کائنات میں موجود تمام اشیاء خواہ وہ جزولاتجزاء کی حیثیت رکھتی ہوں۔۔۔۔۔۔ان کی حیثیت روحانی ہو یا وہ خارجی حالات میں شکل و صورت میں ظاہر ہوں۔ سب اللہ تعالیٰ کے ارادے کا عکس ہے۔ یعنی ساری کائنات اللہ تعالیٰ کے ارادے کی شکل و صورت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ذہن میں کائنات اور کائنات کے اندر موجودات کی تصویر اور ان تصویروں کی ضروریات جس طرح موجود تھیں وہ اللہ تعالیٰ کے ارادے کے ساتھ تخلیق ہو گئیں۔

تخلیق کے دو رُخ ہیں۔ ایک رُخ ظاہری شکل و صورت اور ایک رُخ وہ جس نے اس ظاہری شکل و صورت کو ترتیب دیا ہے۔ اس بات کو اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں اس طرح فرماتے ہیں۔۔۔۔۔۔ہم نے ماں کے پیٹ میں ایک تصویر بنائی جس تصویر کا بظاہر پہلے سے وجود نہ تھا اور نہ ہی اس تصویر کے بارے میں مخلوق کو کوئی علم تھا، رحم مادر میں جب یہ تصویر کشی کی گئی تو ایسی حرکت واقع ہوئی کہ جس حرکت کو ہم ظاہری آنکھ سے نہیں دیکھ سکتے۔ اس حرکت میں دراصل اللہ تعالیٰ کی وہ صفت کام کر رہی ہے جو”امر ربی’’ کے بعد شکل و صورت بن گئی۔ سب جانتے ہیں کہ گوشت پوست کا لوتھڑا جب شکل و صورت اختیار کرلیتا ہے اور اس کے اند رآنکھ ناک کان دماغ بن جاتا ہے تو وہ سنتا بھی ہے، بولتا بھی ہے ، دیکھتا بھی ہے اور محسوس بھی کرتا ہے۔ ان تمام محسوسات کے ساتھ وہ پیدا ہوتا ہے۔ پیدا ہونے کے بعد ایک ضابطہ ایک قانون کے ساتھ اس کی نشوونما ہوتی رہتی ہے اور یہ نشوونما اسے اس مقام پر پہنچا  دیتی ہے جہاں فرد کوبا شعور اور باعقل کہا جاتا ہے۔

“اللہ تعالی فرماتے ہیں: میں ایک  چھپا ہوا خزانہ تھا،میں نے چاہا کہ میں پہچاناجاؤں ( تو اپنی پہچان کرانے کے لیے) میں نے مخلوق کو پیدا کیا ، (چنانچہ جب مخلوق کو پیدا کیا)تو انہوں نے  مجھے پہچان لیا”۔ 

مذکورہ الفاظ کو بعض صوفیاء،  حدیثِ قدسی کے طورپر ذکر کرتے ہیں ، جب کہ ان الفاظ کی کوئی بھی سند نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے، لہذا  جب تک کوئی معتبر سند نہ مل جائے تو نبی کریم صلی  اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کرکےحدیثِ قدسی کے طور پر بیان  کرنے سے احتراز  لازم ہے ۔

البتہ اس کے مضمون سے مخلوق  کا مقصدِ تخلیق  یعنی معرفتِ خداوندی معلوم  ہوتا  ہے،   وہ قرآنِ کریم میں سوره الذ اريات کی  آيت” وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ سے ثابت ہے، چنانچہ حضرت  مجاہد  رحمہ اللہ نے” لِيَعْبُدُونِ”  کی تفسیر “ليَعرِفُوني” کی ہے ، یعنی  اللہ تعالی  نے انسان اور جنات کے پیدا کرنے کا مقصد بیان فرمایا ہے کہ میں نے انسان اور جنات کو اپنی معرفت کے لیے پیدا کیا ہے۔

المقاصد الحسنة  میں ہے:

“حديث: كُنْتُ كَنْزًا لا أُعْرَفُ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أُعْرَفَ فَخَلَقْتُ خَلْقًا، فَعَرَّفْتُهُمْ بِي فَعَرَفُونِي ، قال ابن تيمية: إنه ليس من كلام النبي صلى الله عليه وسلم، ولا يعرف له سند صحيح ولا ضعيف، وتبعه الزركشي وشيخنا”. 

(الباب الأول، حرف الكاف، ص:521، رقم: 838، ط: دار الكتاب العربي – بيروت)

کشف الخفاء ومزیل الإلباس میں ہے:

“والمشهور على الألسنة: كُنْتُ كَنْزًا لا أُعْرَفُ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أُعْرَفَ فَخَلَقْتُ خَلْقًا، فبه عرفُونِي”.

