نسبت جذب پر مضمون

مقدمہ:یہ وہ نسبت ہے جس کو تبع تابعین کے بعد سب سے پہلے خواجہ بہاء الحق والدّین نے نشان بے
نسبت جذب ایک عام اور جذباتی موضوع ہے جو ہماری روزمرہ زندگی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ موضوع انسانی رشتوں، خوشی، افسوس، اور اہم فیصلے پر اثر انداز ہوتا ہے۔ نسبت جذب کا تجزیہ کرنے سے ہمیں اپنے زندگی کو بہتر بنانے کے لئے اہم نکات سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ اس مضمون میں ہم نسبت جذب کی تعریف، اہمیت، انواع، اور نسبت جذب کو بنانے میں مدد فراہم کرنے والی معلومات پر غور کریں گے۔

نسبت جذب کی تعریف:
نسبت جذب، دو یا دو سے زیادہ افراد کے درمیان ایک خصوصی رشتے کی نوعیت کو واضح کرتا ہے جو ان کے درمیان محبت، احترام، اور وفاداری پر مبنی ہوتی ہے۔ یہ رشتے دونوں افراد کے درمیان دلچسپی اور احترام کی بنیاد پر قائم ہوتے ہیں اور مختلف مواقع پر مختلف طریقوں سے اظہار کئے جا سکتے ہیں۔

نسبت جذب کی اہمیت:
نسبت جذب کی اہمیت انسانی زندگی میں بہت زیادہ ہے۔ یہ رشتے انسانوں کے لئے اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ یہ ہمیں لوگوں کے ساتھ اچھے تعاملات بنانے اور دوسرے کے ساتھ مشترکہ خوشی اور دکھ کا سامنا کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ نسبت جذب معاشرتی مواقع میں بھی اہم ہیں اور ان کی بنیاد پر مختلف مجتمعات اور تنظیمیں قائم ہوتی ہیں۔

نسبت جذب کی اقسام:
نسبت جذب کی مختلف اقسام  ہوتی ہیں، جن میں دوستی، خاندانی رشتے، ماں باپ کے ساتھ رشتے، اور شادی شدہ زندگی شامل ہوتی ہیں۔ یہ اقسام مختلف مواقع اور جذبات کو ظاہر کرنے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔

دوستی: دوستی نسبت جذب کی ایک قسم ہے جو دوستوں کے درمیان بنتی ہے۔

نقشبندی سلسلہ کے افراد اس نسبت کو یادداشت کے نام سے جانتے ہیں۔ نشان بے نشانی سے مراد یہ ہے کہ عارف کا ذہن اس سمت میں سفر کرے جس سمت میں ازل سے پہلے کے نقوش موجود ہیں۔ جب ازل سے پہلے کے نقوش یعنی اللہ کا دھیان عارف کے قلب میں بار بار دور کرتا ہے تو سالک کو ہر سمت ہر طرف ہر لا موجود اور موجود شئے میں اللہ نظر آنے لگتا ہے۔ کوئی بھی کام ہو کوئی بھی عمل ہو سالک کی افتاد طبیعت یہ بن جاتی ہے کہ وہ غیر اختیاری اور اختیاری طور پر ہر چیز ہر بات ہر عمل میں اللہ کو تلاش کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اس کا ذہن از خود ہر کام میں اور ہر عمل میں اللہ کی وحدانیت کو تلاش کر لیتا ہے۔ جب یہ صورت حال اتنی زیادہ ہو جاتی ہے کہ سالک ان میں اس طرح گھر جاتا ہے کہ اسے نکلنے کی کوئی راہ نہیں ملتی تو عقل و شعور سے دست بردار ہو کر خود کو اس نسبت کی روشنیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتا ہے۔

اس کی مثال یہ ہے:

ہر آدمی روزانہ کئی گلاس پانی پی لیتا ہے لیکن کبھی اس کا ذہن اس طرف نہیں جاتا کہ پانی کیا چیز ہے؟ پانی کے اندر سیرابی کیا ہے، پانی کیسے نکلتا ہے، کنواں کا پانی ہے، چشمے کا پانی ہے یا دریا کا پانی ہے؟

عام بندے کا ذہن ان باتوں کی طرف متوجہ نہیں ہوتا۔ اسے جب پیاس لگتی ہے پانی پی لیتا ہے لیکن جس بندے کو نسبت جذب حاصل ہوتی ہے وہ پانی کے اندر اللہ کو تلاش کرتا ہے، وہ غور کرتا ہے کہ پانی اللہ نے تخلیق کیا ہے۔ جب وہ پانی کے بارے میں سوچتا ہے تو پانی سے متعلق تمام وسائل اس کے سامنے آ جاتے ہیں۔ مثلاً سمندر ، بادل، بارش، پہاڑوں پر برف کا پگھلنا وغیرہ۔

بچہ پیدا ہوتا ہے تو لوگ دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور بات ختم ہو جاتی ہے۔ عارف جب پیدا ہونے والے بچے کو دیکھتا ہے تو اس کا ذہن از خود بغیر کسی ارادے و اختیار کے اس طرف متوجہ ہو جاتا ہے کہ اللہ نے اس بچے کو نو ماہ تک ماں کے پیٹ میں رزق فراہم کیا ہے۔ جس اللہ نے بچے کو نوہ ماہ تک رزق فراہم کیا ہے اور اس رزق سے بچے کی نشوونما ہوئی ہے وہ اللہ مجھے بھی رزق دیتا ہے اور جب تک میں دنیا میں ہوں مجھے رزق ملتا رہے گا۔ اس کے برعکس ساٹھ سال کا آدمی یہ نہیں سوچتا کہ میں کبھی دو دن کا بچہ تھا۔

نسبت جذب رکھنے والا بندہ بار بار اس بات کا اعادہ کرتا ہے کہ اللہ نے دو دن کے بچے کو ساٹھ سال تک وسائل فراہم کئے ہیں۔ رفتہ رفتہ اس نسبت کی شعاعوں کاہجوم اس قدر وسعت اخیتار کر لیتا ہے کہ عارف کا ذہن ہر طرف سے ہٹ کر یہ سوچنا شروع کر دیتا ہے کہ فی الواقع میری اپنی کوئی ہستی نہیں ہے۔ میری ہستی کے اوپر اللہ محیط ہے اور اس احاطے ہی میں، میں پیدا ہوا۔ اس احاطے ہی میں پروان چڑھا اور اس احاطے ہی میں، میں دنیا سے رخصت ہو کر دوسری دنیا میں انتقال کر جاؤں گا۔ یہ کیفیت عقل و شعور پر اس طرح طاری ہو جاتی ہے کہ آدمی کی انا اور ارادہ نسبت جذب کے احاطے میں معدوم ہو جاتے ہیں۔

Share.