حیات بعد از موت
حیات بعد از موت

حیات بعد از موت: کیا ہم کسی شکل میں ہمیشہ زندہ رہ سکتے ہیں

 مصنف,میکس ٹوبن

عہدہ,بی بی سی ریل

 

حیات بعد از موت انگریزی کی ایک کہاوت ہے کہ ’زندگی میں دو ہی باتیں یقینی ہیں: موت اور ٹیکس‘

حیات بعد از موت انسانیت کے لیے موت کا تصور ہمیشہ سے ہی دلچسپی کا باعث رہا ہے اور اس کی ایک وجہ زندگی کے خاتمے کے بعد ایک نئی زندگی (حیات بعد از موت) سے جڑے خیالات ہیں۔https://webkad.com/

موت کے بعد کی زندگی سے متعلق لگ بھگ تمام مذاہب میں عقائد موجود ہیں جن میں ایک ایسی ناختم ہونے والی زندگی کی تصویر بنتی ہے جہاں انسانی روح ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہے گی۔ یہ تصور انسانی تاریخ کے دوران مختلف اشکال میں پروان چڑھتا رہا ہے۔

لیکن قدرتی زندگی کا خاتمہ اتنا غیر فطری کیوں محسوس ہوتا ہے؟ پیدائش سے بڑھاپے تک کے سفر کی سائنس کیا ہے اور کیا جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ہمیں ایسی کوئی امید مل سکتی ہے کہ ہم اپنی ذات کا کوئی حصہ ہمیشہ کے لیے محفوظ رکھ سکیں؟

اس تحریر کے ذریعے میکس ٹوبن نے موت کے بعد کی زندگی کے سوال کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے۔

قدیم مصر کے اہرام ہوں یا پھر مسیحی دور کی پراسرار تصاویر جن میں دنیا کے خاتمے کی پشین گوئی کی گئی، موت کے بعد کی زندگی کا تصور دنیا میں ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔

ایک حالیہ تحقیق کے مطابق دور جدید کی سیکولر تہذیب میں ایک تہائی کے قریب ایسے لوگ بھی موت کے بعد زندگی کے اس تصور پر یقین رکھتے ہیں جو خدا کی موجودگی سے انکار کرتے ہیں۔

کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ تصور انسانی ارتقا کا نتیجہ ہے۔

موت

،تصویر کا ذریعہ

ایسا ہی ایک مشہور خیال ’ٹیرر مینیجمنٹ تھیوری‘ ہے۔ اس نظریے کے تحت کہا جاتا ہے کہ انسان دیگر حیوانوں کی طرح مرنا نہیں چاہتے۔ تاہم انسانی ارتقا کے دوران ایک وقت ایسا آیا جب انسانی دماغ کے حجم اور پیچیدگی میں اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں آگہی بیدار ہوئی۔

تاہم اس پیش رفت کا ایک نقصان یہ ہوا کہ انسان موت کے تصور سے بھی آشنا ہوا اور پہلی بار وجود کے بحران نے جنم لیا کیوںکہ ایک جانب انسان مرنا نہیں چاہتا تھا لیکن دوسری جانب وہ اس حقیقت سے روشناس ہو چکا تھا کہ موت سے فرار بھی ممکن نہیں۔

اس زمانے میں ایسا کوئی علم یا فلسفہ موجود نہیں تھا جو انسان کو اس مشکل صورتحال سے آزاد کر سکے لہذا ٹیرر مینیجمنٹ تھیوری کے تحت گمان کیا جاتا ہے کہ ہمارے آباؤاجداد نے موت کے بعد کی زندگی کے تصور کو ایجاد کر لیا تاکہ اپنے سہمے ہوئے ذہنوں کو پُرسکون کر سکیں۔

پروفیسر جیس بیرنگ کی تحقیق کے مطابق یہ تصور ’ڈوئلزم‘ کا نتیجہ ہے۔ سنہ 2005 میں پروفیسر جیس کی ٹیم نے ایک تجربہ کیا جس میں بچوں کے ایک گروہ کو پتلی تماشہ دکھایا گیا جہاں ایک مگرمچھ نے ایک چوہے کو کھا لیا۔

بربریت کی اس منظرکشی کے بعد بچوں سے سوال کیا گیا کہ آخر کیا ہوا ہے؟ پروفیسر جیس نے جانچا کہ بچوں نے کہا کہ چوہا مر چکا ہے لیکن اس کی کچھ صلاحیتیں جیسا کہ علم اور جذبات زندہ ہیں تاہم بھوک اور درد جیسی کیفیات باقی نہیں رہیں۔

دلچسپ بات یہ تھی کہ بچوں کے گروہ کے سب سے کم عمر اراکین میں اس گمان کا رجحان زیادہ تھا کہ چوہے نے موت کے بعد کسی قسم کا نفسیاتی تجربہ ضرور کیا ہو گا حالانکہ اس عمر میں مذہبی اور ثقافتی معلومات کم ہوتی ہیں۔

انسان

،تصویر کا ذریعہ

اس تحقیق سے یہ نکتہ بھی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ شاید موت کے بعد کی زندگی کا تصور ہمیں کسی نے سکھایا نہیں ہے بلکہ یہ انسانی نفسیات کا حصہ ہے۔

