنیا اور عالمِ غیب کا باہمی رابطہ
برزخ حائل ہونے کی وجہ سے عالمِ دنیا میں موجود کوئی بھی روح عالمِ غیب میں موجود کسی بھی روح سے براہ راست رابطہ قائم نہیں کرسکتی ، البتہ اگر اللہ چاہیں تو عالمِ دنیا کی کوئی بھی بات عالمِ غیب میں موجود کسی بھی روح تک پہنچا سکتے ہیں۔
قیامت
ایک وقت آئے گا جب اللہ عالمِ غیب اور عالمِ دنیا کے درمیان سے برزخ کو ختم فرمادیں گے اور دونوں جہاں ایک ہو جائیں گے ، اس دن کو قیامت کہتے ہیں۔
Share.