يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ. وَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي أُعِدَّتْ لِلْكَافِرِينَ. َأَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ۔

اہل ایمان! یہ بڑھتا اور چڑھتا سود کھانا چھوڑ دو اور اللہ سے خبردار رہو تا کہ تم فلاح پاؤ اور اُس آگ سے بچو جو منکروں کے لیے تیار کی گئی ہے ۔ اللہ اور اُس کے رسول کے فرمانبردار رہو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔

[آل عمران [130-132

اس کے بعد مدینہ منورہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکومت مل گئی تو پھر  آپ نے عملاً اللہ تعالی کے اجتماعی معاملات کو قانونی شکل میں  لے آئے۔ مکہ مکرمہ اور پورا عرب جب فتح ہو گیا تو اللہ تعالی نے یہ احکامات فرمائے جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آخری حج میں اعلان فرمایا۔

الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَهَى فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ وَمَنْ عَادَ فَأُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ . يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ. يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ . فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ. وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَىٰ مَيْسَرَةٍ ۚ وَأَنْ تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَكُمْ ۖ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ. وَاتَّقُوا يَوْمًا تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّهِ ۖ ثُمَّ تُوَفَّىٰ كُلُّ نَفْسٍ مَا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ۔

اِس کے برخلاف جو لوگ سود کھاتے ہیں، وہ قیامت میں اٹھیں گے تو بالکل اُس شخص کی طرح اٹھیں گے جسے شیطان نے اپنی چھوت سے پاگل بنا دیاہو۔یہ اِس لیے کہ انہوں نے کہا ہے : بزنس بھی تو آخر سود ہی کی طرح ہے اور تعجب ہے کہ اللہ نے بزنس کو حلال اور سود کو حرام ٹھیرایا ہے۔

اِس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ نے اُسے حرام ٹھیرایا ہے، لہٰذا جسے اُس کے رب کی تنبیہ پہنچی اور وہ باز آ گیا تو جو کچھ وہ لے چکا، سو لے چکا ، اُس کے خلاف کوئی  حکومتی ایکشن نہ ہو گا اور اُس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔ اور جو اِس تنبیہ کے بعد بھی اِس کا اعادہ کریں گے تو وہ دوزخ کے لوگ ہیں ، وہ اُس میں ہمیشہ رہیں گے ۔ اُس دن اللہ سود کو مٹا دے گا اور خیرات کو بڑھائے گا اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی ناشکرے اور کسی حق تلفی کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ ہاں ، جو لوگ ایمان لائے ، انہوں نے نیک عمل کیے ، نماز کا اہتمام کیا اور زکوٰۃ ادا کی ، اُن کے لیے اُن کا اجر اُن کے رب کے پاس ہے اور وہاں اُن کے لیے کوئی اندیشہ نہ ہو گااور نہ وہ کوئی غم کبھی کھائیں گے۔

اہل ایمان!  اگر تم سچے مومن ہو تو اللہ سے خبردار رہو اور جتنا سود باقی رہ گیا ہے ، اُسے چھوڑ دو۔ لیکن اگر تم نے ایسا نہیں کیا تو اللہ اوراُس کے رسول کی طرف سے جنگ کے لیے خبردار ہو جاؤ، اور اگر توبہ کر لو توتمہاری اصل رقم کا تمہیں حق ہے ۔ نہ تم کسی پر ظلم کرو گے ، نہ تم پر ظلم کیا جائے گا۔ اور مقروض کبھی تنگ دست ہو تو ہاتھ کھلنے تک اُسے مہلت دو اور اگر تم بخش دو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے ، اگر تم سمجھتے ہو۔ اور اُس دن سے ڈرو، جس میں تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے ۔ پھر ہر شخص کو اُس کی کمائی وہاں پوری مل جائے گی اور لوگوں پر کوئی ظلم نہ ہو گا۔

[البقرة [275-281

مدینہ منورہ ہی میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معاملہ اہل کتاب سے ہوا تو اللہ تعالی  کے بارے میں تبصرہ عنایت فرمایا۔

فَبِظُلْمٍ مِنَ الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبَاتٍ أُحِلَّتْ لَهُمْ وَبِصَدِّهِمْ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ كَثِيرًا. وَأَخْذِهِمُ الرِّبَا وَقَدْ نُهُوا عَنْهُ وَأَكْلِهِمْ أَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ ۚ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ مِنْهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا. لَٰكِنِ الرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ مِنْهُمْ وَالْمُؤْمِنُونَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ وَالْمُقِيمِينَ الصَّلَاةَ ۚ وَالْمُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَالْمُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أُولَٰئِكَ سَنُؤْتِيهِمْ أَجْرًا عَظِيمًا۔