(حرف الكاف، ج:2، ص:132،رقم: 2016 ط:مكتبة القدسي – القاهرة)

فتح القدیر للشوکاني میں ہے:

​”(وما خلقتُ الجنّ والإنس إلاّ ليعبدون ) … وقال مجاهد : إن المعنى : إلاّ ليعرفوني. قال الثعلبي : وهذا قولٌ حسنٌ؛ لأنه لو لم يخلقْهم لما عرف وجودُه وتوحيدُه” .

(سورة الذاريات، ج:5، ص:110، ط: دار ابن كثير)

لیکن ساتھ ہی یہ بات بھی ہمارے سامنے ہے کہ باشعور آدمی جب مر جاتا ہے تو اس کے باوجود کہ آنکھ ناک کان اور دماغ سب کچھ موجود ہیں لیکن وہ نہ دیکھتا ہے، نہ سنتا ہے، نہ محسوس کرتا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ گوشت پوست کا جسم کسی کے تابع ہے۔ حرکت کا تصویر کے ساتھ یہ تعلق ہی دراصل مخلوق کو شکل و صورت عطا کرتا ہے۔ دوسری بات جو نوعِ انسانی کے تجربے میں ہے یہ ہے کہ نوعِ انسانی کا ہر فرد اپنا الگ الگ ادراک رکھتا ہے۔ الگ الگ ادراک ہی اس تصویر کو جسے اللہ تعالیٰ نے ماں کے پیٹ میں بنایا ہے دوسرے کی شناخت اور پہچان کا ذریعہ ہے۔

وحدت اور کثرت کے تذکرے میں یہ بات بتائی جا چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے مخلوق کا ایک رشتہ قائم ہے۔ اس رشتے میں چار حالتیں ایسی ہیں کہ مخلوق اور خالق کا براہ راست رشتہ قائم نہیں ہوتا۔ صرف ایک رشتہ ایسا ہے جو خالق اور مخلوق کے درمیان براہ راست قائم ہے۔ مخلوق اس رشتے کو تسلیم کرے یا نہ کرے لیکن رشتہ اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔ رشتہ کی تعریف یہ ہے کہ بندہ اپنی انفرادیت قائم رکھنے کے لئے کسی ہستی کا محتاج ہے۔ کسی ہستی کا محتاج ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ میرے علاوہ بھی کوئی ہستی ہے جو پہچان کا ذریعہ ہے اور یہی پہچان ہمیں اپنے علاوہ دوسری چیزوں کا ادراک عطا کرتی ہے۔

پہچاننے کے دو طریقے ہیں۔ ایک طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنے علاوہ کسی دوسرے آدمی کو دیکھتے ہیں۔ پہلے خود کو جسمانی خدوخال کے ساتھ فہم و ادراک کے ساتھ پہچانتے ہیں۔ ساتھ ہی اپنے سامنے دوسرے شخص یا دوسری مخلوق کو پہچانتے ہیں۔

دوسری طرز میں پہچاننا یا جاننا اس طرح ہے کہ ذہن میں یا انسان کے باطنی رُخ میں اللہ تعالیٰ کے ارادے کی تمام تصویریں محفوظ ہیں۔ ظاہری وجود میں جب کوئی شکل و صورت ہمارے سامنے آتی ہے تو ہم اسے شناخت کر لیتے ہیں۔ اس طرح جب باطنی طور پر کوئی تصویر ہمارے سامنے آتی ہے تو ہم اسے باطنی طور پر پہچان لیتے ہیں۔ یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ ہر ظاہر رُخ باطن کا عکس ہے۔ جب تک کوئی شئے باطنی رُخ کے ساتھ موجود نہیں ہو گی ظاہری شکل و صورت میں نظر نہیں آئے گی یعنی سارا کا سارا ظاہری رُخ باطنی رُخ کا عکس ہے۔

اس بات کو بہت غور سے سمجھا جائے کہ جب اللہ تعالیٰ نے”ہوجا’’ کہا تو اللہ تعالیٰ کے ذہن میں کائنات جس طرح موجود تھی اپنی صفات کے ساتھ موجود ہو گئی۔ یعنی آدمی کی     رُوح بھی وجود میں آ گئی۔ یعنی پوری کائنات کا یکجائی پروگرام تخلیق ہو گیا اور یہ تخلیق اللہ تعالیٰ کے ذہن سے منتقل ہوئی ہے اللہ تعالیٰ کے”ہوجا’’ کہنے سے کبوتر فاختہ جنات فرشتے انسان اور زمین و آسمان کے اندر تمام مخلوق موجود ہو گئی۔ انسان جب اللہ تعالیٰ کے ذہن میں موجود تھاتو کبوتر سے بھی واقف تھا۔ فرشتوں سے بھی واقف تھا۔ جنت و دوزخ سے بھی واقف تھا اور جس طرح انسان کبوتر سے فرشتوں سے واقف تھا اسی طرح کبوتر بھی انسان سے واقف تھا۔

