ڈپریشن کیا ہے . آج کا آرٹیکل مولانا طارق جمیل صاحب کے بیٹے عاصم جمیل کے نام انا للہ وانا الیہ راجعون آج تلمبہ میں میرے بیٹے عاصم جمیل کا انتقال ہوگیا ہے. اس حادثاتی  موت نے ماحول کو سوگوار بنا دیا۔ آپ سب سے گزارش ہے کہ اس غم کے موقع پر ہمیں اپنی دعاؤں میں یاد

رکھیں. اللہ میرے فرزند کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔

میاں چنوں کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) محمد سلیم نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ عاصم کو تلمبہ رورل ہیلتھ سنٹر لے جایا گیا، جہاں اسے مردہ قرار دے دیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ لاش کو صحت مرکز سے خاندان کے گھر منتقل کیا جا رہا ہے۔

پنجاب پولیس کے ترجمان کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ موت کی وجہ “بندوق کی گولی” لگتی ہے۔

ڈان ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے، ملتان کے ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) سہیل چوہدری نے کہا کہ عاصم نے اپنے گھر کے ایک جمنازیم میں “خود کو سینے میں گولی مار لی”۔ آر پی او نے کہا کہ خاندان کے مطابق عاصم نے خودکشی کی ہے۔

چوہدری نے مزید کہا کہ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی ہے جس میں “اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ وہ خود کو سینے میں گولی مارتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے”۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم فوٹیج فرانزک تجزیہ کے لیے بھیج رہے ہیں۔

دریں اثنا، پنجاب پولیس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) ڈاکٹر عثمان انور نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آر پی او ملتان سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

آئی جی پی انور نے کہا کہ موت کی حتمی وجہ کا تعین “شواہد اور فرانزک رپورٹ کی روشنی میں کیا جائے”۔

پولیس کے بیان میں مزید کہا گیا کہ خانیوال ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اور دیگر اعلیٰ اہلکار جائے وقوعہ پر موجود تھے اور شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں۔

سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے سوگوار خاندان سے تعزیت اور یکجہتی کا اظہار کیا۔اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کا معروف عالم دین مولانا طارق جمیل کے فرزند کے انتقال پر اظہار تعزیت اسپیکر کا مولانا طارق جمیل کے فرزند کے انتقال پر دلی رنج کا اظہار. اسپیکر کی مرحوم کے درجات کی بلندی کے لیے دعا. اسپیکر نے کہا کہ اس دکھ کی گھڑی میں وہ مرحوم کے اہلخانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ اللہ تعالیٰ مولانا طارق جمیل اور اہلخانہ کو اس مشکل گھڑی میں صبروجمیل عطا فرمائیں.

@appcsocialmedia 

ڈپریشن: ڈپریشن کیا ہے
ڈپریشن ایک ایسا خطرناک مرض ہے۔ جو نہ صرف آپ کی جسمانی و نفسیاتی صحت کو متاثر کرتا ہے بلکہ یہ آپ کے سونے جاگنے، کھانے پینے حتیٰ کہ سوچنے تک پر اثر انداز ہوتا ہے۔

آج کے زمانے میں یہ مرض اس قدر عام ہو چکا ہے کہ شاید ہی دنیا کا کوئی شخص اس سے محفوظ بچا ہو۔ مردوں کے مقابلے میں خواتین اس مرض میں زیادہ مبتلا ہوتی ہیں۔

معاشرے کے بڑھتے ہوئے مسائل ،کم آمدنی اور زائد اخراجات، گھریلو پریشانیاں اور ملک کے بگڑتے ہوئے حالات نے انسان کو ڈپریشن کا شکار بنا دیا ہے۔ہر روز ہمیں کسی نہ کسی ایسی صورت حال سے گذرنا پڑتا ہے جس سے ہم مزید الجھنوں، ذہنی اور جسمانی بیماریوں میں مبتلا ہوتے چلے جا رہے ہیں۔

ڈپریشن کی وجوہات
محبت یا کسی مقصد میں ناکامی، گھریلو لڑائی جھگڑے اور بے روزگاری جیسے مسائل انسان کو ڈپریشن کی طرف لے جاتے ہیں۔
بہت زیادہ ذہنی دباؤ یا جسمانی تھکن میں جب انسان بالکل تنہا ہو توایسی صورت میں ڈپریشن کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
بعض افراد انتہائی حساس ہوتے ہیں، اس لیے چھوٹی چھوٹی باتوں کو خود پرحاوی کرلیتے ہیں۔ اور اپنا دھیان بٹانے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ ایک ہی بات کو باربارسوچتےچلے جاتے ہیں۔جس کی وجہ سے ان کی ٹینشن بڑھتی ہی چلی جاتی ہے۔
زیادہ تر لوگ اپنے دل کی باتیں دل میں رکھتے ہیں،اور دل ہی دل میں کڑھتے رہتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کی سوچیں مزید الجھ کر ان کو ڈپریشن کا مریض بنا دیتی ہیں۔
کسی قریبی عزیز کے انتقال، کسی اپنے کی طلاق یا بے روزگاری کی صورت میں کچھ عرصہ اداس رہنا فطری عمل ہے مگر بعض افراد اس اداسی سے باہر نکل نہیں پاتے جس کی وجہ سے وہ ڈپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں۔

Share.