پھر اِن یہودی لیڈرز کے ظلم ہی کی وجہ سے ہم نے ایسی پاکیزہ چیزیں بھی اِن پر حرام کر دی تھیں جو اِن کے لیے حلال تھیں اور اِس وجہ سے کہ یہ اللہ کی راہ سے بہت روکتے رہے ہیں اور اِس وجہ سے کہ سود لیتے رہے ہیں، درانحالیکہ انہیں اِس سے روکا گیا تھا اور اِس وجہ سے کہ یہ لوگوں کا مال باطل طریقوں سے کھاتے رہے ہیں، اور یہ انہی کے منکرین ہیں جن کے لیے ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔

اِن میں سے، البتہ  اہل کتاب کے جو علم میں پختہ ہیں اور جو ایمان والے ہیں، وہ اُس چیز قرآن کو مانتے ہیں جو آپ کی طرف اتاری گئی، جو آپ سے پہلے اتاری گئی ہے اور خاص کر نماز کا اہتمام کرنے والے ہیں، زکوٰۃ دینے والے اور اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں ہم عنقریب اجر عظیم عطا فرمائیں گے۔

[النساء [160-162

اللہ تعالی نے تورات میں وہی احکامات دیے تھے جو کہ قرآن مجید میں ہیں۔ اس میں آپ بائبل کے چند احکامات کا مطالعہ کر لیجیے جس میں فرمایا۔

اگر میرے لوگوں میں سے کوئی غریب ہو اور تم اسے قرض دو تو اس رقم کے لیے تمہیں سود نہیں لینا چاہیے۔ اگر تم کسی شخص کا جبہ جیکٹ قرض گروی رکھتے ہو تو اسے اس کا جبہ سورج ڈوبنے سے پہلے واپس کر دو۔ کیونکہ اگر وہ آدمی اپنا جبہ  نہیں پائے تو اس کے پاس تن ڈھانکنے کو کچھ بھی نہیں رہے گا۔ جب وہ سوئے گا تو اسے سردی لگے کی۔ اگر وہ مجھے رو کر پکارے گا تو  میں اس کی سنوں گا۔ میں اس کی بات سنوں گا کیونکہ میں رحم دل ہوں۔ خروج 25-27

کسی شخص سے اس قرض پر جو کہ تم سے لیا ہے، کسی بھی طرح کا سود مت لو۔ یہ دیکھاتا ہے کہ تم اپنے خدا کا خوف کرتے ہو اور اپنے بھائی کو اپنے ساتھ جینے دو۔ اسے سود پر پیسہ ادھار مت دو، جو کھانا وہ کھائے اس سے نفع مت لو۔ میں خداوند تمہارا خدا ہوں جو تم کو ملک کنعان فلسطین دینے کے لیے اور تمہارا خدا بنے رہنے  کے لیے ملک مصر سے باہر لایا۔ احبار 37-38

اگر تم کسی اسرائیلی کو کچھ ادھار دو تو تم اس پر سود نہ لو۔ تم پیسوں پر، کھانے کی چیزوں پر یا کوئی ایسی چیز جس پر سود لیا جا سکے، سود نہ لو۔ استثنا 23:19

اب ہم کچھ احادیث کا مطالعہ کرتے ہیں  جس میں سود کا ذکر آیا ہے۔  تورات اور قرآن مجید میں جو احکامات ہیں، انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مختلف صورتحال میں عمل اس طرح سے کروایا۔ چند احادیث یہ ہیں۔

ومن أشهر الحديث في تحريم الربا ما رواه البخاري ومسلم وأصحاب السنن عن عمر بن الخطاب – رضي الله عنه – قال: قال رسول الله – صلى الله عليه وسلم -: «الذهب بالورق ربا، إلا هاء وهاء، والبر بالبر ربا، إلا هاء وهاء، والشعير بالشعير ربا، إلا هاء وهاء، والتمر بالتمر ربا، إلا هاء وهاء.

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سونے کے بدلے قرض میں چاندی سود ہے سوائے اس کے کہ وہ فوراً دی جائے۔ اسی طرح  گندم کے بدلے قرض میں سود ہے لیکن اگر فوراً ادا کر دی جائے تو سود نہیں ہے۔ اسی طرح جو کے  بدلے جو اور کھجور کے بدلے کھجور قرض میں سود ہوتا ہے لیکن فوراً ادا کر دی جائے تو پھر سود نہیں ہے۔

بخاری ، کتاب البیوع، 2054 اور مسلم 1952

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا هُنَّ قَالَ الشِّرْكُ بِاللَّهِ وَالسِّحْرُ وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَأَكْلُ الرِّبَا وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ الْغَافِلَاتِ۔

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان سات امور سے اجتناب کریں۔

لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ کیا ہیں؟

۔۔۔۔ فرمایا کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا۔

۔۔۔۔ جادو ٹونا۔

۔۔۔۔ انسان کو قتل کرنا جسے اللہ تعالی نے حرام کر دیا ہے سوائے اس کہ قانونی طریقے کے مطابق جرم کے طور پر۔