لیکن ایسے لوگ کیا کریں جن کے لیے یہ تصور کافی نہیں بلکہ وہ کچھ اور جاننا چاہتے ہیں؟

مصنوعی ذہانت کے میدان میں رونما ہونے والی نئی پیش رفت نے سائنس دانوں کی توجہ ابدیت کے ایک نئے ماڈل کی جانب مبذول کروائی ہے۔

’مائنڈ اپ لوڈنگ‘ ایسی ہی ایک مجوزہ ٹیکنالوجی ہے جس کے ذریعے انسانی دماغ کو ڈیجیٹل کلاؤڈ پر منتقل کیا جا سکے گا۔ یعنی ایک ایسی ناختم ہونے والی زندگی کا وجود جو ورچوئل ہو گی۔

ڈاکٹر مائیکل شریمر کا کہنا ہے کہ سائنس میں ایک دعویٰ یہ ہے کہ انسان کی ایک شکل وہ ہے جو معلومات کی صورت میں زندہ رہتی ہے جیسا کہ انسانی یادداشت اور خیالات کا جینوم جسے ’کنیکٹوم‘ کہتے ہیں۔

ڈاکٹر مائیکل کہتے ہیں کہ مائنڈ اپ لوڈنگ نظریے کے تحت ایک سکینر کے ذریعے دماغ کے اس حصے کا سکین کیا جا سکے گا اور ’یہ فائل کلاؤڈ پر اپ لوڈ کی جائے گی تو اس کے ساتھ ہی آپ کی شخصیت کا ایک حصہ بھی محفوظ ہو جائے گا۔‘

’یعنی بنیادی تصور یہی ہے کہ آپ ہمیشہ کے لیے زندہ رہ سکیں گے۔‘

انسان

،تصویر کا ذریعہ

آپ کو یاد دلا دیں کہ اس وقت یہ ٹیکنالوجی ایک خواب سے زیادہ نہیں۔ تاہم اگر ہم فرض کر لیتے ہیں کہ مستقبل میں ایسا ممکن ہو سکے گا تو کیا یہی وہ موت کے بعد کی زندگی ہے جو انسان چاہتا ہے؟

ڈاکٹر مائیکل کہتے ہیں کہ ایسا نہیں، کیوںکہ ہر انسان کے نزدیک یہ ایک مختلف تصور ہے۔

’اصل بات یہ ہے کہ آپ کے خیال میں آپ کی شخصیت کیا ہے۔ کچھ لوگ کہیں گے کہ یہ تو ایک کاپی ہے اور اس سے زیادہ کچھ نہیں کیوںکہ اصل زندگی تو وہ ہے جو ہم لمحہ بہ لمحہ جیتے ہیں۔‘

اس کا مطلب یہ ہوا کہ موت زندگی کے تسلسل میں ایک مستقل ٹھہراؤ کا نام ہے۔

لیکن یہاں ایک اور اہم سوال پیدا ہوتا ہے؟ کیا موت کے بعد کی زندگی اچھی چیز ہے یا نہیں؟

پروفیسر لیون کاس کا کہنا ہے کہ فانی ہونے کا ادراک اپنے ساتھ کئی فوائد بھی لاتا ہے۔ ’جب ہمیں یہ معلوم ہو کہ ہمارے پاس محدود وقت ہے تو ہم ناصرف اپنے تجربات کو بہتر طور پر استعمال کر سکتے ہیں بلکہ ہم کوشش کرتے ہیں کہ ہم چیزوں میں بہتری لے کر آئیں۔‘

سٹینلے ہوارواس نامی تھیولیجن کا ماننا ہے کہ ’محبت صرف موت کی وجہ سے بامعنی ہوتی ہے۔‘

شاید زندگی کی اصل خوبصورتی کا احساس بھی موت کی وجہ سے ہی کیا جا سکتا ہے؟

انسان

،تصویر کا ذریعہ

ڈاکٹر مائیکل کا کہنا ہے کہ ’جب یہ علم ہو کہ سفر کو ختم ہونا ہے تو اسی کی وجہ سے سفر معنی خیز ہو جاتا ہے۔ تو اس سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ زندگی کا مقصد کیا ہے؟ زندگی کا مقصد ہر دن کو پوری طرح جینا اور اسے بامقصد بنانا ہے۔‘

ڈاکٹر مائیکل کہتے ہیں کہ ’تھرموڈائنیکس کا دوسرا قانون ’اینٹروپی‘ زندگی کا پہلا قانون ہے یعنی کائنات کے انتشار میں سے کسی قسم کا استحکام پیدا کرنا۔‘

’ایک مقصد ہونا، دوستوں کا ہونا، خاندان، تعلقات ہونا، یہ تمام چیزیں بہت فرق ڈالتی ہیں۔ اور زیادہ کی ضرورت کیوں ہے؟ یہ کیوں ضروری ہے کہ یہ سب ہمیشہ ایسے ہی چلتا رہے؟ یا پھر یہ کہ یہ سب ایسے ہی کسی اور مقام پر ہو؟‘

’کیوں نا ہم اس کا مزہ لیں، آج میں رہ کر، ابھی۔۔۔ لمحہ موجود میں جی کر۔

Share.