‘‘ہوجا’’ کے بعد جب اللہ تعالیٰ کے ذہن میں موجود پروگرام کا مظاہرہ ہوا۔ اس مظاہرے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کی شناخت بھی منتقل ہو گئی۔ انسان جہاں اللہ تعالیٰ کے ذہن میں موجود تھا وہ جزو لا یجزاء یا باطنی رُخ ہے۔ کثرت میں چونکہ     رُوح کی عکاسی ہو رہی ہے اس لئے کثرت کا ہر فرد انفرادی طور پر کثرت سے واقف ہے۔

پوری کائنات یکجائی طور پر لوح محفوظ پر نقش ہے۔ اور لوح محفوظ پر یکجائی پروگرام نقش ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ کائنات کا ہر فرد دوسرے فرد کی شناخت کا ادراک رکھتا ہے۔ یہ باطنی رُخ کا دیکھنا ہوا۔

اب ہم خارجی رُخ میں دیکھنے کی طرزیں بیان کرتے ہیں۔

ہم کسی عمارت کے سامنے کھڑے ہیں جس سمت میں کھڑے ہیں، عمارت کا وہی حصہ ہمارے سامنے ہے۔ ہم جس جگہ کھڑے ہیں اس جگہ سے ہٹ کر کچھ فاصلے پر جا کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ چلنے کے بعد فاصلے پر دوسری جگہ کھڑے ہونے میں نگاہ کا زاویہ بدل جاتا ہے۔ نگاہ کا زاویہ تبدیل ہونے سے عمارت کا دوسرا حصہ ہماری نظروں کے سامنے آ جاتا ہے۔ ہم نگاہ کے اس زاویے کو تبدیل کرنے کے لئے ایسی جگہ کھڑے ہو جاتے ہیں جہاں عمارت کی تین سمتیں ہمارے سامنے آ جاتی ہیں اور ہم عمارت کی تین سمتوں کو دیکھ رہے ہیں۔ زاویۂ نگاہ تبدیل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اسی جگہ کھڑے ہوں جہاں سے عمارت کی تین سمتیں نظر آئیں۔ زاویۂ نگاہ تبدیل کرنے کے لئے ظاہری آنکھ میں ظاہری طور پر مشاہدہ کرنے میں کچھ فاصلہ طے کرنا ہوتا ہے۔ فاصلہ طے کرنے میں زمان و مکان دونوں زیر بحث آ جاتے ہیں۔ دس قدم اٹھا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ کھڑا ہونا مکانیت ہے اور دس قدم اٹھانے میں جتنا وقت صرف ہوا وہ زمانیت ہے۔ مکانیت اور زمانیت میں سفر کرنے سے زاویۂ نگاہ تبدیل ہو جاتا ہے۔ ایک دیکھنا یہ ہے کہ آدمی بنفس نفیس زمین پر چل کر فاصلہ طے کرے۔ فاصلہ طے کرنے میں کچھ وقت لگتا ہے، فاصلہ طے کرنے اور وقت لگنے میں نگاہ کا زاویہ تبدیل ہو جاتا ہے۔ زاویۂ نگاہ تبدیل کرنے کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آدمی ذہن کے اندرونی نقش و نگار پر اپنے تصور کو مرکوز کر دے تو ذہن کے اوپر نقوش کا خاکہ مرتب ہوتا ہے۔ اس خاکے کو دیکھنے کے لئے ٹائم اسپیس کی ضرورت پیش نہیں آتی۔

اس سے دو قانون منکشف ہوئے۔

ایک یہ کہ آدمی جس طرح ظاہری نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ہزاروں میل کی مکانیت اور دنوں اور مہینوں کی زمانیت طے کر کے دیکھتا ہے وہ تصوراتی ماحول میں یا تصوراتی قاعدوں اور ضابطوں کے ساتھ زمانیت اور مکانیت کے بغیر بھی چیز کو دیکھ سکتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ظاہری آنکھوں سے دیکھنے میں تصویر زیادہ روشن اور واضح ہوتی ہے لیکن اگر تصوراتی نگاہ قائم ہو جائے یا تصوراتی نگاہ سے دیکھنا آدمی کا اختیاری ہو جائے تو دھندلا خاکہ بھی روشن اور واضح ہو جاتا ہے۔

دوسرا قانون یہ ہے کہ جب ہم سفر کرتے ہیں تو ہماری نگاہ کا زاویہ تبدیل ہو جاتا ہے۔”ہوجا’’ کے بعد ہم لوح محفوظ سے سفر کر کے”عالم جُو’’ میں آئے تو ہماری نگاہ کا زاویہ تبدیل ہو گیا۔ جیسے جیسے یہ تنزل واقع ہوتا رہتا ہے۔ نگاہ کا زاویہ تبدیل ہوتا رہتا ہے اور انسان یہ بات جان لیتا ہے کہ خارجی حصے میں جو کچھ ہے وہ باطنی احساس کا نقش ہے۔ جیسے جیسے باطنی احساس میں تنزل واقع ہوتا ہے اور زاویۂ نگاہ میں گہرائی پیدا ہوتی ہے چیزیں ٹھوس نظر آتی ہیں۔

Share.