۔۔۔۔ سود کھانا۔

۔۔۔۔ یتیم کے مال کو کھانا۔

۔۔۔۔ جنگ کے دن بھاگنا۔

پاکیزہ مومن خواتین جنہیں علم نہ ہو، ان پر تہمت لگانا۔

بخاری 1018، مسلم، النسائی، ابو داؤد

عَنْ جَابِرٍ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُؤْكِلَهُ وَكَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَقَالَ هُمْ سَوَاءٌ۔

جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سود کی ٹرازیکشن کرنے والوں پر لعنت بھیجی ہے۔

سود کھانے والے

سود  کی مارکیٹنگ کا ایجنٹ

سود کا معاہدہ لکھنے والا اور

گواہ۔ فرمایا کہ یہ سب برابر ہیں۔

مسلم 1598، احمد بن حنبل

عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ رَجُلَيْنِ أَتَيَانِي فَأَخْرَجَانِي إِلَى أَرْضٍ مُقَدَّسَةٍ فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى نَهَرٍ مِنْ دَمٍ فِيهِ رَجُلٌ قَائِمٌ وَعَلَى وَسَطِ النَّهَرِ رَجُلٌ بَيْنَ يَدَيْهِ حِجَارَةٌ فَأَقْبَلَ الرَّجُلُ الَّذِي فِي النَّهَرِ فَإِذَا أَرَادَ الرَّجُلُ أَنْ يَخْرُجَ رَمَى الرَّجُلُ بِحَجَرٍ فِي فِيهِ فَرَدَّهُ حَيْثُ كَانَ فَجَعَلَ كُلَّمَا جَاءَ لِيَخْرُجَ رَمَى فِي فِيهِ بِحَجَرٍ فَيَرْجِعُ كَمَا كَانَ فَقُلْتُ مَا هَذَا فَقَالَ الَّذِي رَأَيْتَهُ فِي النَّهَرِ آكِلُ الرِّبَا۔

سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے فرمایا۔ اس پر احتیاط کرو کہ رات میں دو افراد مقدس علاقہ فلسطین میں  کشتی میں شامل ہوئے اور دریا کے عین درمیان میں پہنچ  گئے تو ایک شخص دریا سے نکلنا چاہتا ہے تو دوسرے نے پتھر  دریا میں پھینک دیا۔  پھر اس نے دوبارہ پتھر دریا میں پھینکا  پانی  اونچا ہو گیا اور لوگ ڈوبنے لگے۔ پھر اس نے کہا:  دریا سے جیسا تیزی سے پانی  آیا ہے، بالکل  سود بھی اسی طرح ہے۔

بخاری کتاب التعبیر 7047۔ مسلم، ترمذی، احمد

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَلْحَنُ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِحَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا بِقَوْلِهِ فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنْ النَّارِ فَلَا يَأْخُذْهَ۔

ام سلمہ رضی اللہ عنہا   فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:  دو بھائی اختلاف  کے معاملے میں مقدمہ کرتے میرے پاس آئے تو میں نے ایک بھائی  کے بارے میں فیصلہ کرنے لگا۔ پھر اسی کے حق  میں فیصلہ کرتے ہوئے کہہ دیا کہ اگر یہ زمین تمہاری نہیں ہے تو پھر تمہارے لیے آگ ہے۔  اس لیے تم نہ لینا۔

بخاری کتاب المظالم 2458۔ مسلم، النسائی، ابو داؤد، ابن ماجہ، احمد، مالک

حديث عبدالله بن حنظلة غسيل الملائكة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: درهم من ربا يأكله الرجل وهو يعلم أشد من ست وثلاثين زنية؛ رواه أحمد.

عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ  جنہیں فرشتوں نے نہایا تھا تو انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:  کوئی شخص اگر جان بوجھ کر سود کے ذریعے درہم کما لے تو اس کا گناہ اس سے  کہیں زیادہ بڑا ہے جیسے 36 مرتبہ بدکاری کر لے۔ احمد بن حنبل 21482

سمرۃ بن جندب رضی اللہ عنہ نے طویل حدیث بیان فرمائی کہ انہوں نے اپنے ساتھیوں کو بتایا کہ  اگلے  دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات ہو گی تو آپ سے درخواست کریں گے کہ آپ ہمارے لیے دعا کریں۔  پھر سمرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ کیا آپ نے خواب میں کچھ دیکھا ہو تو بتائیے گا؟  تو آپ نے فرمایا کہ ماشاء اللہ۔ پھر  اگلے  دن پوچھا کہ کیا آپ نے کوئی خواب دیکھا؟

آپ نے فرمایا: ہاں میں نے رات میں خواب دیکھا کہ دو افراد آئے  اور انہوں نے میرے ہاتھ پکڑ کر زمین کے پاس لے آئے۔  پھر ہم نے ایک شخص کو دیکھا جس کے سر کو  (فرشتوں نے پکڑا اور اپنے ہاتھ سے لوہے سے مارا ۔  پھر اسی طرح سختی سے مارا اور اس کے بعد وہ پھر ٹھیک ہو گیا۔  پھر ہم خون کی نہر کے پاس پہنچ گئے تو یہاں ایک  شخص  نہر میں تھا اور دوسرا شخص یعنی فرشتہ پتھر پکڑ کر کھڑا تھا۔  پھر جب  نہر سے پہلا شخص نکلنا چاہتا تو باہر والا شخص اسے پتھر مار کر اسے واپس وہیں دھکیل دیتا۔  پھر میں نے پوچھا کہ ان کا کیا معاملہ ہے؟

ان فرشتوں نے جواب دیا: ایک شخص جس پر لوہا مارا جا رہا تھا وہ مسلسل جھوٹ بولتا رہتا تھا۔ اس لیے اس کی سزا یہی ہے کہ وہ مسلسل قیامت تک جھوٹ بولتا رہے گا اور اسے سزا ملتی جائے گی۔  اسی طرح دوسرا خون کی نہر میں پھنسا ہوا وہ شخص تھا جو مسلسل سود کماتا رہتا تھا۔ بخاری اہل الکبائر 7047

حجۃ الوداع میں خطبہ دیتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جاہلیت والے سود کے معاہدے غیر قانونی ہو گئی ہیں اور اس کے لیے سب سے پہلے عباس بن عبدالمطلب کے معاہدوں کو منسوخ کر دیا  گیا ہے۔ مسلم1218 ، خطبہ الوداع

اس حدیث سے یہ واضح ہے کہ بہت سے لوگ انوسٹمنٹ کے لیے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو  رقم دیتے تھے تاکہ اس میں وہ بزنس کریں اور اس کا کچھ حصہ سود   کے طور پر مالک کو دے دیں ۔  جب حضرت عباس رضی اللہ عنہ ایمان لائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس ایکشن کے لیے اپنی فیملی سے اس معاہدوں کو ختم کر دیا۔

حدثنا عبد الله بن يوسف، أخبرنا مالك، عن نافع، عن أبي سعيد الخدري ـ رضى الله عنه ـ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ‏‏لا تبيعوا الذهب بالذهب إلا مثلا بمثل، ولا تشفوا بعضها على بعض، ولا تبيعوا الورق بالورق إلا مثلا بمثل، ولا تشفوا بعضها على بعض، ولا تبيعوا منها غائبا بناجز۔

ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے  بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سونا سونے کے بدلے اس وقت تک نہ بیچو جب تک دونوں طرف سے برابر برابر نہ ہو۔  دونوں طرف سے کسی کمی یا زیادتی کو روا نہ رکھنا۔ چاندی کو چاندی کے بدلے میں اس وقت تک نہ بیچو جب تک دونوں طرف سے برابر برابر نہ ہو۔ دونوں طرف سے کسی کمی یا زیادتی کو روا نہ رکھنا اور نہ ادھار کو نقد کے بدلے میں بیچو۔

بخاری کتاب البیوع ، حدیث 2177

ما روى عثمان بن عفّان أنّ رسول اللّه قال‏:‏ لا تبيعوا الدّينار بالدّينارين ولا الدّرهم بالدّرهمين۔

عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: یہ ٹرازیکشن نہ کرو کہ دینار کے بدلے زیادہ دینار لینا اور اسی طرح درہم کے بدلے زیادہ درہم لینا۔ مسلم 1488

ما رواه البخاري ومسلم وأصحاب السنن عن عمر بن الخطاب – رضي الله عنه – قال: قال رسول الله – صلى الله عليه وسلم -: «الذهب بالورق ربا،، إلا هاء وهاء، والبر بالبر ربا، إلا هاء وهاء، والشعير بالشعير ربا، إلا هاء وهاء، والتمر بالتمر ربا، إلا هاء وهاء۔

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سونے کے بدلے قرض میں چاندی لینا سود بن سکتا ہے سوائے اس کے کہ وہ اسی وقت ادا کر دی  جائے۔ اسی طرح گندم کے بدلے گندم  میں قرض کے طور پر سود ہو سکتا ہے سوائے اس کے کہ اسے اسی وقت ادا کر دیا جائے۔  اسی طرح جوٗ کے بدلے جوٗ اور کھجور کے بدلے کھجور قرض میں سود ہو سکتا ہے سوائے اس کے کہ وہ فوراً اسی وقت ادا کر دیا جائے۔

بخاری کتاب البیوع  1586، مسلم

وعن عليّ بن أبي طالبٍ رضي الله عنه قال‏:‏ قال رسول اللّه صلى الله عليه وسلم‏:‏ »الدّينار بالدّينار والدّرهم بالدّرهم، لا فضل بينهما، فمن كانت له حاجة بورقٍ، فليصرفها بذهبٍ، ومن كانت له حاجة بذهبٍ فليصرفها بورقٍ، والصّرف هاء وهاء۔

علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سونے کے عوض سونا اور چاندی کے بدلے چاندی میں کوئی فرق نہیں ہونا چاہیے۔ اگر کسی کو چاندی کی ضرورت ہو  اور وہ سونا  ادا کر دے یا اسی طرح کسی کو سونے کی ضرورت ہو اور وہ چاندی ادا کر دے تو اسے اسی وقت ادا کر دینا چاہیے ورنہ قرض کی صورت میں سود بن سکتا ہے۔ بخاری کتاب البیوع

وما روى عبادة بن الصّامت رضي الله عنه قال‏:‏ قال رسول اللّه صلى الله عليه وسلم‏:‏ »الذّهب بالذّهب، والفضّة بالفضّة، والبرّ بالبرّ، والشّعير بالشّعير، والتّمر بالتّمر، والملح بالملح، مثلاً بمثلٍ، سواءً بسواءٍ، يدًا بيدٍ، فإذا اختلفت هذه الأصناف فبيعوا كيف شئتم إذا كان يداً بيدٍ۔

عبادۃ بن الصامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ سونے کے بدلے سونا،  چاندی کے بدلے چاندی، جو کے بدلے جو، کھجور کے بدلے کھجور، نمک کے بدلے نمک بالکل برابر ہونا چاہیے اور اسی وقت ہاتھوں میں ادا کر دینا چاہیے۔ اگر ان اشیاء میں کوالٹی کا فرق ہو تو پھر اسی وقت ادا کر دینا چاہیے۔  مسلم1587، مولاء امام مالک

وفي حديث أبي هريرة وأبي سعيدٍ الخدريّ »أنّ رسول اللّه صلى الله عليه وسلم بعث أخا بني عديٍّ الأنصاريّ فاستعمله على خيبر، فقدم بتمرٍ جنيبٍ، فقال له رسول اللّه صلى الله عليه وسلم‏:‏ أكلّ تمر خيبر هكذا ‏؟‏ قال‏:‏ لا، واللّه، يا رسول اللّه، إنّا لنشتري الصّاع بالصّاعين من الجمع‏.‏ فقال رسول اللّه صلى الله عليه وسلم‏:‏ لا تفعلوا،ولكن مثلاً بمثلٍ، أو بيعوا هذا واشتروا بثمنه من هذا، وكذلك الميزان‏۔

ابوہریرہ اور سعید الخدری رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے  بنی عدی انصاری کے شخص کو خیبر کے لیے ذمہ دار بنا کر بھیجا تو وہ کھجور لے کر واپس آئیں۔  انہوں نے بعد عمدہ کھجوریں لے کر آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا۔ آپ نے خیبر میں اسی طرح کی کچھ کھجوریں لے لیں؟

انہوں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ! اللہ تعالی کی قسم، میں نے ایسا نہیں کیا بلکہ وہاں سے کچھ اچھی کوالٹی کی کھجوریں خریدیں۔  اس کے لیے میں نے یہ کیا   دوبوریاں جو اچھی کوالٹی کی نہ تھی بیچ کر ایک بوری کی کھجوریں لے لیں جس کی کوالٹی زیادہ اچھی تھی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایسا نہ کیجیے گا بلکہ بدلے کے بدلے اسی کوالٹی کو برابر لیا کریں۔ اگر کوالٹی اچھی نہ ہو تو اسے بیچ کر کیش لے لیا کریں اور پھر اسی کیش سے اچھی کوالٹی کی اشیاء کو خرید لیا کریں۔ مسلم، باب الطعام، 3084

ان  احادیث کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے زمانے کی ایسی ٹرازیکشنز کو منع فرمایا جن میں سود کا خطرہ لگ سکتا ہو۔  انہی احادیث کو اگر آپ انہی کتابوں میں پڑھنا چاہیں تو آپ پڑھ سکتے ہیں۔ ابھی تک حدیث سافٹ ویئر میں ایسا سٹینڈرڈ نمبر نہیں ہوا ہے۔ اس میں میں نے جو نمبر لکھے ہیں، اگر آپ کو وہ حدیث نہ ملے تو آپ اس کے آگے پیچھے چیک کر لیجیے تاکہ آپ کو وہ حدیث مل جائے۔ عین ممکن ہے کہ آپ کے پاس وہی کتاب کسی اور پبلشر کی ہو، تو اس میں نمبر کچھ مختلف ہوں۔

اسلامی بینکنگ اور انشورنس سے متعلق ماڈلز

اس باب میں ہم  اسلامی بینکنگ اور انشورنس سے متعلق اختلافی مسائل کا جائزہ لیں گے۔ اس ضمن میں سب سے پہلا سوال تو یہ ہے کہ کیا اسلامی بینکنگ عملاً ممکن ہے؟ دوسرا سوال اسلامی بینکنگ  کی بعض پراڈکٹس خاص کر لیزنگ اور مرابحہ سے متعلق ہے۔ تیسرا سوال انشورنس کے بارے میں ہے۔  اس میں مختلف اسکالرز نے اس پر کام کیا ہے۔ ہم بغیر کسی تعصب کے ان کا نقطہ نظر اور دلائل پیش کر دیں گے تاکہ اس کی ریسرچ کی تفصیل سامنے آ جائے۔

کیا اسلامی بینکنگ ممکن ہے؟

مغربی قوتوں نے جب مسلم دنیا پر قبضہ کیا تو انہوں نے اپنے مفادات کے تحت اسی سرمایہ دارانہ نظام  کو یہاں بھی فروغ دیا جو کہ یورپ میں رائج تھا۔ اس سرمایہ دارانہ نظام کی بنیاد سود پر تھی۔ جب مسلم ممالک کو آزادی ملی تو یہ نظام جوں کا توں قائم رہا۔ مذہبی حلقوں اور مذہب پر عمل کرنے والے عام لوگوں کی جانب سے یہ مطالبہ پیش ہوا کہ معیشت کو سود سے پاک کیا جائے اور خالص اسلامی اصولوں پر استوار کیا جائے۔ یہ مطالبہ ان ممالک میں خاص اہمیت اختیار کر گیا جو ریاستی سطح پر یہ تسلیم کرتے تھے کہ وہ اسلامی ملک ہیں۔ ان میں سعودی عرب، پاکستان، متحدہ عرب امارات، ایران،  بحرین، سوڈان، اور ملائشیا شامل تھے۔

 اب سوال یہ پیدا ہوا کہ معیشت کو اسلامائز کیسے کیا جائے؟ عام علمائے دین کے لیے اس سوال کا جواب دینا ممکن نہ تھا کیونکہ ان کے نصاب تعلیم میں معاشیات کا مضمون ہی سرے سے نہ پڑھایا جاتا تھا۔ اصلاً یہ ماہرین اکانومسٹس کا کام تھا مگر ان کا مسئلہ یہ تھا کہ یہ عام طور پر علوم دینیہ اور دین کے مزاج سے نابلد تھے۔ اس سوال کا جواب دینے کے لیے ایسے ماہرین کی ضرورت تھی جو ایک طرف جدید معاشی نظریات سے بھی واقف ہوں اور دوسری جانب دین کا گہرا فہم رکھتے ہوں۔

معیشت کو اسلامائز کرنے کے عمل میں سب سے بڑا سوال بلا سود بینکاری کا تھا۔  دین پر عمل کرنے والے افراد کی جانب سے مسلم دنیا میں ایک زبردست ڈیمانڈ پیدا ہوئی کہ وہ بلا سود بینکاری چاہتے ہیں۔ یہ ڈیمانڈ اتنی بڑی تھی کہ اس نے بینکوں کے مالکان کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا  کہ وہ غیر سودی یا اسلامی بینک قائم کریں تاکہ اس ڈیمانڈ کو پورا کیا جا سکے۔ ایک طرف دینی جذبہ اور دوسری جانب  اسلامی بینکوں کی ڈیمانڈ نے اسلامی بینکاری کو جنم دیا۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ اسلامی معاشیات بالخصوص اسلامی بینکنگ پر بہت سا لٹریچر تیار ہو چکا ہے۔

معاشیات دان علما کی اکثریت کا نقطہ نظر یہ ہے کہ اسلامی بینکنگ ممکن ہے اور معیشت کو اسلامائز کرنے کے عمل میں یہ بہت ممد و معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کے ایک اقلیتی گروہ کا نقطہ نظر یہ ہے  کہ بینکنگ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایسی چیز ہے جسے اسلامائز کرنا ممکن نہیں ہے۔

اسلامی بینکنگ کو ناممکن قرار دینے والوں کے دلائل

اسلامی بینکنگ کو ناممکن قرار دینے والوں کا نقطہ نظر یہ ہے  کہ جیسے سود، بدکاری، عصمت فروشی، قتل وغیرہ کو کسی بھی صورت میں اسلامائز نہیں کیا جا سکتا ہے، ویسے ہی بینکنگ کو اسلامائز کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بینکنگ اپنی اصل کے اعتبار  سے ہی ایسا ادارہ ہے جو غریبوں کا خون چوس چوس کر امیروں کی تجوریاں بھرتا ہے۔ اپنے نقطہ نظر کے حق میں وہ بینکاری نظام کے پراسس کو بطوردلیل پیش کرتے ہیں۔

کسی معاشرے میں بے شمار افراد ایسے ہوتے ہیں جو اپنی آمدنی میں سے تھوڑی تھوڑی رقم بچا لیتے ہیں۔ ان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کی رقم محفوظ رہے۔ اس کے لیے  انہیں کسی ایسے ادارے کی ضرورت ہوتی ہےجہاں وہ اپنی رقم کو محفوظ طریقے پر رکھ سکیں۔ دوسری جانب اسی معاشرے میں ایسے بہت سے کاروباری افراد ہوتے ہیں جنہیں کاروبار کے لیے سرمایہ درکار ہوتا ہے مگر مختلف وجوہات کی بنیاد پر ان کے پاس موجود سرمایہ کافی نہیں ہوتا۔ انہیں اپنے کاروبار کو وسعت دینے کے لیے مزید سرمایہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان دونوں طبقات کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے بینک کا ادارہ وجود میں آیا، جو ایک جانب عام لوگوں کی تھوڑی تھوڑی  بچت کو اپنے پاس رکھتا ہے اور دوسری جانب یہی تھوڑی تھوڑی بچتیں جب مل کر بہت بڑی رقم میں تبدیل ہو جاتی ہیں تو انہیں کاروباری افراد کو ان کے سرمایے کی ضروریات پوری کرنے کے لیے دے دیتا ہے۔

اس لین دین کی بنیاد سود پر ہے۔ بینک جن کاروباری افراد کو سرمایہ فراہم کرتا ہے، وہ ان سے سود وصول کرتا ہے اور اسی سود کا کچھ حصہ ان عام لوگوں میں تقسیم کر دیتا ہے جنہوں نے اپنی بچتیں بینک کے پاس رکھی ہوتی ہیں۔ فرض کیجیے کہ اگر بینک کاروباری افراد سے 10 فیصد سالانہ سود وصول کرتا ہے  تو اس میں سے 6 فیصد وہ اپنے ڈیپازٹ ہولڈرز کو دے کر بقیہ 4 فیصد اپنے پاس رکھ لیتا ہے۔ اس رقم سے بینک اپنے اخراجات پورے کرتا ہے اور اس کے بعد جو رقم بچتی ہے، وہ بینک کے مالکان کا منافع ہوتی ہے۔

اس صورت کا عملی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک متوسط طبقے کا شخص اگر بڑی مشکل 1000 ڈالر بچا کر بینک میں رکھتا ہے تو اسے اس کے عوض چھ فیصد سالانہ کے حساب سے سال گزرنے کے بعد مشکل سے 60 ڈالر ملتے ہیں جو ماہانہ محض پانچ ڈالر کی معمولی سی رقم ہوتی ہے۔ دوسری جانب کاروباری افراد، جو پہلے ہی امیر ہوتے ہیں، اس کی رقم سے کاروبار کر کے بسا اوقات 50-60 فیصد منافع کماتے ہیں اور تھوڑی سی رقم بطور سود ادا کر کے بقیہ منافع اپنی جیب میں لے جاتے ہیں۔  یہ منافع کروڑوں اربوں میں ہوتا ہے۔  اس رقم کا تھوڑا سا جو حصہ وہ ڈیپازٹ ہولڈرز عام لوگوں کو بطور سود دے دیتے ہیں اور پھر اس رقم کو بھی اپنی اشیاء کی قیمت میں شامل کر کے عام لوگوں سے وصول کر لیتے ہیں۔ اس طریقے سے امیر لوگ دوسروں کے پیسے پر اپنی دولت میں اضافہ کرتے چلے جاتے ہیں جبکہ عام آدمی کو سرے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا ہے۔

دوسری جانب بینک چونکہ بہت بڑے پیمانے پر کام کر رہا ہوتا ہے، اس وجہ سے اس کا منافع بھی بہت زیادہ ہوتا ہے۔ فرض کیجیے کہ اگر بینک کے پاس 10,000,000,000 ڈالر بطور ڈیپازٹ موجود ہیں تو وہ اس پر چار فیصد سالانہ کے حساب سے 400,000,000 ڈالر وصول کرے گا  اور اپنے اخراجات کو منہا کرنے کے بعد بھی کروڑوں ڈالر بینک کے مالک کی جیب میں جائیں گے۔ اس طریقے سے یہ واضح ہے کہ بینک کے مالکان اور کاروباری طبقہ اس  لین دین سے امیر سے امیر تر اور امیر تر سے امیر ترین ہوتے چلے جاتے ہیں جبکہ ایک عام غریب یا متوسط آدمی وہیں رہتا ہے جہاں پر وہ پہلےسے موجود ہوتا ہے بلکہ افراط زر انفلیشن کی وجہ سے اس کی اصل رقم سکڑتی چلی جاتی ہے اور وہ حقیقتاً غریب سے غریب تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ سود کے ذریعے اسے جو کچھ ملتا ہے، اسے امیر کاروباری حضرات  اپنی اشیاء کی قیمتوں میں شامل کر دیتے ہیں۔ اس طرح یہ رقم بھی واپس انہی کی طرف چلی جاتی ہے۔

بینک کا یہ اصول ہے کہ وہ کبھی کسی غریب آدمی کو کاروبار کے لیے قرض نہیں دیتا بلکہ یہ قرض انہی افراد کو دیتا ہے جن سے واپسی کی امید ہو۔  اس کے لیے بینک یہ دیکھتا ہے کہ وہ جس شخص کو قرض دے رہا ہے، اس کی مالی حیثیت کیا ہے؟ کیا اس کے پاس کچھ ایسے ایسٹس موجود ہیں جنہیں وہ بینک کے پاس گروی رکھ سکے؟ اس طرح سے اس لین دین کا کوئی فائدہ کسی غریب شخص کو نہیں ہوتا ہے بلکہ سب کا سب فائدہ صرف امیر طبقے ہی کو ہوتا ہے۔ جو شخص جتنا امیر ہوتا ہے، وہ اتنی ہی آسانی سے بینک سے قرض حاصل کر لیتا ہے اور اس کو سود بھی کم شرح سے ادا کرنا پڑتا ہے۔ غریب یا متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے کسی شخص کو اول تو  بینک سے قرض ملتا نہیں اور اگر ملتا ہے تو اس کی شرح سود اور زیادہ ہوا کرتی ہے۔

دنیا کے مختلف بینکوں کے اعداد و شمار کو دیکھ کر یہ واضح ہوتا ہے کہ بینکوں کے قرضوں کا 95% حصہ انہی افراد کو دیا جاتا ہے جو کہ مالی طور پر پہلے  ہی مضبوط ہیں۔ ایک ماہر معیشت کلارک کے الفاظ میں بینک سے 50,000 ڈالر کی بجائے 5,000,000 ڈالر بطور قرض لینا آسان ہوتا ہے کیونکہ بینک اسی پارٹی کو قرض دیتا ہے جو کہ پہلے ہی مالی اعتبار سے مضبوط ہوتی ہے۔ اگر بینک کبھی متوسط طبقے کو مائیکرو فائنانس کی صورت میں قرض دیتا بھی ہے  تو اس پر شرح سود  بہت زیادہ ہوتی ہے۔ متوسط طبقے کو دیے گئے قرضوں پر شرح سود بسا اوقات 35% سالانہ سے بھی زائد  ہوتی ہے جبکہ امراء کو دیے گئے قرضوں کی شرح  سود  کبھی بھی 12-13% سے زائد نہیں ہوتی ہے۔ اس طرح سے بینک کو ان متوسط افراد سے ڈیفالٹ کا جو خطرہ ہوتا ہے، وہ  اس نقصان کو انہی سے پورا کرتا ہے۔ گویا کنویں کی مٹی سے ہی کنویں کو بھر دیا جاتا ہے۔

اس تفصیل کی بنیاد پر اسلامی معیشت کے ان ماہرین کا کہنا یہ ہے کہ بینک کبھی اسلامائز نہیں ہو سکتا ہے اور اس معاملے میں اسلامی بینک کہلانے والے بینک بھی کچھ مختلف نتائج پیدا نہیں کرتے ہیں۔ یہ بینک بھی غریبوں کی دولت کو چند ہاتھوں میں مرتکز کرنے کا کام کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر خالد ظہیر  لکھتے ہیں۔

روایتی بینکنگ اسلام کے لیے بہت سی وجوہات کی بنیاد پر ناقابل قبول ہے۔ اس کی وجہ صرف یہی نہیں ہے کہ ان کے آپریشنز کا بنیادی حصہ سود ہے۔ چونکہ اسلام روایتی بینکنگ کو مسترد کرتا ہے، اس وجہ سے بہت سے مسلمانوں کے طرف سے  بلا سود بینکاری  کی صورت میں ایک پرجوش رد عمل پیش کیا گیا۔  چونکہ اس رد عمل کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ قانونی  تعریف کے مطابق سود کو ختم کر دیا جائے [یعنی سود حقیقتاً موجود ہو مگر قانونی حیلے اختیار کر کے اس کا نام بدل دیا جائے،]  اس وجہ سے یہ کمرشل بینکوں کی اصلاح کے عمل میں بینکنگ کے حقیقی مفاسد کو ختم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ زیادہ سے زیادہ سے کہا جا سکتا ہے کہ [قانونی تعریف کے مطابق] سود جزوی طور پر ختم ہو گیا ہے۔

یہ کہا گیا ہے کہ مسلمانوں کے لیے بلا سود بینکاری کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے کیونکہ روایتی بینکنگ کے خاتمے سے جو خلا پیدا ہو گا، اسے پر کرنا ناممکن کام ہو گا۔ یہ دعوی کم از کم تھیوری میں پیش کیے گئے ماڈلز کی حد تک غلط ہے۔

اس نقطہ نظر کے حاملین کا کہنا یہ ہے کہ مسلم ماہرین معیشت کو بلا سود بینکاری نہیں بلکہ بلا بینکاری معیشت کے ماڈل تیار کرنے پر کام کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر خالد ظہیر نے اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے میں  ایسا ہی ایک ماڈل پیش کیا ہے۔

Share.